Image

سائنس دانوں نے ہمیشہ چلنے والی لیزر تیار کرلی

سائنس دانوں نے ایک ایسی ایٹمی لیزر تیار کی ہے جو ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے، یہ ایجاد اگلی جینریشن کی ٹیکنالوجی کے کمرشل استعمال کے نئے باب کھولے گی۔ یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ایٹمی لیزر کے نظریے کے ایک ایسے مسئلے کو حل کرلیا جس نے 30 سالوں سے طبعیات دانوں کو الجھا کر رکھا تھا۔عام آپٹیکل لیزر کے برعکس یہ ایٹمی لیزرایٹم کے بوز-آئنسٹائن کنڈینسیٹ (بی ای سی) نامی شے سے بنائی گئی ہے جو مادے کی شعائیں خارج کرتی ہیں۔ان لیزرز کو بڑی مقدار میں توانائی اور اپنی حالت میں برقرار رہنے کے لیے انتہائی ٹھنڈے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال اس کو انتہائی قلیل مدت تک فعال رکھا جاسکتا ہے۔تحقیق کے سربراہ پروفیسر فلورین شریک کا کہنا تھا کہ پچھلے تجربوں میں ایٹموں کی بتدریج ٹھنڈک مکمل طور پر ایک ہی جگہ ہوئی تھی۔ اس سیٹ اپ میں محققین نے ایٹم کو ٹھنڈا کرنے کے عمل کو وقت کے بجائے مکان کے اعتبار سے پھیلایا گیا۔ آخر میں انتہائی ٹھنڈے ایٹم تجربے کے مرکز پر آئے جہاں بی ای سی میں ان کو مادے کی مربوط لہروں کی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔





ان لیزرز کو بڑی مقدار میں توانائی اور اپنی حالت میں برقرار رہنے کے لیے انتہائی ٹھنڈے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال اس کو انتہائی قلیل مدت تک فعال رکھا جاسکتا ہے۔


تحقیق کے سربراہ پروفیسر فلورین شریک کا کہنا تھا کہ پچھلے تجربوں میں ایٹموں کی بتدریج ٹھنڈک مکمل طور پر ایک ہی جگہ ہوئی تھی۔ اس سیٹ اپ میں محققین نے ایٹم کو ٹھنڈا کرنے کے عمل کو وقت کے بجائے مکان کے اعتبار سے پھیلایا گیا۔ آخر میں انتہائی ٹھنڈے ایٹم تجربے کے مرکز پر آئے جہاں بی ای سی میں ان کو مادے کی مربوط لہروں کی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔