Image

خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات

 وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان افسوسناک واقعات کے محرکات و وجوہات کی جامع تحقیق اور ایسے واقعات کے روک تھام کیلئے سفارشات اور اس حوالے سے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے نوجوانوں کو خصوصی تلقین کی ہے کہ انسان اس کائنات پر اللہ تعالی کی بہترین مخلوق ہے اور انسانی زندگی ایک خوب صورت نعمت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے بھی کسی بھی حالت میں خودکشی کی سخت ممانعت ہے۔ نوجوان پختہ یقین رکھیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اور ہر تاریک رات کی ایک روشن صبح ہوتی ہے۔ حوصلے اور عزم و استقامت کے ساتھ زندگی میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے سول سوسائٹی،والدین، علمائے کرام ، اساتذہ اور معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والی دیگر شخصیات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خودکشی کے رجحان کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہیں اور سب سے انمول سرمایہ ہیں۔ ان میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات سب کیلئے انتہائی باعث تشویش ہیں۔ حکومت،والدین اور سوسائٹی نے مل کر خودکشی کے اس بڑھتے رجحان کو روکنا ہے اور اپنے نوجوانوں کو ایک بھرپور زندگی جینے کی امید دینی ہے۔اگرچہ مسلمہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریبا آٹھ لاکھ انسان خود کشی کر لیتے ہیں۔ ان بہت ناامید ہو جانے والے انسانوں میں ایسے خواتین و حضرات بھی ہوتے ہیں جو بظاہر بڑے بڑے خاندانوں کے رکن ہوتے ہیں اور جن کے بارے میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ بھی شدید حد تک تنہائی اور ناامیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی جان لے لینے والے ایسے انسانوں میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو اکیلے زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ انسانی خود کشی کا ہر واقعہ خود کشی کرنے والے انسان سے خاندانی، سماجی اور روزگار کی وجہ سے تعلق رکھنے والے اوسطا 135 دیگر افراد کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اس طرح خود کشی کا عمل ہر سال مجموعی طور پر 108 ملین انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے شہریوں میں خود کشی کے رجحان کی شرح بھی مختلف ہے۔ جرمنی میں گزشتہ چند عشروں کے دوران خود کشی کی وجہ سے انسانی اموات میں کافی کمی ہوئی ہے۔اس کے باوجود جرمنی میں آج بھی خود کشی کرنے والوں کی سالانہ تعداد سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں اور منشیات کے استعمال کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ بنتی ہے۔جرمنی سمیت مغربی دنیا کے درجنوں ممالک میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی آن لائن مدد کے امکانات گزشتہ کئی عشروں سے دستیاب ہیں، جن کے ذریعے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچنے والے شہری فوری طور پر مدد اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی خود کشی کی صرف کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ عمل ہمیشہ کئی مختلف عوامل کے اثرات کا مجموعہ ہوتا ہے۔موجودہ طرز زندگی میں اسکولوں، کھیل کود کے میدانوں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بچوں پر یہ مسلسل دباﺅ رہتا ہے کہ وہ بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ گھر واپس آ کر بھی انہیں ڈھیروں ہوم ورک کرنا ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں بچوں پر جسمانی اور ذہنی دباﺅ کا باعث بنتی ہیں۔غےر مسلموں میں خود کشی کی وجوہات سمجھ میں آتی ہےں لےکن مسلمانوں میں جنہےں ماےوس نہ ہونے کا کہا گےا اور خود کشی کو حرام قرار دےا گےا ہے وہاں اس کی شرح میں اضافہ تشوےشناک ہے ۔خود کشی جیسا انسانی ذاتی فعل زیادہ تر دو طرح کے افراد سے سرزد ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک پچھتاوے کے بعد انسان خود کو اس حد تک قصوروار بنا لیتا ہے کہ اس کا مداوا یا سزا بھگتنے کے باوجود وہ خود کو معاف نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا جب بہت ہی صاف گو اور سچا یا حق اور اصولوں پر ڈٹ جانے والا انسان اور اس حد تک کہ اس کے اندر ملاوٹ اور دوغلہ پن جنم ہی نہیں لیتا یا ختم ہو چکا ہوتا ہے اور معاشرہ جو اکثر اوقات تمام ذاتی خصلتوں اور مفادات سے بھرا ہواہے، اور ایسے میں اس طرح کا انسان اپنے آپ کو معاشرے کا حصہ سمجھنے میں الجھن محسوس کرتا ہے وہ خود کو تنہا جان لیتا ہے۔ معاشرہ کے افراد اس طرح کے انسان کا تمسخر اڑانا شروع کر دیتے ہیں، جب کہ وہ ڈٹا رہتا ہے مگر بہت زیادہ ڈٹ جانا بھی ایک دن اس کو اس حد تک تنہا کر دیتا ہے کہ اس کا لاشعور اس پر بھاری ہو جاتا ہے اور ایسے افراد کا خود پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں، لاشعور کا قبضہ اور اندر کی مایوسی اور پھر یہی مایوسی اس کو دنیا کے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔آنکھیں موند لینا اور خود کے وجود کو چھپانے میں ناکام ہونے اور اس کو اذیت جانتے ہوئے ، ارد گرد کے ماحول سے اس حدتک نفرت کہ اپنے وجود کو ان افراد کے درمیان رکھنے کو توہین جان کر خودکشی کو ترجیح دیتا ہے۔ ایسے حالات میں کوئی طاقت اس کو بچائے رکھتی ہے تو اس کا اپنے مذہب پر پختہ یقین ہے۔ مذہب بھی وہ جس میں ایسی کسی کوشش کی ممانعت اس حد تک کہ اس کی پاداش میں موت کے بعد زیادہ اذیت ناک زندگی کا خوف اس عمل کو ٹالنے میں مددگارہوتا ہے۔ انسان خود کو معاشرے کے روایات و اقدار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے اور خود کو مس فٹ محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات بندہ چھوٹی سے بات پر جذباتی ہو کر بھی ایسا قدم اٹھاتا ہے مگر اس کے اندر مسلسل مایوسی کااحوال ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے کے نامور کردار جن میں شاعر، ادیب، مصور، اداکار شامل ہیں جو شہرت کی بلندی کو چھولیتے ہیں وقت سے پہلے ہر سہولت، دکھ درد ، شہرت، بدنامی اور خوشی جیسے جذبات سے آشنا ہو جاتے ہیں اس کو بھر پور گزار لیتے ہیں تو ان کو کچھ نیاچاہیے ہوتا ہے جب کچھ نیا نہیں رہتا تو اپنے ہونے کی وجہ تلاش کرتے ہیں۔ چند ایک اس کوشش کو لاحاصل سمجھ لیتے ہیں کچھ جواب نہ ملنے کی صورت میں خود کشی کو گلے لگا لیتے ہیں۔اس طرح کے افراد جو خود کو تصور کر لیتے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں جو لطف اٹھانا تھا اور جو دنیا میں ان کو چاہئے تھا وہ مل چکا ہے اور آئندہ اسی آسائشوں کے گرد ہی گھومنا ہے تو وہ لوگ دنیا کو خیر باد کہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک وجہ مشہور و معروف شخصیات پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے بے جا تضحیک تمسخر اور الزام تراشی کرنا عرف عام میں بلنگ اور تحقیق کے بغیر دوسروں پر لفظی دھاوا بول دیتے ہیں اور ان شخصیات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں ہر طریقہ اپناتے ہیں۔بعض اوقات ایسی شخصیات اس تضحیک کو برداشت کرنے سے قاصر ہو جاتی ہیں اور ذہنی تناﺅ کیوجہ سے خود کی کیفیت کو برقرارنہیں رکھ سکتےں اور لاشعور کا قبضہ خود کشی جیسا فعل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔دنیا میں سب سے آسان سزا مجرم کی تلوار سے گردن اڑانا جس سے دماغ کا جسم سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اورانسان کا جسم درد اور دیگر تکالیف سے عاری ہو جاتا ہے اور سب سے مشکل اور تکلیف دہ سزا مجرم کو گلے میں پھندا ڈال کرپھانسی دی جاتی ہے۔اپنی زندگی میں مطالعہ اور تجربات کی روشنی میں زےادہ تر اس اذیت ناک موت سے آگاہ ہوتے ہےں۔ بہرحال جب کوئی شخص خودکشی کرتا ہے تو اس کے قاتل اس کے ارد گرد کا معاشرہ ہوتا ہے خواہ وہ اپنے آپ کو اس سے لاعلم رکھنے کی کوشش بھی کریں مگر حقیقتا وہ قاتل ہی ہیں ۔ بعض اوقات انسان کا بظاہر معمولی مگر قابل تضحیک عمل کسی انسان کی زندگی کے خاتمہ کا باعث بھی بنتا ہے ۔نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔طلبہ اور نوجوانوں میں منفی خیالات و رجحانات کا نمو پانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یقینا ہمارے تعلیمی اور سماجی نظام میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔کوئی ایسی بات یا فکر ہے جو ہماری نوجوان نسل کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کر رہی ہے۔خودکشی کی خبروں خاص طور پر نوجوان نسل کی جانوں کے اتلاف کی خبریں ذہن ودل کو آئے دن ملول کر رہی ہیں۔نوجوان نسل ہمارے ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہے۔ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو ہر گز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔خودکشی کی بے شمار وجوہات میں سماجی دبا،ڈپریشن،خوداعتمادی کا فقدان،غربت،عشق و محبت میں ناکامی وغیرہ شامل ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے زیادہ تشویش کا پہلو تعلیمی دباﺅ کی وجہ سے رونما ہونے والی اموات ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔