Image

برطانوی پارلیمنٹ کی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم و بربریت کی مذمت

برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم و بربریت کی مذمت اور کشمیری عوام کے حق خورادیت کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے اگلے ہفتے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران برطانوی وزیراعظم بورس جانسن (Boris Johnson) سے یاسین ملک کی رہائی کے لیے ارجنٹ سوال بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح دیگر فورمز پر بھی مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائی جائے گی۔ جبکہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان ٹریڈ ٹاک کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے سے مشروط کیا جائے گا۔ تاکہ بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر کرے اور پھر اس سے برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات پر بات کی جائے گی۔ اسی طرح برطانوی وزیراعظم اور برطانوی وزیر خارجہ سے کہا جائے گاکہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔یہ فیصلے آج یہاں لندن میں صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی طرف سے برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو برطانوی پارلیمنٹ ہاو¿س آف کامنز میں دی گئی بریفنگ کے بعد کیے گئے۔ اس موقع صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر اجلاس سے شیڈو فارن منسٹر و ممبر برطانوی پارلیمنٹ کیتھرین ویسٹ (Catherine West)، لیبر پارٹی کے سابق رہنما و ممبر برطانوی پارلیمنٹ جیرمی کاربین (Jeremy Corbyn)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ اینڈریو جیوائن (Andrew Gywnne)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ راچل ہاپکنز (Rachel Hopkins)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ کیٹی ہولرن (Kate Hollern)، لارڈ قربان (Lord Qurban)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ ناز شاہ (Naz Shah)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ جیک بریرٹن (Jack Brereton)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ خالد محمود (Khalid Mahmood)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ عمران حسین (Imran Hussain) ، ممبر برطانوی پارلیمنٹ محمد یاسین (Mohammad Yasin)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ رحمان چشتی(Rahman chishti)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ طاہر علی (Tahir Ali)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ پال برسٹو(Paul Bristow)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ لائم برن(Liam Byrne)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ تنمن جیت سنگھ ڈیسائی(Tanmanjeet Singh Dhesi)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ زارا سلطانہ (Zara Sultana)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ سپیلٹ روبی مورے (Spelt Robbie Moore)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ جوناتھن گیلس (Jonathan Gullis) ، ممبر برطانوی پارلیمنٹ سٹیو بیکر (Steve Baker)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ جیم شینن(Jim Shannon)، ممبر برطانوی پارلیمنٹ جیمز ڈیلی (James Daly) ، ممبر برطانوی پارلیمنٹ رچرڈ برجیرون (Richard Bergeron) اور دیگر ممبر ان برطانوی پارلیمنٹ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ اگرچہ1947ءکے بعد سے لے کر اب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کر رہا ہے لیکن اب 5اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وہ ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے جس سے وہ مسئلہ کشمیر کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے میں یہاں یورپ اور برطانیہ کے دورے پر آیا ہوں۔ بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو رکوانے اور بھارتی عدالت کی طرف سے حریت رہنماءیاسین ملک اور دیگر قیدیوں کی رہائی کے لیے برطانوی ممبران پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے کہنے پر یاسین ملک کی رہائی کے لیے بنائی گئی ڈیفنس کمیٹی نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو بریفنگ دی اور اس موقع پر یاسین ملک کو بھارتی عدالت کی طرف سے دی جانے والی غیر منصفانہ عمر قید کی سزا کے فیصلے کی کاپیاں بھی ممبران پارلیمنٹ میں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم و بربریت کی مذمت اور کشمیری عوام کے حق خورادیت کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے اگلے ہفتے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران برطانوی وزیراعظم بورس جانسن (Boris Johnson) سے یاسین ملک کی رہائی کے لیے ارجنٹ سوال بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح دیگر فورمز پر بھی مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائی جائے گی۔ جبکہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان ٹریڈ ٹاک کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے سے مشروط کیا جائے گا۔ تاکہ بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر کرے اور پھر اس سے برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات پر بات کی جائے گی۔ اسی طرح برطانوی وزیراعظم اور برطانوی وزیر خارجہ سے کہا جائے گاکہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔