Image

گلگت بلتستان کاسالانہ مےزانےہ

گلگت بلتستان کا 23-2022کے لیے 119 ارب 32 کروڑ،82 لاکھ 94 ہزار روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ےہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں نو ارب روپے خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی زیر صدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ جاوید منوا نے بجٹ پیش کیا۔بجٹ تقریر میں صوبائی وزیر خزانہ نے جی بی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کا اعلان کیا۔وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میزانیہ 23-2022 کے مطابق بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے سنتالےس ارب اٹھاسی کروڑ،چھہتر لاکھ چون ہزار روپے اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 61 ارب 44 کروڑ،6لاکھ،40ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔گندم سبسڈی کے لیے دس ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ترقیاتی بجٹ میں سترہ ارب چھےانوے کروڑ روپے کی رقم لوکل اے ڈی پی کی مد میں شامل ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کے اٹھارہ ارب پچاس کروڑ روپے کی رقم نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا حصہ ہے۔فارن ایڈ کی دوارب روپے کی رقم بھی ترقیاتی بجٹ کا حصہ ہے۔غیر ترقیاتی بجٹ میں تنخواہوں کے لیے انتالےس ارب اکےاسی کروڑ انےس لاکھ باسٹھ ہزار روپے، سروس ڈیلیوری کے لئے پانچ ارب پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ سول ریپئیر اینڈ مینٹیننس کے لئے دوارب روپے، گرانٹ ان ایڈ کےلئے ڈیڑھ ارب روپے کی رقم بھی غیر ترقیاتی بجٹ میں شامل ہے۔آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبے کے لیے اےک ارب بےس کروڑ چھہترلاکھ اٹھانوے ہزارروپے،زراعت،امور حیوانات وماہی پروری کے لیے چھہترکروڑ اٹھاون لاکھ چھہتر ہزار روپے، تعلیم کے شعبے کے لیے دو ارب پچےس کروڑ پندرہ لاکھ چھےاسٹھ ہزار روپے جنگلات جنگلی حیات و ماحولیات کے شعبوں کے لیے سترہ کروڑ اڑتالےس لاکھ اناسی ہزار روپے، صنعتوں اورمعدنیات کے لیے بارہ کروڑ سترہ لاکھ پچےس ہزار روپے،محکمہ خوراک کے لیے چارکروڑ اٹھانوے لاکھ چوراسی ہزار روپے،سیاحت وثقافت ،کھیل و امور نوجوانان کے شعبوں کے لیے اٹھائےس کروڑ 85 لاکھ 70 ہزار روپے، توانائی کے شعبے کے لیے دوارب ترپن لاکھ ستائےس ہزار روپے، تعمیرات عامہ کے شعبے کے لیے پانچ ارب انتالےس کروڑ ترپن لاکھ آٹھ ہزار روپے،لااینڈ آرڈر و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ساٹھ کروڑ ترپن لاکھ پچپن ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے گندم او ربجلی کی قیمتوں میں اضافے ،کنٹیجنٹ ملازمین کی بھرتی ،نئی آسامیوں کی تخلیق اور اپ گریڈیشن پر مکمل پابندی کا اعلان کردیا ہے جبکہ آمدن میں اضافے کے لئے مختلف محصولات کی شرح بھی بڑھائی جارہی ہے،وزیرخزانہ نے بجٹ میں گلگت بلتستان میں بجلی کے نرخوں میں مرحلہ وار اضافے کی نوید سنا دی، گلگت بلتستان میں ٹیکس میں چھوٹ کی وجہ سے ہم کوئی ٹیکس نافذ نہیں کرسکتے، تاہم حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کےلئے بجلی کے نرخوں میں مختلف درجوں میں اضافے کی تجویز ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ کے اسٹیٹ ہاﺅسز کے کرایہ ناموں کو پہلی مرتبہ فنانس بل کے تحت قانونی شکل دی جارہی ہے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی انڈیکشن، رینول اور روٹ پرمٹ کے نرخوں میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔ اسی طرح شعبہ سیاحت کی مد میں حاصل ہونے والے محصولات کے نرخوں میں اضافے کی تجویز ہے۔ مختلف ہوٹلوں، ریسٹورنٹ اور خیمہ بستیاں قائم کرنے کی رجسٹریشن اور ان کی رینول کی مد میں محصولات میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت منظور شدہ صفائی کی فیس ودیگر محصولات پر یکم جولائی 2022سے عمل درآمد کی تجویز ہے۔ تمام محکمہ جات کے زیر نگرانی ہونے والے ٹینڈر ڈاکو منٹ فیس کی وصولی کی تجویز ہے۔ سرکاری مکانوں میں رہنے والے ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے پانچ فیصد سرکاری رہائش چارجز کی مد میں وصولی کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کی زیر نگرانی ٹرافی ہنٹنگ کے اجازت نامے کی فیسوں میں بھی اضافے کی تجویز ہے، مختلف نالوں اور دریاﺅں میں مچھلی کے شکار کے اجازت نامے کی فیس میں بھی اضافے کی تجویز ہے، محکمہ معدنیات کی زیر نگرانی ہونے والی وصولیوں کی مد میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے،بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے گندم کی قیمت میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اس سلسلے میں تعاون کی اپیل کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہاں میں گلگت بلتستان کے عوام کو ایک تلخ حقیقت سے بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ گندم کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں بے تحاشہ اضافے کی بدولت اگلے سال ہمیں گندم خطے کے طول و عرض تک پہنچانے کے لیے کم از کم چھ ارب روپے اضافی درکار ہونگے جبکہ حکومت کے پاس وسائل کا دامن انتہائی تنگ ہو چکا ہے۔ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ اضافی وزن عوام کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ میں امید رکھتا ہوں کہ عوام اس مشکل فیصلے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سخت معاشی حالات میں حکومت گلگت بلتستان نے آئندہ مالی سال کےلئے کفایت شعاری کی مد میں مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آئندہ ترقیاتی وغیر ترقیاتی بجٹ سے ہر قسم کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، البتہ موٹر سائیکل، سکول بس ایمبولینس اور آگ بجھانے والی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی نہیں ہوگی۔ نئی آسامیوں کی تخلیق پر مکمل پابندی ہوگی، تنخواہ کے مقصد کےلئے ملازمین کی ایک مکمل شدہ پراجیکٹ سے دوسرے پراجیکٹ میں منتقلی پر پابندی ہوگی، تمام سرکاری افسران کا میگزین اخبارات وغیرہ خریدنے کا استحقاق ختم کردیا گیا ہے۔ترقیاتی وغیر ترقیاتی بجٹ میں کنٹیجنٹ ملازمین کی بھرتی پر مکمل پابندی ہوگی، سرکاری دفاتر میں کاغذ دونوں اطراف استعمال کیا جائے گا ، غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد ہوگی سوائے وہ دورہ جات جو ریاست یا عوامی مفاد میں ناگزیر ہوں۔ مہنگے ہوٹلوں اور مقامات پر تقریبات وسیمینار کرانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ کابینہ کے اراکین، انتظامی محکموں کے سربراہان خصوصی اداروں اور دیگر افسران صرف ایک سرکاری گاڑی رکھنے کے مجاز ہونگے۔سرکاری خزانے سے لنچ، ڈنر اور ریفریشمنٹ پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو دو سال سے انسانی ترقی اور سوشل سیکٹر پر خطیر رقم خرچ کررہی ہے جس سے انسانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ پہلی مرتبہ بجٹ میں لینڈ سٹیل منٹ کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، اس کے علاوہ صحت، تعلیم اور سوشل سیکٹر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ بجٹ میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے معاشی استحکام کیلئے صوبے کے ریونیو میں اضافے کیلئے گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جارہاہے جس کے دور رس اور مثبت ثمرات سامنے آئیں گے۔ ترقیاتی شعبے میں معاشی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی سکیموں کا تھرو فارورڈ کم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہاکہ تمام شعبوں میں خصوصی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں جس سے عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور علاقے میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ بجٹ میں عام عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خصوصی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کا بجٹ اگرچہ متوازن اور عوام دوست نظرآتا ہے لےکن اس بجٹ میں اپنی آمدن میں اضافے کے رواےتی طرےقے ہی استعمال کےے گئے ہےں اور آمدن میں اضافے کے ٹھوس و جامع اقدامات سے گرےز کےا گےا ہے۔بجٹ کے حوالے سے اکثر ےہ کہا جاتا ہے کہ اس سے عوام کو فائدہ ہو گا لےکن عموما ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔گلگت بلتستان میں آمدن کے بے پناہ ذرائع ہےں جن سے فائدہ اٹھا کر آمدن بڑھا کر عوامی امور پر صرف کی جا سکتی ہے البتہ بچت کے حوالے سے کےے گئے اقدامات لائق تحسےن ہےں ۔ غےر ترقےاتی اخراجات میں کمی کے ذرےعے ہی خودکفالت کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ وہ سرکاری حکام جو بھاری تنخواہےں لےتے ہےں انہےں پٹرول بجلی فون وغےرہ کی مفت سہولتےں فراہم کرنے کا کوئی جواز نہےں ہے۔ جب انتہائی کم تنخواہ لےنے الے سرکاری ملازم ےہ سارے اخراجات اپنی جےب سے کرتے ہےں تو بھاری تنخواہےں لےنے والے کےوں نہےں کر سکتے ۔مسئلہ فنڈز کی کمی کا نہےں ہوتا ان کے درست استعمال کا ہوتا ہے جس کے ذرےعے مالی مشکلات پر قابو پاےا جا سکتا ہے۔