Image

طلباء کو ٹرانسپورٹیشن وظیفے کی فراہمی



گلگت بلتستان میں پہلی بار سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلباطالبات کو سفری اخراجات پورے کرنے کیلئے ٹرانسپورٹیشن وظیفے کی فراہمی شروع کردی گئی ہے ،وزیراعلی خالد خورشید کے اس خصوصی اقدام سے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بیس ہزار سے زائد طلباو طالبات استفادہ کریں گے۔ سرکاری سکولوں کے  ششم سے دہم کلاسز میں زیر تعلیم طلباکو ہزار روپے ماہانہ اور طالبات کو بارہ سو روپے ماہانہ سکول ٹرانسپورٹیشن وظیفے کی مد میں دئے جائیں گے۔ابتدائی طور پر اس منصوبے پر بیس کروڑ سے زائد رقم خرچ ہوگی،ٹرانسپورٹیشن وظیفے کی فراہمی کی افتتاحی تقریب منگل کو گرلز ہائی سکول سکردو میں منعقد ہوئی،صدر عارف علوی تقریب کے مہمان خصوصی تھے،صدر نے بچوں اور بچیوں میں رقم کے چیکس تقسیم کیے۔اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان نے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو درپیش سفری مشکلات کو کم کرنے کیلئے انقلابی منصوبہ شروع کیا ہے۔ عملی زندگی میں کامیابی کیلئے درست فیصلہ سازی لازمی ہے، جو تعلیم کے بغیر ممکن نہیں، دنیا کی جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ بچوں کی تعلیم پورے خاندان کیلئے لازمی ہے، پاکستان میں تعلیم پر توجہ نہ دینے اور وسائل فراہم نہ کرنے کے بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ حکومت گلگت بلتستان چند سال میں ہر بچے کی تعلیم کو یقینی بنائے گی ۔ صدر نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی توجہ دی جائے تاکہ پوری دنیا میں گلگت بلتستان اور پاکستان کامنفرد مقام برقرار رہے۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق گرلز ہائی سکول قائد آباد کو ہایئر سیکنڈری کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا۔ قبل ازیں بلتستان یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا کو باصلاحیت افراد چاہیے اور پاکستان واحد ملک ہے جہاں افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، یہاں زندگی کے ہر شعبہ کیلئے افرادی قوت دستیاب ہے۔ دنیا پاکستان کی افرادی قوت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہے۔ ا نہوں نے سائنس آف کیمونیکشن کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہی لوگ کامیاب ہیں جن کی بول چال مضبوط ہو۔ سائنس آف کیمونیکشن کا تعلق باہمی رابطے سے ہے۔ بلتستان یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ آج آپ کے سامنے ترقی کا ایک دروازہ کھل گیا ہے اور یہ سہولت آپ کو علم کے توسط سے حاصل ہوئی ہے۔ ابھی تو آپ کے سامنے ترقی کی کئی راہیں کھلنی ہیں۔ علم چیزوں کو آسان کرتا ہے۔ البتہ تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت کا عنصر بھی گہرا ہونا چاہیے۔ دریں اثناء زیراعلی خالد خورشید نے کہا ہے کہ ہم صوبائی بجٹ سے گلگت بلتستان میں دو سے تین نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے اور طلبہ کو ان کی دہلیز پر معیاری تعلیم دی جائے گی حکومت علاقے میں پائیدار ترقی اور جدید علوم کے فروغ کیلئے کوشاں ہے حکومت خطے میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے موثر بنیادوں پر کام کررہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ علاقے میں تعلیم سے کوئی بچہ محروم نہ رہے  صوبائی حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے علاقے میں تعلیم کو عام کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کررہی ہے صدر مملکت عارف علوی نے بلتستان یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن میں شرکت کرکے نہ صرف طلبہ کا حوصلہ بڑھایا بلکہ ہماری بھی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کی جس کیلئے ہم ان کے مشکور و ممنون ہیں امیدہے کہ وہ یہاں معیار تعلیم کے فروغ اورنوجوانوں کو فنی تربیت دینے کیلئے ہماری بھرپور مدد کریں گے انہوں نے کہاکہ سرکاری سکولوں کے بچوں کو خصوصی وظائف دئیے جارہے ہیں انہیں ٹرانسپورٹیشن وظیفہ بھی ملے گا یوں انہیں گھر سے تعلیمی اداروں تک پہنچنے کیلئے سفری اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا نہیں پڑیں گے۔انہوں نے کہاکہ بڑی شاہراہوں کی تعمیر کیلئے ہم نیک نیتی کے ساتھ کام کررہے ہیں مگر وفاق اہم شاہراہوں کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے ہم وفاق کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ یہاں کے عوام پر رحم کرے ورنہ یہاں کے لوگ خاموش نہیں رہیں گے بجٹ میں کٹوتی کی وفاق کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مستحق افراد کی مدد کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔طلباء کو ٹرانسپورٹیشن وظیفے کی فراہمی ایک اہم قدم ہے اس سے یقینا والدین کے مسائل میں کمی ہو گی اور خواندگی میں اضافہ ہو گا۔طلباء کو جدید سہولیات فراہم کرنا از حد ضروری ہے لیکن کیا ہمارے پاس ایسے تربیت یافتہ اساتذہ ہیں جو جدید طرز تعلیم کے تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور اپنے مضمون اور موضوع سے انصاف کرتے ہوئے اسے آن لائن مواد کے قالب میں ڈھال سکیں۔ ہوا کے دوش پر اسے جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے طلبا تک پہنچانے کا ہنر بھی جانتے ہوں۔اگر نہیں تو کیا ہمارے اسکول، کالج اور جامعات اس مواد کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت میں خاطر خواہ دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنے وسائل اور وقت کو اس عمل میں خوش دلی سے لگانے کے لئیے تیار ہیں؟کیا ہمارے پاس وہ طلبا ہیں جواس طرز تعلیم کے لئیے آمادہ اور تیار ہوں اور آن لائن کلاسوں کی آزادانہ و چیلنجنگ فضا میں بھرپور طریقے سے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کا ہنر جانتے ہوں۔ اورسب سے بڑھ کریہ کہ کیا ہمارے پاس بلا تعطل وتفریق ملک کے طول وعرض میں بجلی، انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ بشمول کمپیوٹر اور موبائل کی دستیابی کا وہ موثر نظام موجود ہے جواس آن لائن تعلیم کی اولین شرط ہے۔ فی الوقت نہ تو ہمارا انتظامی، تیکنیکی اورابلاغی ڈھانچہ اس جدید طرز تعلیم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نظرآتا ہے، نہ بیشترتعلیمی ادارے اس ضمن میں اپنے اساتذہ اور طلبا کو سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ تیار کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ کورونا کے باعث ہنگامی بنیادوں پر مسلط کردہ آن لائن طریقہ تعلیم روایتی نظام کا چربہ نظر آتی ہیں۔ گھسے پٹے لیکچر، کچھ پرانی، کچھ نئی سلائیڈز، بوسیدہ کتابوں اور فرسودہ نوٹس کی آڑی ترچھی تصاویراور آف لائن کلاسوں کے انداز میں سطر بہ سطر دہرائی اور طویل لیکچر۔ طلبا کو آن لائن کلاسوں سے بد دل کرنے کے لئے کافی ہیں خصوصا اس ماحول میں جب اساتذہ اور طلبا ایک دوسرے کے روبرو بھی نہیں ہوتے ور اطراف میں دل کو لبھانے اور رجھانے کے ان گنت سامان موجود ہیں۔ اس طرز تعلیم میں متعلقہ کورس مع تمام تر مواد بشمول آڈیو، وڈیو لیکچرز، سلائیڈز اور کتابیں طلبا کو ان کی کلاسوں سے پہلے آن لائن فراہم کر دیا جاتا ہے تاکہ ہر طالب علم اپنی سہولت، رفتاراورصلاحیت کے مطابق مختلف موضوعات پڑھ، سمجھ اور برت سکے۔ جبکہ کلاسوں میں وہ ہوم ورک اور پراجیکٹ کرائے جاتے ہیں جوعموما گھرمیں کرنے کے لیے دیے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں فلپڈ کلاس روم کہا جاتا ہے۔ کلاس میں اساتذہ اور ہم جماعتوں کی موجودگی میں ورکنگ اسائنمنٹ کرنا ایک کارآمد طرز تعلیم ہے۔ اس سے جہاں طلبا کو پہلے سے پڑھے گئے مواد کو زیادہ فعال طریقے سے بروئے کار لانے میں آسانی ہوتی ہے، وہاں مقررہ وقت میں محدود وسائل کے ساتھ کتابی اصولوں اورعلم کو عمل میں ڈھالنے کی تربیت بھی ہوتی ہے جو پیشہ وارانہ زندگی کے بنیادی جزو ہیں۔ شہباز شریف نے وزیر اعظم کا عہدے سنبھالتے ہی سکول کے طلبا کو  سفری سہولت فراہم کرنے  کیلئے بڑا اعلان کیا تھا۔ اب طلبا کو رعایتی پاس پر سفر کرنے کا موقع ملے گا،  اورنج ٹرین انتظامیہ طلبا کو مفت یا رعایتی سفری سہولیات مہیا کرنے پر غور کررہی ہے ، اورنج ٹرین بچوں کو اسکول چھوڑنے اور دوبارہ گھر چھوڑنے کیلئے استعمال کی جاسکے گی۔سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے انتظامیہ نے اسکول رہنمائوں سے تجاویز مانگ لیں، اس سلسلے میں اورنج ٹرین انتظامیہ جلد مختلف اسکولوں کے عہدیدران سے میٹنگ کرے گی۔اسکولز فیڈریشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو اورنج ٹرین پر سفرکرنے کیلئے رعایتی پاس جاری کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی دس فیصد کا اعلان کیا ہے ۔یہ ہمارا قومی المیہ ہی ہے کہ دنیا کی چھٹی سب سے بڑی آبادی جوہری توانائی کی حامل واحد مسلم ریاست اورساٹھ فیصد سے زائد نوجوان آبادی کا حامل ملک اب تک تعلیم کے بنیادی مسائل ہی سے نبرد آزما ہے ۔بہترسال گزرنے کے باوجود ہمارے ہاں پچاس فیصد کے لگ بھک ناخواندہ آبادی ہے جسے روزگار کے قابل بنانے کے لئے ہماری حکومت مجموعی قومی پیدا وار کا دوفیصد سے بھی کم تعلیمی بجٹ فراہم کر رہی ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ زمانہ کسی کا انتظا ر نہیں کرتا۔ پاکستان کو نئے دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے دہرے ہدف اور دہری رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طرف ہمیں تعلیم و تر بیت اور تحقیق کی رفتار بڑھانا ہوگی  تو دوسری جانب نئے اقدامات بھی کرناہوں گے ۔