Image

موسمیاتی تبدیلیاں اورسکردو میں گلیشیئرز کا پگھلاﺅ

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ اسکردو میں برف پگھلنے کی وجہ سے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے ہنزہ میں گرمی کی شدت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بروقت ٹیم ورک نے جانوں کے ضیاع کو روکا ہے۔ جی بی انتظامیہ اور ڈی ڈی ایم اے کو چوکس رہنے کیلئے الرٹ کیا گیا ہے کیونکہ برف پگھلنے کی وجہ سے پانی کی سطح غیر مستحکم ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے کی وجہ سے پہاڑی، ندی نالوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ برف پگھلنے کی وجہ سے اسکردو کی ایک جھیل میں خوفناک سیلاب ہے۔ہم جانتے ہےں کہ گزشتہ ایک صدی میں گلیشیئر جھیلوں کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، درجنوں گاﺅں تباہ ہوئے، مکانات اور عمارتیں تباہ ہوئیں اور ساتھ ہی اہم تنصیبات کو بھی یا تو نقصان ہوا یا تباہ ہوئیں۔ پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گلیشیئرز ہیں جن کی تعداد سات ہزار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقیاتی پروگرام کے ایک اندازے کے مطابق ہندو کش ہمالیہ میں تین ہزار گلیشیئر جھیلیں بنیں جن میں سے تےنتےس جھیلیں ایسی ہیں جن سے شدید خطرہ لاحق ہے اور ستر لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3044 گلیشیئر جھیلیں بن چکی ہیں جن سے 71 لاکھ افراد کو خطرہ لاحق ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صنعتی دور سے قبل سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر میں پہاڑی علاقے میں گرمی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔دنیا بھر میں گلیشیئر جھیل کے حجم میں ڈیڑھ سو مکعب کلومیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 1994 اور 2017 کے درمیان دنیا کے گلیشیئر جھیلوں نے 65 کھرب ٹن پانی کا اخراج ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سو سال میں سمندر کی سطح میں اضافے کا 35 فیصد حصہ گلیشیئر کے پگھلنے کے باعث ہوا۔ایک دہائی قبل شاید یہ ممکن نہیں تھا کہ گلشیئر جھیلوں کے حوالے سے معلومات پر تحقیق نہ کی جا سکتی ہو لیکن اب یہ ممکن ہو چلا ہے اور اس سے حکومتوں اور سائنسدانوں کو مدد ملے گی کہ وہ ان لوگوں کی مدد کر سکیں جو گلیشیئر جھیلوں سے خطرے میں ہیں۔ قراقرم گلیشیئرز کی گذشتہ چالےس سال کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑے ہوتے ہوئے گلیشیئرز کا گلیشیئر جھیل میں بدل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اگرچہ یہ جھیلیں تازہ پانی کا ایک اہم ذریعہ ہیں لیکن جب ان کا بند ٹوٹتا ہے تو بہت تباہی مچاتے ہیں۔گزشتہ آدھی صدی میں اس علاقے میں گلےشیئر جھیلوں کے کئی واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔شسپر گلیشیئر کی وجہ سے پاکستان اور چین کو ملانے والی واحد سڑک قراقرم کو نقصان پہنچا اور یہ ہائی وے کئی روز تک بند رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے باعث گلیشیئر جھیلوں میں تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر بروقت ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وقت ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان جھیلوں کے گرد ایسے انجینیئرنگ سٹرکچر کھڑے کیے جائیں جن سے ان سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔موسمی تبدیلے کے علاوہ ان علاقوں میں جنگلات کی کمی بھی گلیشیئر جھیلوں سے ہونے والی تباہی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں کم از کم بےس لاکھ افراد ایندھن کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں اور وہ درحت کاٹتے ہیں جس کے باعث جنگلات میں کمی تیزی سے ہو رہی ہے۔شمالی علاقہ جات میں ہزاروں سال سے موجود گلیشیئرز کو بچانا چاہئے۔ گرمی کے موسم میں ان گلیشئرز کے پگھلنے سے پچیس سو جھیلیں نمودار ہوتی ہیں جن کا پانی دریاﺅں میں شامل ہو کر پاکستان کے دیگر نچلے علاقوں میں زراعت اور انڈسٹری نیز بجلی بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔اب بڑھتے ہوے درجہ حرارت اور پولوشن کی وجہ سے یہ جھیلیں ایکدم پانی کے دباﺅ کی وجہ سے پھٹنے لگی ہیں جس سے نچلے علاقوں میں سیلاب اور تباہی کے مناظر ابھرنے لگے ہیں۔ رفتہ رفتہ گلیشیئر غائب ہونے لگے ہیں اور درختوں کی کٹائی کی وجہ سے لینڈ سلائیڈز میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ پانی ہماری لائف لائن ہے اگر یہ بھی خشک ہوگیا تو زندگی بھی ختم ہوجائے گی۔حکومت کو چاہئے کہ پہلے انفراسٹرکچر اور ماحولیات کی صفائی کو ترجیح دیتے ہوے فری ریفریشر کورسز کے ذریعے چھوٹوں بڑوں سب کو ماحولیات کی حفاظت کرنا سکھایا جائے۔ درخت کاٹنے کی بجاے سولر انرجی استعمال کرنے اور گندگی کو دریاﺅں میں ڈالنے، گلیشیرز کو کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے اس کی ٹریننگ دیں۔موسمیاتی تبدیلی، سمندری برف، گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے پگھلاﺅ کا عمل جاری ہے، یہ وہ عناصر ہیں جن کے باعث زمین کی حدت اور سمندری سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ موسمیاتی تبدیلی موسمیاتی پیٹرن اور موسمی شدت کے واقعات سمیت بہت ساری صورتوں میں ظاہر ہوگی۔1870 سے اب تک دنیا بھر کے سمندروں کی سطح میں آٹھ انچ تک کا اضافہ ہوا ہے۔یہ تبدیلی نشیب میں واقع جزیروں کو پہلے ہی متاثر کررہی ہے۔ان جزیروں پر آباد لوگوں کی بڑی تعداد بلندی پر واقع مقامات کی جانب منتقل ہورہی ہے یا یہ لوگ دیگر ملکوں کی شہریت حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اپنی زراعت کو تحفظ دینے کے لیے کاشتکاری کے نت نئے طریقے بھی دریافت کررہے ہیں۔یہ دنیا کے انتہائی خوبصورت ممالک میں شامل ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے سیاح یہاں پہنچتے ہیں۔ قریب 1200 جزائر میں بسا یہ ملک بھارت کے جنوبی سرے سے قریب 595 کلو میٹر دور ہے۔مالدیپ جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرات کی زد میں ہے۔آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر کے ان شہروں کو بھی خطرہ لاحق ہے جو سمندری کنارے پر واقع ہیں۔ ان شہروں میں میامی، ایمسٹرڈم اور شنگھائی جیسے شہر شامل ہیں۔اس کے علاوہ خطرہ ہے کہ چھ سے لے کر دس جزائر پر آباد ممالک کا وجود بھی آب و ہوا کی تبدیلی سے ختم ہو سکتا ہے۔ بعض سائنسدانوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ سمندر کے پانی کی سطح بڑھنے کے باوجود بھی کچھ جزائر مکمل طور پر نہیں ڈوبیں گے۔ تاہم کچھ سائنسدانوں کی رائے ہے کہ ہم کتنی بھی کوششیں کیوں نہ کر لیں کچھ ممالک کا وجودمٹ جائے گا۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ کسی ملک کا وجود مٹ گیا ہو۔ اب تک ایسی صورت نہیں دیکھنے کو ملی ہے کہ جب پورے ملک کی آبادی کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہو گی، نہ تو قانونی، نہ ہی ثقافتی اور نہ ہی اقتصادی۔بنگلہ دیش، دریائے نیل کے ڈیلٹائی علاقے سمیت دیگر تمام جگہوں سے لوگوں کی بڑی تعداد کی نقل مکانی بھی دیکھنے میں آئے گی۔مائیکل گیرارڈ کا ایک خدشہ تو یہ بھی ہے کہ شام اور افریقہ میں موجودہ صورتحال میں جس طرح سے لاکھوں افراد سیاسی اور اقتصادی طور پر نقل مکانی کے بعد کیمپوں کے سخت حالات سے دوچار ہیں، جزائر اور شہروں کے سمندر برد ہونے سے پیدا ہونے والا بحران اس سے بھی شدید تر ہوگا۔ان کے مطابق یہ بحران پچاسی برسوں کے بعد ظاہر ہوگا۔ اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے مسائل پر کسی بھی طرح کا بین الاقوامی معاہدہ موجود نہیں ہے۔کرباتی ہوائی اور آسٹریلیا کے تقریبا درمیانی حصہ میں واقع ہے، اس کے بتےس جزائر نشیبی جبکہ ایک کی سطح بلند ہے۔ جب سے اس کے جزائر کو سمندر نے نگلنا شروع کیا تو اس کی زیادہ تر آبادی اس ایک جزیرے پر منتقل ہوچکی ہے۔بحر اوقیانوس میں تقریبا چونتےس لاکھ کلومیٹر کے دائرے میں پھیلے جزائر کے ملک کرباتی کے لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کرباتی جمہوریہ کے ترجمان رمون رمون کہتے ہیں سائنس تحقیق کے نتائج واضح ہیں، اگر بالفرض ترقی یافتہ ممالک کاربن گیس کا اخراج بالکل کم کر دیتے ہیں تو بھی تےس سے پےنتےس سال کے بعد ہمارا جزیرہ ڈوب جائے گا۔جب کسی ملک کا زمینی حصہ غائب ہو جائے گا، تب یہ ہمارے لیے بالکل نئی صورتحال ہوگی، لیکن ایسا بھی نہیں ہوگا کہ اس کو سنبھالا نہیں جاسکے ۔اس لےے ضروری ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے بدقسمتی سے ہم کبھی بھی بڑے نقصان سے قبل کسی مسئلے پر توجہ نہےں دےتے۔