Image

بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات تشویشناک، امریکہ

 امریکہ کے سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی راشد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ کو بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے اعلانات پر تشویش ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق راشد حسین نے امریکی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی مذہبی آزادی مباحثے میں کہا کہ غیر انسانی بیان بازی بھارتی اقلیتوں پر مظالم میں تیزی کا باعث بن رہی ہے جس سے امریکہ کے لیے ایک چیلنج پیدا ہو رہا ہے۔انہوںنے ”بھارت میں مذہبی ٓزادی ۔۔۔امریکہ کیلئے چیلنجز “ کے عنوان سے ایک مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت میںمسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے عام مطالبات سنے، مسلمانوں کے گھروں کو مسمار ہوتے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ یو ایس ہولوکاسٹ میوزیم نے دنیا میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے خطرے میں بھارت کو دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ راشد حسین نے کہا کہ بھارت میں کھلے عام کی جانے والی بیان بازی اس حد تک غیر انسانی ہے کہ ایک وزیر نے مسلمانوں کو دیمک قرار دیا۔ اگرچہ حسین نے بھارتی وزیر کا نام نہیں لیا لیکن ان کا حوالہ واضح طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف تھا۔ امیت شاہ نے تین برس پہلے ایک ریلی میں کہا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن دیمک ہیں جنہیں سمندر میں عرق کرنا چاہیے۔حسین نے شہریت ترمیمی قانون کا بھی حوالہ دیا، جو بھارتی پارلیمنٹ نے 2019 میں منظور کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت میں متعدد مذہبی برادریوں کے بارے میں فکر مند ہے اور ہمیں تمام لوگوں کے حقوق کو محفوظ بنانا ہوگا۔