Image

ایسپرین آنتوں کے سرطان روکنے میں مفید ثابت

 ایک سو سال سے زائد عرصے سے استعمال ہونے والے جادوئی دوا ایسپرین کا ایک اور فائدہ سامنے آیا ہے کہ یہ بڑی آنت کے سرطان کے خاتمے میں اہم کردار اداکرسکتی ہے۔

ایسپرین کینسر خلیات (سیل) کو بڑھنے سے روکتی ہے اور انہیں قدرتی طور پر اس عمل کی جانب دوبارہ دھکیلتی ہے جسے سیل ڈیتھ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی خلیہ اس عمل سے باہر ہوجائے تو بے ہنگم انداز میں رسولی بن جاتے ہیں اور سرطان کو بڑھاتے ہیں۔

اس عمل میں ایسپرین کا استعمال بالخصوص معدے اور آنتوں کے سرطان میں نہایت مثبت دیکھا گیا ہے جو سرطانی خلیات کے پھیلاؤ کو بھی روک سکتی ہے۔

جامعہ کیلیفورنیا سے وابستہ عوامی صحت کے ماہر ڈاکٹر ڈومینک ووڈرز نے کہا ہے کہ ’ایسپرین سرطانی خلیات کے ارتقا کو روکتی ہے اور انہیں کی شرح پیدائش اور موت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک جانب یہ خلوی موت کو بڑھاتی ہے تو دوسری جانب سرطانی رسولیوں کو پھیلنے سے بھی روکتی ہے۔

تحقیق سے وابستہ ایک اور سائنسدان، نتالیہ کوماروفا کہتی ہیں کہ ایسپرین شاید ڈارون کے نظریہ ارتقا کی عین روشنی میں کام کرتے ہوئے سرطانی خلیات کو بدن کے لیے ناموزوں اور نقصاندہ بننے سے روکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالخصوص بڑی آنت کے سرطان کی رفتار سست ہوجاتی ہے جبکہ ابتداسے ہی خلیے کو سرطانی روپ بدلنے سے بھی باز رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسپرین کا کردار بہت دلچسپ ہے۔

اس ضمن میں جینیاتی کیفیت کے شکار کئی افراد کو بھرتی کیا گیا جو لنچ سنڈروم کے تحت کئی اقسام کے سرطان میں مبتلا ہوسکتے تھے۔ انہیں دوگروہوں میں بانٹ کر ایک کو دو برس تک روزانہ 600 ملی گرام ایسپرین دی گئی تو دو سال بعد معلوم ہوا کہ اس سے خصوصاً بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ 63 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ دیگر شواہد اور تحقیقات بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم اس سے ایسپرین کے دیگر فوائد میں سے ایک اور فائدہ کا اضافہ ضرور ہوا ہے۔