Image

عوام: جائیں تو جائیں کہاں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو مثبت خبر ملنے کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق حکمت عملی کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ان کے یہ ریمارکس ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس اعتراف کے بعد سامنے آئے ہیں کہ پاکستان نے دوعلیحدہ علیحدہ ایکشن پلانز کے تمام 34 نکات کی تکمیل کی ہے۔اگلے مرحلے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے قبل ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے اقدامات کے نفاذ اور پائیداری کی تصدیق کے لیے ملک کا دورہ کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کے تحت مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے اس مثبت راستے کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اچھی خبر پاکستان کی معیشت میں اعتماد بحال کرے گی اور پائیدار ترقی کو راغب کرے گی۔ہم دےکھتے ہےں کہ جب سے حکومت آئی ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے حکومتی خزانے پر بوجھ پڑ رہا تھا اور سبسڈی کی مد میں جتنا پیسہ نکل رہا تھا اس پر پورے ملک کا میڈیا اور ماہر معاشیات کہہ رہے تھے کہ ممکن نہیں کہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے لہذا حکومت جلد فیصلے کیوں نہیں کررہی۔ اگر پاکستان یہ سبسڈی جاری رکھتا ہے اور ہم وسائل فراہم نہیں کر سکتے تو اس کے نتیجے میں آپ دیوالیہ ہو جائیں گے اور نادہندگی کی صورت بن جاتی ہے لیکن جب ہم نے بھاری دل کے ساتھ یہ فیصلے کیے تو ہم مشکور ہیں کہ لوگوں نے بڑے بھاری دل کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے بھی ان چیزوں اور ان فیصلوں کو قبول کیا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیے تھے وہ ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر کہہ رہے تھے کہ تیل کی قیمتیں تےن سو سے بڑھ جائیں گی، سبسڈی ختم کرنا ہو گی اور وہ درست کہہ رہے تھے، قیمتیں اب مزید نہیں بڑھیں گی لیکن انہوں نے جو آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا ہے اس کی تفصیل کے مطابق قیمتیں ان کے مطابق وہ ہونی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کونسی حکومت چاہے گی کہ ہم عوام میں غیرمقبول ہو جائیں لیکن ہمارے پاس آپشنز کیا ہیں، کیا سری لنکا بنا جائے یا اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کو ٹھیک کیا جائے۔ پہلے اسّی لاکھ افراد کو ماہانہ دو ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اب مزید ساٹھ لاکھ گھرانوں کو یہ رقم دی جائے گی، یہ رقم کافی نہیں ہے لیکن جس شخص کی تنخواہ 20ہزار روپے ہے اس کے بجٹ میں اس رقم سے ضرور تھوڑا بہت اثر پڑے گا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ کس شوق ہے کہ عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرے لیکن یہ ہماری حکومت ہے کہ جس نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیاسی نقصان برداشت کر لیں گے لیکن ہم سابقہ حکومت کی طرح پاکستان کا نقصان نہیں کریں گے کہ سستی شہرت کے لیے ہم عوام کو گڑھے میں پھینک دیں۔ تاجر برادری سے استدعا ہے کہ قوم کی عادتیں بدلنے میں ہماری مدد کریں، ہم سب نے مل کر ملک کو چلانا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم فالتو چیزوں کا ضیاع نہ روکیں اور حکومت سے کہیں کہ وہ سب ٹھیک کر لے، دنیا میں کونسی حکومت ہو گی جو ٹھیک کر پائے گی۔قوم کی عادتیں بدلتے ہوئے اگر دو چار دن خریداری کم بھی ہوئی تو وہ گاہک آپ کے ہی پاس آئیں گے، وہ کسی اور شہر نہیں جائیں گے اور آپ نے کووڈ کے دنوں میں چھ بجے مارکیٹیں بند کر کے دیکھا کہ ان مشکل حالات کے باوجود بھی تاجر طبقے کی آمدن میں کمی نہیں ہوئی تھی۔ حکومت پر تنقید آپ کا حق ہے، ہم مشکل فیصلے کررہے ہیں لہذا ہمیں تنقید کا سامنا کرنا ہو گا لیکن ہمیں بھی قومی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے جائز اقدامات کو سپورٹ کیجیے گا تاکہ مل کر اس مشکل کا سامنا کر سکیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت آج کے دور کے مقابلے میں نصف تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے 37 روپے بڑھایا، ہم نے اب جا کر تین مرتبہ بڑھائی ہیں۔ ہماری سیکیورٹی کا اعلی ترین فورم نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ہے جس میں اعلی سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوتی ہے، فوجی سربراہان بھی ہوتے ہیں، اس میں عمران خان کی زیر سربراہی ہونے والے آخری اجلاس میں بھی وہی فیصلہ ہوا جو بعد میں ہوا، ان کی صدارت میں کیا گیا فیصلہ ہمارے دور میں کیے گئے فیصلے سے مختلف نہیں تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بیرونی سازش کے معاملے کی بغیر کسی ابہام کے دو مرتبہ وضاحت کی، اس کے بعد بھی اگر یہ اصرار کرتے رہیں تو ہم کمیشن بھی بٹھا دیں گے تو بھی میں آپ کو شرطیہ بتاتا ہوں کہ یہ کمیشن کا فیصلہ بھی منظور نہیں کرے گی کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ یا تو مجھے حکمرانی دو ورنہ فوج تباہ اور ملک تباہ ہو۔ادھر اکستان اسٹیٹ آئل کے ساٹھ کھرب روپے کے ریکارڈ واجبات کے ساتھ پیٹرولیم ڈویژن نے لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے یکم جولائی سے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل درآمد کرنے کے لیے 19 کھرب 80 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کردی۔جون سے ستمبر کے دوران ہر ماہ بارہ کارگوز ایل این جی درآمد کرنے کا منصوبہ ہے، پی ایس او قطر کے ساتھ ہوئے طویل مدتی معاہدے کے تحت ہر ماہ چھے کارگو درآمد کرے گا جبکہ پی ایل ایل جولائی اور ستمبر میں تےن اور اگست میں ایک کارگو منگائے گا۔ایس این جی پی ایل کا پاور سیکٹر کو یومیہ 720 سے 780 ملین کیوبک فیٹ دینے کا ارادہ ہے جبکہ پی ایل ایل کے الیکٹر کو جولائی سے باسٹھ ایم ایم سی ایف ڈی سے اکتوبر میں 130 ایم ایم سی ایف ڈی براہِ راست دینے کے لیے تیار ہے تا کہ وہ اپنا نیا پاور پلانٹ مکمل گنجائش کے ساتھ چلا سکے۔روس یوکرین تنازع اور بین الاقوامی طلب و رسد کی صورتحال کے باعث ایک اسپاٹ ایل این جی کارگو کی قیمت 15 سے 16 ارب روپے تک جا پہنچی ہے جس کی وجہ سے ایل این جی درآمد کنندگان کو پیسے کی ضرورت بڑھی ہے۔ایل این جی کی درآمد کے ساتھ پی ایس او پاور سیکٹر کی طلب پوری کرنے لیے فرنس آئل بھی درآمد کررہا ہے جس سے اس کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔پی ایس او اور پی ایل ایل نے موسم گرما کے مہینوں میں اپنی لیکویڈیٹی کی ضروریات بتائی ہیں جس کے مطابق پی ایس او کو ایل این جی اور فرنس آئل دونوں کے لیے مجموعی طور پر سترہ کھرب روپے درکار ہیں جس میں جون میں چارکھرب 27 ارب، جولائی میں چارکھرب پنتالےس ارب، اگست میں چارکھرب تےرہ ارب اور ستمبر میں چارکھرب چودہ ارب روپے چاہیے ہوں گے۔ پی ایل یل نے چاہ ماہ کے لیے 2 کھرب 78 ارب روپے مانگے ہیں جس میں 98 ارب روپے رواں ماہ، 44 ارب جولائی میں 80 ارب اگست میں اور 56 ارب روپے ستمبر میں درکار ہوں گے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے ایندھن کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، جس پر پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیے تھے۔ وہ جلد ہی پی ٹی آئی‘آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات پر عوام کو اعتماد میں لیں گے اور ہم ان معاشی مشکلات سے نکل آئیں گے۔شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں حیران ہوں کہ جن لوگوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک کا بدترین معاہدہ کیا اور واضح طور پر غلط معاشی فیصلے کیے ان کا ضمیر سچ کا سامنا کر سکتا ہے۔ وہ لوگ کیسے بے گناہ ہونے کا بہانہ کر سکتے ہیں جبکہ قوم ان کے کیے کی وجہ سے اس چیز سے گزر رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے حکومت کی طرف سے پیٹرول قیمتوں میں اضافہ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جیسے ڈاکو رات کی تاریکی میں گھر میں داخل ہو کر ڈاکا ڈالتے ہیں، اسی طرح امپورٹڈ حکومت رات کی تاریکی میں عوام کی جیب پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا ڈاکا ڈالتی ہے۔سابق وزیر اطلاعات و پی ٹی آئی رہنما چوہدری فواد حسین کے مطابق حکومت کی تبدیلی کی سازش کے کردار بے نقاب ہونے چاہئیں، اب تو کئی منحرف اراکین بھی وعدہ معاف گواہ بن کر کمیشن میں آنے کو تیار ہیں کہ انہیں کیسے تحریک انصاف چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا، سیاسی عدم استحکام نے معیشت کی بخیے ادھیڑ دیں، آج عام آدمی مہنگائی کے ایک عفریت کا سامنا کر رہا ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے، ایک طرف مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت پر مہنگائی کرنے اور بیرونی ملک سازش کا حصہ ہونے کے الزامات عائد کر رہی ہے تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر حکومتی فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ان حالات میں عوام کو محض لالی پاپ دےے جا رہے ہےں۔