Image

مفت لنچ سروس:ایک مثبت اقدام



وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی ہدایات کی روشنی میں حکومت ِ گلگت بلتستان کی جانب سے شروع کیا جانے والا یہ منفرد منصوبہ پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا اولین منصوبہ ہے جس کے تحت25 جون 2022سے تمام سرکاری پرائمری سکولوں میں بچوں کو مفت لنچ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ موسم گرما کی تعطیلات کے فوری بعد اس سہولت کا دائرہ کار پورے گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں تک پھیلایا جائے گا۔ حکومت گلگت بلتستان اس مہم کے تحت ہفتے کے چھ دن غذائیت سے بھرپور خوراک پرائمری سکولز میں زیر تعلیم بچوں کو فراہم کرے گی۔ معیاری اور صحت بخش خوراک کی تیاری اور فراہمی کے لئے مقامی کھانوں کو بھی ترجیح دی جائے گی جس کے ذائقے سے مقامی بچے پہلے سے ہی آشنا ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس سلسلے میں مقامی انڈسٹری سے بھی مدد لی جائے گی۔ اس پروگرام کے حوالے سے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی نے کہا کہ صحت بخش خوراک کی فراہمی کا مقصد نئی نسل خصوصا سکول جانے والے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا ہے تاکہ یہ بچے متوازن غذا کھا کر بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں، اور معاشرے کے کار آمد شہری بن سکیں۔ اس سلسلے میں وقتا فوقتا طلبا کی طبی جانچ بھی کی جائے گی جس کی مدد سے ان کے جسمانی وزن، بینائی اور دیگر طبی عوامل کا جائزہ لیا جائے گا، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ سکولوں میں معیاری غذا کی فراہمی کے زریعے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسی نوجوان نسل تیار ہو جو صحت مند ، جسمانی و ذہنی طور پر توانا ہو تاکہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے بہم تیار ہوں ، صحت مند بچے ہی ہمارے محفوظ اور خوشحال ملک کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے کہا کہ اس خطے کے طلباکو ہر شعبہ ہائے زندگی میں جھنڈے گاڑنے کے لئے تیار کیا جائے گا، حکومتی سرپرستی میں شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں۔طلباء و طالبات کی صحت کے حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کا حالیہ قدم یقینا خوش کن ہے۔نوجوانوں کی تعلیم، ان کے مستقبل، ملازمت وغیرہ سے متعلق تو ہر کوئی فکر مند نظرآتا ہے، مگر روز بہ روز ان میں پھیلتے ہوئے امراض سے متعلق کم ہی بات کی جاتی ہے، حالاں کہ جب تک نسل نو صحت مند نہیں ہوگی، تب تک وہ بہتر طور پر ملک و قوم کی خدمت کرنے کے اہل ہر گز نہیں ہو سکتی۔ صحت ایک بھرپور زندگی بسر کرنے کے لیے لازمی جزو ہے، اگریہی خراب ہو گی، اسے نظر انداز کیا جائے گا، تو زندگی کی خوشیاں ماندپڑ جائیں گی۔جدید دور میں  نوجوانوں کو کھانے ، پینے کا کوئی ہوش ہوتا ہے ، نہ سونے جاگنے کا کوئی وقت مقرر ہے، جس وجہ سے ان کی طبیعت بجھی، بجھی اور چڑچڑی بھی رہتی ہے، ذرا سا کام کرکے تھک جاتے ہیں۔ حالانکہ سہل پسندی ہماری نسل نو کا خاصہ نہیں ہونا چاہیے، ورزش، چہل قدمی ، صحت مند سرگرمیو ں کو معمول کا حصہ بنائیں۔ رات کی نیند کی بہت اہمیت و افادیت ہے، امتحان کی تیاری کے لیے رات، رات بھر جاگنا ضروری نہیں ہے۔ اگرسال کے پہلے ہی دن سے تیاری شروع کردی جائے، تو امتحان کے دنوں میں رات کی نیند خراب کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رات کی نیند سے جسم میں بیماریوں سے بچنے کا مدافعتی نظام بہتر ہوتا ہے۔ مسلسل کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کوتھوڑی تھوڑی دیر بعد چند لمحوں کے لیے آنکھوں کو آرام ضرور دینا چاہیے۔صحت ہے تو سب کچھ ہے۔ ملک وقوم کی خدمت بھی اسی وقت کر سکیں گے ، جب آپ صحت مند ہوں، ورنہ بیمار ، لاغر یا کمزور نوجوان ملک پر سوائے بوجھ کے اور کچھ نہیں۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے صحت مند و تعلیم یافتہ معاشرے کا قیام ناگزیر ہے،صحت اور تعلیم ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو بے جا نہ ہوگا،خاص طور پر جب بات نوجوانوں کی ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نوجوان ہی ملک کی ترقی اور بقا کے ضامن ہوتے ہیں ،وہ ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر انہیں اچھی صحت اور معیاری تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے ،تو یہ ملک کی تقدیر بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں،مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں صحت و تعلیم جیسے اہم ترین شعبے محض کاروبار بن کر رہ گئے ہیںجس کا خمیازہ نوجوان تعلیم کے شعبے میں کچھ اس طرح بھگت رہے ہیںکہ، اپنی زندگی کے کئی سال اور پانی کی طرح پیسہ بہانے کے باوجود بھی ڈگریوں کے حصول کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں یا عدالتوں کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔قدرت نے جہاں پاکستان کو بے شمار نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے،وہیںاس سر زمین کو ذہین دماغ اور بہترین صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں سے بھی نوازا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی تعلیم و صحت پر کبھی دھیان نہیں دیا گیا۔ زرخیز زمین بھی اس وقت تک بے کار ہی رہتی ہے،جب تک اس پر محنت نہ کی جائے، کاشت کاری نہ کی جائے مگر یہ بات ہمارے مقتدر حلقوں کی سمجھ میں کبھی نہیں آتی ۔ تمام سیاسی جماعتیں نوجوانوں کی بہتری کے دعوے کرتی ہیں لیکن جب بات نوجوانوں کو ریلیف دینے کی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کی آتی ہے،تو ہر بجٹ کے تھیلے سے ایک ہی بلی برآمد ہوتی ہے اور کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ہر دور میں بجٹ آنے سے پہلے،شعبہ تعلیم و صحت کے لیے کثیر رقم رکھنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں، مگرجب بجٹ پیش ہوتا ہے تو سب سے کم ان ہی دو شعبوں میں رقم مختص کی جاتی ہے۔ملک اس وقت ایک بحران کی سی کیفیت میں ہے۔ ذرا دور اندیشی سے کام لیا جائے ،تو نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں سہولتیںفراہم کرکے انہیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ ذہین طلبا کے لیے تعلیمی وظائف کا اہتمام، انٹرن شپ اور پارٹ ٹائم ملازمت کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے، تاکہ دوران تعلیم ہی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کر سکیں۔ طلبا کے لیے ہنر مندی اور دست کاری کے مفت فنی کورسز کا آغاز ایک بہترین قدم ثابت ہو سکتا ہے، اس سے نہ صرف دیہی علاقوں کے ناخواندہ نوجوان ملک کے لیے کار آمد شہری ثابت ہو سکتے ہیں، بلکہ لڑکیوں کو بھی گھر بیٹھے پیسے کمانے کا موقع مل جائے گا،جو معاشی بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔سرکاری اداروں کا تعلیمی معیار پرائیویٹ اداروں کے معیار کی سطح پر لانا ہو گا ،بہت سے ذہین طلبا اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ انہیں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ۔ طلباکی بنیادی ضروریات میں مفت ٹرانسپورٹ کی اہمیت بھی کم نہیں، اگر طلبا کویہ سہولت میسر آ جائے، تو اس سے ان کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی۔تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس نظام کو شفاف اور رٹہ سسٹم سے پاک کرنا ہوگا۔ طلبا اور اساتذہ کی تربیت کے لیے موٹیویشنل اسپیکرز کی خدمات حاصل کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ نصابی تعلیم کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں خصوصا کھیل بھی ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے مفید ہیں اور ہر طالب علم کا بنیادی حق بھی،بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے اس سہولت سے بھی محروم ہیں۔ کھیل مشکلات کو بہادری سے جھیلنے اور مسکرا کر زندگی کا آخر تک سامنا کرنا سکھاتے ہیں۔اس سے نوجوانوں میں قوت برداشت پیداہوتی ہے۔شعبہ صحت کی صورت حال کچھ الگ نہیں ہے، صحت کے بجٹ میں عوام، نوجوانوں کے لیے خصوصی کوٹہ مقرر ہو نا چاہیے۔ صاف پانی اور معیاری خوراک ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ گندے پانی کے استعمال سے ہیپاٹائٹس، معدے جگر اور آنتوں کی سوزش اور دیگر امراض میں مبتلا ہے۔جگہ جگہ گندگی، اسکولوں، کالجوں کے باہر کچرے کے ڈھیر، طلبا میں سانس اور جلد کی بیماریاں پھیلارہے ہیں۔نسل نو کو علاج معالجے میں ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے ۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں فری ڈسپنسریز قائم کی جا سکتی ہیں۔ ملک و قوم کی ترقی کے لیے نوجوانوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ ان کے لیے پارکس اور ورزش کے لیے میدانوں میں خصوصی جگہ بنائی جانی چاہیے، تاکہ وہ چست وتوانا ہوں۔صحت مند، تعلیم یافتہ معاشرے کا قیام نوجوانوں کے بغیر ممکن نہیں اور یہی موجودہ دور کے نوجوانوں کی آواز ہے۔فی الحال نئی حکومت نے بجٹ پیش نہیں کیا ہے، مگر نوجوانوں کو اس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں،کاش کہ تمام امیدیں بر آئیں۔یاد رہے یہ طلباء ہی قوم کا مستقبل ہیں انہیں سہولتوں کی فراہمی ہی سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔غریب والدین کے لیے تو سہولت نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔