Image

امیروں سے پیسے لیکر غریبوں پر خرچ کریں گے، وزیر اعلیٰ

 گلگت بلتستان اسمبلی نے گلگت بلتستان کے 119 ارب 32 کروڑ 82 لاکھ 94 ہزار روپے کے بجٹ 2022-23ءکی متفقہ طور پر منظوری دیدی، جمعرات کے روز گلگت بلتستان اسمبلی میں بجٹ 2022-23ءپر تفصیلی بحث ہوئی۔ بحث کے بعد صوبائی وزیرخزانہ جاوید علی منوا نے بجٹ منظوری کےلئے ایوان میں پیش کیا۔ ارکان نے ہاتھ کھڑے کرکے بجٹ کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔ ایوان میں موجود اپوزیشن اراکین نے بھی بجٹ کی حمایت کی جس پر ڈپٹی سپیکر نذیر احمد نے بجٹ 2022-23ءکی متفقہ منظوری کا اعلان کیا جس کے بعد وزیر خزانہ نے فنانس بل 2022-23ءایوان میں منظوری کےلئے پیش کرتے ہوئے کہاکہ کٹ موشن کے ذریعے فنانس بل میں دو ترامیم منظور ہوئی ہیں۔ ایک ترمیم فنانس بل کے سیکشن تھری میں جبکہ دوسری ترمیم سیکشن 21 id میں ہوئی ہیں۔ ایوان نے ہاتھ کھڑے کرکے فنانس بل 2022-23ءکی بھی متفقہ طور پر منظوری دی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خالد خورشید نے بجٹ کی متفقہ منظوری پر ایوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم گلگت بلتستان کی آمدنی میں اضافے کےلئے گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی کا قیام عمل میں لا رہے ہیں اور اپوزیشن نے نہ صرف ریونیو میں اضافے کےلئے تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے بلکہ اپوزیشن نے گندم سبسڈی کے مسئلے پر بھی حکومت سے تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے اور اس ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گندم کی سبسڈی کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم امیروں سے پیسے جمع کرکے غریبوں پر خرچ کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں سیاسی بحث کرنے کی بجائے سنجیدگی سے علاقے کے مسائل پر بحث کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شاید گندم کے نرخ میں اضافہ کرے مگر یہ گلگت بلتستان کے عوام کا مسئلہ ہے اس لئے یہ ایوان گندم کی سبسڈی کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پوری کوشش اور خواہش یہی ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے ملازمین کو وہ تمام سہولیات دیں جو دیگر صوبوں کے ملازمین کو حاصل ہیں مگر بجٹ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہاکہ 41 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ہم پہلی بار گلگت بلتستان میں ریونیو میں اضافے کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حاجی رحمت خالق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ سے بات کریں وہ وزیراعظم سے بات کریں گے اور گلگت بلتستان کےلئے 13 ارب کی گرانٹ منظور کرائیں۔ ہم تمام الاﺅنسز دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے شندور روڈ کےلئے 50 ارب کا پراجیکٹ منظور کرایا، موجودہ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کےلئے صرف ڈیڑھ ارب روپے رکھے ہیں اس طرح یہ منصوبہ 50 سال میں بھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے گلگت شہر میں پینے کے پانی کے بحران کو حل کرنے کےلئے ساڑھے تین ارب روپے کا منصوبہ فیڈرل پی ایس ڈی سے منظور کرایا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو فیڈرل پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ہے۔ اس طرح ہم نے سکردو شہر کےلئے سیوریج سسٹم فیڈرل پی ایس ڈی پی میں منظور کرایا تھا وہ بھی نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم گلگت بلتستان کے حقوق کےلئے وفاق میں ہر سطح پر احتجاج کریں گے، اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ ہم احتجاج نہ کریں تو وہ وفاق میں اپنے قائدین سے بات کریں اور فیڈرل پی ایس ڈی پی میں ہمارے منصوبے بحال کرائیں۔