Image

اور اب پٹرولیم لیوی:مہنگائی کا طوفان



وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں پچاس روپے اضافے کی ایوان سے منظوری مانگی جو کہ منظور کر لی گئی۔یہ منظوری قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل 2022'23 کی منظوری کی تحریک کے دوران دی گئی ہے۔اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لیوی صفر ہے۔ پچاس روپے فی لیٹر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگانے کا اختیار قومی اسمبلی نے حکومت کو دے رکھا ہے۔قومی اسمبلی نے تاجروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق شق کی بھی منظوری دی۔اس کے علاوہ  تنخواہ دار طبقے کا ریلیف ختم کرکے تنخواہ دار طبقے کے لیے  ٹیکس کی شرح کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔بین الاقوامی سطح پر، مارچ 2022 میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں کی اوسط تقریبا 117 ڈالر فی بیرل تھی، جو فروری کی اوسط سے 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے 12 اپریل 2022 کو جاری کردہ شارٹ ٹرم انرجی آٹ لک کے مطابق، 2022 میں قیمتیں اوسطا 103.37 ڈالرز فی بیرل ہونے کی توقع ہے۔ یہ 2021 میں 70.89 ڈالر کی سالانہ اوسط سے زیادہ ہے۔ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اوسط فروری 2022 میں فی بیرل 91.64 ڈالر اور مارچ میں اوسطا 108.50 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں 2021 میں کم شروع ہوئیں، جنوری میں اوسطا 54.77 ڈالر فی بیرل تھی لیکن وہ دوسری سہ ماہی میں بڑھی اور اپریل 2021 میں 67.73 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ امریکہ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ نے اسی طرح کا مظاہرہ کیا اور اپریل میں 63.50 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔تیسری سہ ماہی میں قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا، نومبر کے اوائل میں برینٹ کی قیمتیں 84.52 ڈالر فی بیرل کی بلندی تک بڑھ گئیں، اور ڈبلیو ٹی آئی اکتوبر کے آخر میں 85.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ 2021 کے آخر تک برینٹ 77.24ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 75.33ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے پیش گوئی کی ہے کہ 2025 تک برینٹ خام تیل کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل تک بڑھ جائے گی۔2030 تک عالمی طلب برینٹ کی قیمتوں کو 89 ڈالر فی بیرل تک لے جاتی نظر آ رہی ہے۔ 2040 تک قیمتیں 132 ڈالر فی بیرل متوقع ہیں۔ تب تک تیل کے سستے ذرائع ختم ہو چکے ہوں گے، جس سے تیل نکالنا مہنگا ہو جائے گا۔ 2050 تک تیل کی قیمتیں 185ڈالر فی بیرل تک ہوسکتی ہیں۔ڈبلیو ٹی آئی فی بیرل قیمت 2025 تک بڑھ کر 64 ڈالر فی بیرل، 2030 تک 86 ڈالر، 2040 تک 128 ڈالر اور 2050 تک 178 ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ پیٹرولیم کی مانگ کم ہو جاتی ہے جب یوٹیلیٹیز قدرتی گیس اور قابل تجدید توانائی پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ پاکستان میں معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا تھا ملک میں جون کے اختتام تک تیل کی قیمت 260 روپے فی لیٹر ہوسکتی ہے۔مستقبل میں تیل کی قیمتوں کا بہت زیادہ انحصار توانائی، نقل و حمل اور دیگر صنعتوں میں اختراعات پر ہوگا کیونکہ قابل تجدید ایندھن پر انحصار کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔جے پی مورگن نے تیل کی بڑھتی قیمتوں، بگڑتے ہوئے نمو اور جغرافیائی سیاسی تنائو میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے 2022 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں 10 لاکھ بیرل یومیہ  کی کمی کی پیش گوئی کی۔ تیل کی سہ ماہی قیمت کی پیشن گوئی اور 2023 کے لیے اس کے سال کے اوسط آئوٹ لک میں اضافہ کیا کیونکہ ایران سے اضافی سپلائی میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی جس سے مارکیٹ کے توازن میں اضافہ ہوا۔عالمی سطح پر سپلائی اور قیمتیں بھی جغرافیائی سیاسی تنازعات اور شہری بدامنی سے بہت متاثر ہوتی ہیں۔بہت سے عوامل کی وجہ سے آج تیل کی قیمتیں زیادہ غیرمستحکم ہیں ۔ وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بات درست ہے مڈل کلاس کیلیے مشکل حالات ہیں، اتنے پیسے نہیں کہ سب کو سبسڈی دے سکیں،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی، ہم نے سیاسی مفاد کوپیچھے چھوڑا۔آنیوالے دنوں میں ہم طویل مدتی ایل این جی معاہدہ کریں گے، نئی حکومت روس سے سستی گندم لینے کی کوشش کرے گی اور اگر روس نے کوئی راستہ نکالا تو سستا تیل بھی خریدا جائے گا۔ہمارا فوکس معاشی حالات کو درست کرنے پر ہے۔پٹرولیم مصنوعات پر کوئی ٹیکس نہیں لگائیں گے، پٹرولیم مصنوعات آج بھی نقصان میں بیچ رہے ہیں، عمران خان نے30 روپے لیوی اور17 فیصد جی ایس ٹی کا معاہدہ کیا،ابھی لیوی اور جی ایس ٹی بڑھانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سبسڈی کیلئے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کی 466 ارب روپیاکھٹا کرنیکی بات درست نہیں،انہوں نے ایک پیسا بھی اکٹھا نہیں کیا تھا۔  شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیاتھا کہ پرائمری خسارہ 25 ارب تک ہوگا، لیکن انہوں نے پرائمری خسارہ 1332 ارب تک پہنچایا۔ جون تک 1332 ارب روپے کا پرائمری خسارے کا پروجیکشن ہے۔  وزیر بننے پر جوپریزنٹیشن دی گئی تھی اس میں کہاگیاتھا کہ1332 ارب کا خسارہ ہے،اس کے علاوہ دو آئی ایم ایف کے700 ارب روپے کے ایڈجسٹربھی ہیں، ایڈجسٹرزمیں آئی پی پیز اور ویکسین خریداری کیلیے ادائیگی شامل ہیں، ان دونوں کو ملائیں تو دو ہزار ارب روپے کا خسارہ بنتا ہے۔مارچ اوراپریل کی ملاکر 100 ارب روپیکی سبسڈی دی گئی، جبکہ مئی میں 103 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ پی ٹی آئی کا سبسڈی دینے کا فیصلہ صحیح نہیں تھا۔تمام اقتصادی ماہرین کہیں گے سبسڈی نہیں دینی چاہیے تھی،عمران خان ایک بارودی سرنگ بچھا کر گئے تھے۔  میں حکومت میں آنے سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں سبسڈی ختم کرنی چاہیے۔عمران خان نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔ عمران خان جھوٹ بول کر ملک کے تعلقات خراب نہ کریں۔ یہ کہنا کہ امریکا سازش کررہاہے،ہمارے لوگ ملے ہوئے ہیں،زیادتی کی بات ہے۔ جومہنگائی آئی تھی وہ سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آئی تھی،قیمتیں بڑھیں گی تو ہم جوابدہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کوئی لانگ ٹرم پلان نہیں کیا،ایل این جی مہنگی خریدی،ہم آنے والے دنوں میں طویل مدتی ایل این جی معاہدہ کریں گے۔  روس سے سستا تیل خریدنے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے،عمران خان فروری میں روس گئے اگر سستا تیل مل رہا تھا تو کیوں نہیں لیا، روس سے گندم خریدنے کی کوشش کررہے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔کوئی شک نہیں درمیانے طبقے پر بھی مہنگائی کا بوجھ آئے گا،حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے، مہنگائی کم کرنے کا ایک طریقہ روپے کی قدر مستحکم رکھنا ہے، 40فیصد امیر گھرانے 80فیصد پٹرول اور ڈیزل استعمال کرتے ہیں، عمران خان کی سبسڈی اپر مڈل کلاس لوگو ں کیلئے تھی، ہم غریب پاکستانی کو سبسڈی دے رہے ہیں ۔عمران خان چار میں سے تین سال ایل این جی خریدنا بھول گئے، دنیا میں ایل این جی سستی ترین تھی تو انہوں نے طویل مدتی معاہدے نہیں کیے، سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہمیں مہنگی ایل این جی لینی پڑرہی ہے، ایل این جی کے طویل مدتی معاہدے کرنے کی کوشش کریں گے، ہمیں ان معاہدوں کی وجہ سے جیل بھیج کر ہمارے ساتھ ظلم کیا گیا۔  ہمارا مقصد حکومت نہیں پاکستان ہے۔ کون نہیں جانتا کہ  اس سب کے اثرات گندم اور آٹے کی قیمتوں پر ظاہر ہوں گے، گندم کی قیمت اس وقت کم ہے اور اس پر اثرات لوگوں کو فوری طور پر محسوس نہیں ہو ں گے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کی قیمت پر ضرور فرق پڑے گا۔یہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سبب بنے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے نقل و حمل بھی مہنگی ہوگی جس کے سبب مختلف اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ دوسرے صوبوں اور ممالک سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کی نقل و حمل کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگا جس کا بوجھ بالآخر پہلے ہی بے بس صارفین پر پڑے گا۔ سپلائی چین کا یہ طرز عمل دالوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا، عالمی قیمتوں میں اضافے، فریٹ چارجز اور ڈالر کے مقابلے روپے کی گراوٹ کے سبب پچھلے تین مہینوں کے دوران اس میں پہلے ہی بیس سے تیس روپے فی کلو کا اضافہ ہوچکا ہے۔