Image

بدلتے ہوئے تشویشناک حالات

 نیٹو نے پہلی بار چین کو اس کی زبردستی پر مبنی پالیسیوں کے باعث مغربی ممالک کے مفادات، سلامتی اور اقدار کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔ اسپین میں سربراہی اجلاس میںنیٹو کے نئے اسٹریٹجک تصور کو منظور کیا گیا جو آئندہ دہائی کے لیے اپنی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔اس دستاویز میں روس کے لیے سخت ترین زبان استعمال کی گئی جس میں مغربی ممالک کے امن اور سلامتی کے لیے ماسکو کو سب سے اہم اور براہ راست خطرہ قرار دیا لیکن کہا کہ بیجنگ کے فوجی عزائم، تائیوان کے خلاف اس کی تصادم پر مبنی بیان بازی اور ماسکو کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات نے منظم چیلنجز کو جنم دیا۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے صحافیوں کو بتایا کہ چین اپنی فوجی طاقت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے بشمول جوہری ہتھیار کے ذریعے پڑوسی ممالک کو دھونس دے رہا ہے، تائیوان کو دھمکیاں دے رہا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے ہی شہریوں کی نگرانی اور کنٹرول کر رہا ہے اور روس جھوٹ اور غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ہمارا مخالف نہیں ہے لیکن ہمیں ان سنگین چیلنجوں کے بارے میں واضح نظر رکھنی چاہیے۔ اس کے جواب میںچین نے کہا کہ اس نے نیٹو کے اعلان کی سختی سے مخالفت کی اور اسے مکمل طور پر جانبدار وارننگ قرار دیا۔ےوکرےن کی جنگ بھی امرےکہ روس میں اےک وجہ تنازع ہے۔ پوتن یوکرین کے خلاف جنگ کا آغاز کر چکے ہیں لیکن روس کی توقع کے برخلاف ایک جانب یوکرین کی افواج شدید مزاحمت کر رہی ہیں تو دوسری جانب مغربی ممالک ماسکو کے خلاف معاشی اور مالیاتی پابندیاں عائد کرنے پر متحد ہو رہی ہیں۔ پوتن کا وضع کردہ نظام خطرے میں پڑ چکا ہے۔پاول فیلگین ہاوئر ماسکو میں ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پوتن مشکل میں پڑ چکے ہیں۔ مغرب کی جانب سے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کے بعد روس کا مالیاتی نظام مفلوج ہو گا تو پھر پوتن کے پاس زیادہ راستے نہیں بچیں گے۔ پھر نظام چل ہی نہیں پائے گا۔پوتن کے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ وہ یورپ کی گیس سپلائی منقطع کر دیں اور امید کریں کہ اس سے یورپی ممالک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایک اور راستہ یہ بھی ہے کہ وہ برطانیہ اور ڈنمارک کے درمیان شمالی سمندر میں کسی مقام پر ایک نیوکلیئر بم گرا دیا جائے۔اگر ولادیمیر پوتن نے واقعی جوہری آپشن کا انتخاب کر لیا تو کیا ان کے قریبی لوگوں میں سے کوئی ان کو روکنے کی کوشش کرے گا؟دیمیتری موراتوو کہتے ہیں کہ روس کی سیاسی اشرافیہ عوام کے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ حاکم کا ساتھ دیتی ہے۔اور ولادیمیر پوتن کے روس میں حاکم بہت طاقتور ہے۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں کریملن جو چاہتا ہے کر سکتا ہے کیوںکہ اسے روکنے والا کوئی نہیں۔پاول فیلگین ہاوئر کہتے ہیں کہ روس میں کوئی بھی پوتن کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہے۔ ہم واقعی ایک خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں۔یوکرین کی جنگ ولادیمیر پوتن کی جنگ ہے۔ اگر کریملن یعنی پوتن نے اپنے جنگی مقاصد حاصل کر لیے تو پھر یوکرین کی خودمختاری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔اگر پوتن کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ناکام ہو رہے ہیں تو پھر ڈر ہے کہ کہیں وہ کچھ اور نہ کر بیٹھیں۔خصوصا جب کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کا اطلاق بھی نہ ہو سکتا ہو۔روس کے یوکرین پر حملے کے فوری بعد صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے دفاعی یعنی جوہری ہتھیاروں کو جنگی تیاری کی حالت میں رہنے کا حکم دے دیا ہے۔اس اعلان سے یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ ماسکو اپنے ٹیکٹیکل (محدود پیمانے پر تباہی کرنے والے)جوہری ہتھیاروں کو استعمال کر سکتا ہے جس سے جوہری جنگ تو شاید نہ چھڑے لیکن پھر بھی یہ ایک ڈرامائی پیش رفت ہو گی۔ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار محدود پیمانے اور مختصر فاصلے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔یہ خاصیت ان کو سٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں سے الگ کرتی ہے۔ سرد جنگ کے دوران سٹریٹیجک ہتھیار طویل مسافت طے کرنے کی صلاحیت رکھنے والے وہ بم تھے جو دونوں سپر طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین، نے ایک دوسرے کی سرزمین تک مار کرنے کے لیے بنائے تھے۔ٹیکٹیکل کی اصطلاح کئی دیگر قسم کے ہتھیاروں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن میں چھوٹے بم اور میدان جنگ میں استعمال ہونے والے میزائل بھی شامل ہیں۔امریکی خفیہ ایجنسی کے حکام سمجھتے ہیں کہ روس کا ایک نظریہ ہے جسے وہ نیٹو سے تنازعے کے دوران استعمال کرتا ہے۔ اس نظریے کے تحت تنازعے کو کم کرنے کے لیے پہلے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔اس نظریے کے تحت ڈرامائی قدم اٹھایا جاتا ہے جیسے میدان جنگ میں ٹیکٹیکل ہتھیار کا استعمال کرنا یا پھر ایسے ہی ہتھیار کا تجربہ کرنا جس سے ڈرانا یا دھمکی دینا مقصود ہو تاکہ مخالف ڈر کر پیچھے ہٹ جائے۔اس وقت خدشہ یہ ہے کہ اگر پوتن کو محسوس ہوا کہ ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور یوکرین پر ان کی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے تو وہ گیم چینجر کے طور پر ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کا استعمال کر سکتے ہیں تاکہ شکست سے بچا جا سکے لیکن ایسا قدم اٹھانے کا پوتن اسی وقت سوچ سکتے ہیں جب یوکرین یا روس میں صورت حال کافی خراب ہو جائے۔کارنیگی اینڈوئمنٹ برائے بین الاقوامی امن واشنگٹن میں بطور جوہری ماہر کام کرنے والے جیمز ایکٹن کہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں مجھے واقعی تشویش ہے کہ پوتن یوکرین میں اپنی مرضی کرنے اور سب کو خوف زدہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ابھی ہم اس مقام پر نہیں پہنچے۔کنگز کالج لندن کے ماہر جوہری ہتھیار ڈاکٹر ہیدر ولیمز کے مطابق اس وقت یہ واضح نہیں کہ صدر پوتن کے لیے یوکرین میں جیت کیا ہو گی اور اسی لیے یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ ایسا کیا ہو گا کہ روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا انتہائی قدم اٹھانے کا سوچے۔صدر پوتن کا موقف ہے کہ یوکرین روس کا حصہ ہے۔ اس لیے اپنی ہی زمین پر جوہری ہتھیار کا استعمال کچھ عجیب سی بات لگتی ہے۔ روس بھی یوکرین سے جڑا ہوا ہے اور پیٹریشیا لوئس کے مطابق کسی بھی جوہری ہتھیار کی تباہی سرحد پار بھی اثر انداز ہو گی۔اب تک جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کا استعمال صرف دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے خلاف کیا ہے۔ کیا پوتن جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا ٹیبو توڑ کر جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے رہنما بننا چاہیں گے؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پوتن پہلے ہی ایسے کام کرنے پر رضامندی دکھا چکے ہیں جو شاید دوسروں کے خیال میں وہ کبھی نہ کرتے، چاہے یوکرین ہر حملہ ہو یا پھر سیلسبری میں نرو ایجنٹ کا استعمال۔ڈاکٹر ولیمز کا ماننا ہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کا استمال نہیں کرے گا، جس کی ایک وجہ چین بھی ہے۔ روس چین کی حمایت اور مدد پر انحصار کرتا ہے لیکن چین کا اصول ہے کہ جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا۔ ایسے میں اگر پوتن جوہری ہتھیار کا استعمال کریں گے تو چین کے لیے ان کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی اگر انھوں نے ایسا کیا تو وہ چین کی حمایت کھو دیں گے۔کوئی یقین سے نہیں جانتا کہ ٹیکٹیکل ہتھیاروں کا استعمال کس جانب لے جائے گا۔ اس سے تنازعے میں اضافہ ہو سکتا ہے اور پوتن جوہری جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن غلط فیصلے ہمیشہ خطرناک ہوتے ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی صورت حال کو دیکھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے پاس ایسے خفیہ ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے وہ روس کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مثال کے طور پر روس کے ٹیکٹیکل ہتھیاروں کو گودام سے نکالا جا رہا ہے یا نہیں اور کیا جوہری ہتھیاروں کی لانچ سائٹس پر سرگرمی تیز ہوئی ہے یا نہیں۔اب تک ان کے مطابق کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ نیٹو اور امریکہ کسی قسم کے جوہری ہتھیار کے استعمال پر کیا ردعمل دیں گے۔ عین ممکن ہے کہ وہ صورت حال کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے سے گریز کرنا چاہیں جس میں جوہری جنگ چھڑ سکتی ہو لیکن وہ کہیں نا کہیں ایک حد بھی مقرر کرنا چاہیں گے۔جیمز ایکٹن کا کہنا ہے کہ ایک بار آپ جوہری حد کو عبور کر لیں تو پھر اسے روکنا مشکل ہے۔ کسی کو بھی اتنا اعتماد نہیں ہو گا کہ یہ کہہ سکے کہ پھر دنیا کیسی ہو گی۔صدر جو بائیڈن اعلان کر چکے ہےں کہ امریکہ یوکرین کو لانگ رینج یعنی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرے گا۔ تاہم روس نے امریکہ پر اس جنگ کو طول دینے کا الزام عائد کیا ہے۔کریملن کے ترجمان ڈمتری پیسکوو نے کہا ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہتھیاروں کی ایسی فراہمی یوکرین قیادت کی امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کی حمایت نہیں کرتی۔دوسری جانب جرمنی کی حکومت نے بھی یوکرین کو ایک فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔