Image

قدرتی وسائل کی فراوانی اور ہمارا طرز عمل



اللہ تعالی نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازاہے۔ ہمارے پاس یہ سب چیزیں بھی ہیں اور صلاحیتوں سے مالامال قوم بھی لیکن پھر بھی ہمارے معاشی حالات ابتر ہیں' بحیثیت مجموعی ہم اور ہمارا ملک بیرونی امداد کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، ہمارے ذرائع آمدن اورروزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ جہاں اوربہت سے عوامل اس صورتحال کو پیدا کررہے ہیں وہیں ہماری اپنی تساہل پسندی اور مستقبل پر نظر نہ رکھنے کی غلطی پاکستان کو نقصان پہنچارہی ہے۔ ہم قدرتی وسائل کو اندھادھند بغیر کسی منصوبہ بندی کے استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے کل کے لئے سوچنا اور محنت کرنا کم کردیا ہے اس کے بجائے ہماری توجہ صرف آج سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل، پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کوہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔دریا، پہاڑ جنگلات اور صحرا وغیرہ سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔بیشتر ممالک نے پانی بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ وہاں کی حکومتوں نے پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی شروع کردیاہے لیکن پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نہ ڈیم بنارہے ہیں جو پانی ذخیرہ کرکے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔ بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت سی ضروریات پوری کرسکتا ہے، سیلاب کی نظر ہوجا تا ہے اور عوام بجلی اورپانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ ہم دریائوں اور سمندرکے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں اور پانی کی کمی کا رونا بھی رورہے ہیں لیکن اس دہری مصیبت کے تدارک کی کوششیں سرکاری اورعوامی سطح پرآٹے میں نمک کے برابرہیں ۔ اگر ایک طرف ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف عوام بلا ضرورت گھروں کے صحن، کپڑے اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے میں اکثر اوقات چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ پنجاب اور سندھ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل تیل وگیس کی تلاش و پیداوار کی کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہے، کمپنی کے ماہرین نے صوبہ سندھ اور پنجاب میں تیل و گیس کی دریافت کے حوالے سے دوبڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ترجمان کے مطابق پہلی کامیابی سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار نم بلاک میں ملی، جہاں نم کنویں ایسٹ ون سے یومیہ 1400 بیرل تیل جبکہ 5.02ملین مکعب کیوبک فٹ کے ذخائر دریافت ہوئے۔علاوہ ازیں او جی ڈی سی ایل کو کلچاس بلاک صوبہ پنجاب میں کلیر شم ون پر گیس دریافت کی دوسری بڑی کامیابی ملی۔ ترجمان کے مطابق کچلاس ایکسپلوریٹری لا ئسنس کے تحت اوجی ڈی سی ایل اور ایم پی سی ایل 50،50 فیصد کے جوائنٹ وینچر شراکت دار ہیں۔کلچاس بلاک کلیری شم کنویں ون سے 1.24ملین مکعب کیوبک فٹ یومیہ گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا، جسے مقامی وسائل پر انحصار کے حوالے اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔او جی ڈی سی ترجمان کے مطابق نئی دریافت سے اوجی ڈی سی ایل اور ملکی تیل و گیس کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، اضافی پیداوار سے ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔رواں ماہ ہی ماڑی پٹرولیم نے شمالی وزیرستان کے بنوں ویسٹ بلاک میں تیل و گیس کے ذخائر ملنے کی خوشخبری سنائی تھی ۔  شمالی وزیرستان میں یہ تیل و گیس کی پہلی دریافت ہے جس میں 25 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 300 بیرل یومیہ تیل کی بڑی دریافت کی گئی ہے۔ نئی دریافت سے تیل وگیس کی طلب پوری کرنے میں مددملے گی اور ملک میں ہائیڈروکاربن کے ذخائر میں اضافہ ہوگا جبکہ مقامی وسائل کی دریافت سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بچت ہوگی۔گزشتہ برس آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے خیبرپختونخوا کے ولی بلاک میں گیس و خام تیل کے ذخائر دریافت کیے تھے ، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ  دریافت سے یومیہ ایک کروڑ 36 لاکھ مکعب فٹ گیس حاصل ہوگی جبکہ  یومیہ 1010بیرل خام تیل بھی حاصل ہوگا۔ کچھ عرصہ قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے سمندر میں کیکڑا ون سائٹ پر تیل و گیس کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔ ڈیپ آف شور ڈرلنگ سے مراد ہے گہرے سمندر میں کھدائی۔ پہلے ایسی مشینری کا استعمال کر کے سروے کیا جاتا ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کہاں چٹان ہے، کس پتھر کی موٹائی کتنی ہے، اور کہاں تک ہمیں تیل اور گیس کے ذخائر مل سکتے ہیں۔کمپنی نے جو سروے کیا تھا اس میں ان کا اندازہ 5000-56000 میٹر نیچے تک کا تھا کہ وہاں پر کچھ ذخیرہ مل سکتا ہے۔ جب تک آپ ڈرلنگ نہ کر لیں یہ بہترین اندازے ہوتے ہیں۔آئل اینڈ گیس انڈسٹری کے ایک ماہر کا کہنا ہے عام طور پر پانچ فیصد بھی امکانات ہوں تو ڈرلنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ یہاں 20 فیصد امکان تھا ۔ دنیا بھر میں تو کامیابی کی شرح صرف دس فیصد ہوتی ہے، اگر دس کنویں کھودیں اور ان میں سے ایک کنویں میں بھی ذخیرہ مل جائے تو اسے کامیابی گنا جاتا ہے۔ پاکستان میں آن شور میں اس کی شرح تین میں سے ایک ہے ایوریج تو ہماری بہت اچھی ہے لیکن ہمارے ہاں جو دریافتیں ہوتی ہیں ان کا سائز بہت چھوٹا ہوتا ہے۔کیکڑا ون کی کامیابی کا امکان ابتدائی اندازوں کے مطابق 13 سے 15 فیصد کے درمیان تھا۔ اطلاعات کے مطابق ڈرلنگ کے دوران 4799 میٹر کی گہرائی پر پہنچنے پر کہا گیا تھا کہ بہت ہائی پریشر محسوس کیا گیا ہے جس سے مٹی ضائع ہو گئی ہے اور خطرات کے پیشِ نظر کنواں بند کر دیا گیا تھا۔ 3100 میٹر پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسے پلگ اور سائیڈ ٹریک کر کے کہیں اور جا نکلے جو بہت غیر معمولی بات ہے۔پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں ہم تین کنویں کھودتے ہیں تو ایک میں سے ذخائر نکل آتے ہیں۔ انڈیا نے چالیس کنویں کھودے جن میں سے کچھ نہیں نکلا اور بعد میں جا کر انہیں کامیابی ملی۔ اسی پر لیبیا کو پچاس سے زیادہ کنویں کھودنے کے بعد کامیابی ملی۔ناروے میں بھی جسے ہم نارتھ سی کہتے ہیں، انھوں نے تقریبا دس سال لگائے اور ستر سے زیادہ کنویں کھودنے کے بعد انہیں کامیابی ملی۔تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں جو چیز کامیابی کا تعین کرتی ہے وہ ہائیڈرو کاربن ہے۔جتنی بھی گہرائی میں آپ ڈرل کرتے ہیں تو ہر جگہ کچھ ہائیڈرو کاربن تو آپ کو ملتے ہیں مگر وہ تجارتی لحاظ سے فائدہ مند نہیں ہوتے۔ جو چیز تجارتی لحاظ سے فائدہ مند ہوتی ہے وہی کامیاب تصور کی جاتی ہے۔کیکڑا ون پروجیکٹ کے شروع کے نتائج تو بہت اچھے تھے لیکن جب کھدائی کی گئی تو کہانی بدل گئی۔ کیکڑا ون کے آس پاس کے علاقوں میں کافی دفعہ کافی کمپنیوں نے کوشش کی ہے لیکن پہلی بار کیکڑا ون پر ڈرلنگ کی گئی۔ پہلے میں تو ہائیڈرو کاربن اتنی بھی نہیں ملی تھی جتنی اس بار ملی لیکن نتائج پر حیرت ہوئی ہے، یقینا یہاں کچھ گڑبڑ ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ بالکل ہی کچھ بھی نہ ملا ہو۔ ڈیپ آف شور ڈرلنگ زمین پر ڈرلنگ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ اس پروجیکٹ کا ابتدائی تخمینہ تقریبا سترسے پچھہترملین ڈالر کے درمیان تھا جو سو ملین ڈالر تک چلا گیا۔کیکڑا ون پروجیکٹ پر ڈرلنگ کا عمل بنیادی طور پر اطالوی کمپنی اے این ایل نے شروع کیا تھا جو کیکڑا ون کی آپریٹر کمپنی ہے۔اطالوی کمپنی اے این ایل کے علاوہ اس کنویں کی شراکت داری میں تین اور کمپنیاں امریکی کمپنی ایگزون موبل اور دو پاکستانی کمپنیاں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل بھی شامل تھیں۔وائلڈ کیٹ کنویں مہنگے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ڈرلنگ کے لیے انفراسٹرکچر محدود ہوتا ہے ۔اس میں ہماری جو کامیابی تھی وہ یہ کہ جس ٹارگٹ گہرائی تک آپ نے جانا تھا، آپ نے ایک ریزروائر مارک کیا ہوا تھا، آپ وہاں تک پہنچے ہیں اور وہ کاربونیٹڈ ریزروائر تھا لیکن اس کے اندر پانی تھا۔ جب بھی آپ ڈرلنگ کرتے ہیں اس میں بہت سا ڈیٹا اکٹھا ہوتا ہے۔ اس دوران جو ڈیٹا اکٹھا ہوا ہے وہ مستقبل میں کسی اور کنویں کی کھدائی میں بہت کارآمد ہو گا۔ یہ ڈیٹا رفائن ہو کر زیادہ بہتر طریقے سے کنویں کی کھدائی میں مدد دیتا ہے کنویں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وائلڈ کیٹ اور دوسرے کو پروڈکشن ڈیولپمنٹ کہہ سکتے ہیں۔وائلڈ کیٹ ڈرلنگ ایسے علاقے میں کی جاتی ہے جہاں اس علاقے کے ارضیاتی جائزے اور سیزمک سرویز کے مطابق ایک مخصوص عرصے کے لیے ممکنہ زیرِزمین ذخائر کی موجودگی کے نشان ملتے ہیں اور ان سے مستقبل کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔