Image

گلگت بلتستان کو سبسڈی جیسے زہر سے نجات دلا کر زراعت کی جانب لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے،کرنل (ر)عبید اللہ بیگ


گلگت :سونی جواری سینٹر فار پبلک پالیسی، ڈبلیو ڈبلیو ایف اور آئی سی آئی ایم او ڈی کے زیر اہتمام گلگت بلتستان میں زراعت، خوراک اور غذائی تحفظ سے متعلق  پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ سینئر صوبائی وزیر کرنل ریٹائرڈ عبید اللہ بیگ نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خالد خورشید خان کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں موثر پالیسی سازی کے لئے سونی جواری سینٹر فار پبلک پالیسی کا قیام اہم اقدام ہے گلگت بلتستان میں زراعت کے حوالے سے پالیسی سازی پر کام جاری ہے گلگت بلتستان زراعت کے اعتبار سے انتہائی زرخیز خطہ ہے گلگت بلتستان کو سبسڈی جیسے زہر سے نجات دلا کر زراعت کی جانب لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے اپنی غیر آباد زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لئے کام کرنا ہے گلگت بلتستان میں دو یونیورسٹیوں کے باوجود ہم زرعی شعبہ میں جدید طریقوں سے تاحال استفادہ نہیں کر سکے، ماضی میں گلگت بلتستان زراعت میں خودکفیل تھا لیکن اب سبسڈی کی سولہ لاکھ بوریوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔محکمہ زراعت،ماہی پروری اور امور حیوانات سمیت دیگر متعلقہ شعبہ جات کو فود سیکورٹی کے حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان اس سے مستفید سکے۔ سینئر وزیر نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو ابھرتا ہوا علاقہ بنانا ہے۔اس سلسلے میں ماہرین کی خدمات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے بہت جلد گلگت بلتستان میں فوڈ اتھارٹی بنائی جائے گی اور اس بارے میں ایکٹ بھی لایا جارہا ہے۔گلگت بلتستان پانی،معدنی وسائل اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے ملک کے لئے مرکز کی حثیت رکھتا ہے ان وسائل کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔پالیسی ڈائیلاگ سے وزیر اعلی کے کوآرڈینیٹر یاسر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ   معلومات ا ور باہمی افہام و تفہیم سے پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے گا: ماہرین، شراکت داروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ''جی بی کے سماجی و اقتصادی اور ماحولیاتی حالات'' سے متعلق ویژن، مشن، اہداف، اقدامات، اور حکمت عملی بنائی جارہی ہے ۔  پالیسی اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے اسٹریٹجک اور آپریشنل چیلنجز، مواقع اور حل کی شناخت اور ان کی فہرست بنائیں گے۔ سیکرٹری زراعت خادم حسین سلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی بی میں زراعت میں آبی وسائل، آبپاشی کے نظام، زرعی تنوع، اور منفرد ایکو زونز اور آب و ہوا کی بنیاد پر ترقی کی صلاحیت موجود ہے تاہم، زرعی صلاحیت محدود قابل کاشت زمین، ٹیکنالوجی، بہترین انتظامی طریقوں، بنیادی ڈھانچے، اور ادارہ جاتی خدمات ـ مارکیٹ، موسمیاتی، مالیاتی، قدر میں اضافے اور توسیعی خدمات تک ناکافی رسائی کی وجہ سے محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زراعت سے متعلق 2 بلین کے منصوبے پی ایس ڈی پی میں ریفلیکٹ ہوئے ہیں اور پہلی بار وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان میں ہارٹی کلچر کا منصوبہ منظور کیا ہے ۔ سیکریٹری خوراک صفدر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کسی بھی ملک میں ترقی کے لئے فوڈ سیکیورٹی پر توجہ دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تقریباً 17 لاکھ کنال زرعی زمین ہے جبکہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لئے سبسڈی گندم فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر سستے داموں گندم و آٹا دستیاب ہے ۔ پنچاب میں آٹے کا تھیلا 4 ہزار روپے کا ہے وہ گلگت بلتستان میں صرف 650 روپے کا دستیاب ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گندم سبسڈی کم یا بند ہونے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ایسے میں حکومت اور عوام کو متبادل آپشنز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم پر کی فراہمی پر اثر پڑا ہے ۔ عوام کو اپنی زرعی زمینوں کو آباد کرکے فصلیں اگانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ آٹے کی کوالٹی چیک کرنے کے لئے لیبارٹری کے قیام پر کام ہو رہا ہے ۔ آئی سی آئی موڈ کے غلام علی ' بابر خان ،ہیڈ ڈبلیو ڈبیلو ایف گلگت بلتستان حیدر رضا اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی بے ترتیب بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب، خشک سالی اور زرعی ماحولیاتی حالات کے ساتھ چیلنج کو مزید پیچیدہ کر رہی ہے۔ مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جی بی میں 4.24 فیصد آبادی خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تقریباً 47% بچے (5 سال سے کم عمر کے) سٹنٹنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔  بچوں (5 سال سے کم عمر) میں ضائع ہونے اور کم وزن کا پھیلاؤ بالترتیب 4.9 فیصد اور 3.19 فیصد ہے۔  6-23 ماہ کی عمر کے صرف  9.12فیصد بچے کم از کم غذائی تنوع کے ساتھ کھانا حاصل کررہے ہیں ۔  جی بی میں، تولیدی عمر (15ـ49 سال) کی خواتین کا ایک بڑا حصہ غذائی قلت کا سامنا کرتا ہے۔  پالیسی اور اسٹریٹجک مداخلتوں اور سرمایہ کاری کا صحیح امتزاج، گلگت بلتستان (جی بی) میں زراعت نہ صرف خوراک اور غذائیت کی حفاظت، ذریعہ معاش، ترقی اور غربت کو کم کر سکتی ہے بلکہ درآمدات پر انحصار کو بھی کم کر سکتی ہے۔ سونی جواری سنٹر فار پبلک پالیسی (SJCPP) نے کئی اداروں کے ساتھ مشاورت اور شراکت داری میں پائیدار زراعت، خوراک اور غذائی تحفظ سے متعلق پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے اور ماہرین، شراکت داروں کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ پالیسی کے مسودے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک مشاورتی ورکشاپ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اسٹیک ہولڈرز فیڈ بیکس کو مستحکم کرنے اور پالیسی کے مواد کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس دوران مختلف محکموں کے ذمہ داران نے زراعت خوراک اور نیوٹریشن سیکورٹی کے حوالے سے پالیسی سازی کو مزید موثر بنانے کے لئے تجاویز دیں۔