Image

ہم بے وقوف بننے کیلئے تیار ہیں

ساجد علی شمس
سنا ہے ایک دن میں عمران خان صاحب تین،تین جلسے کررہے ہیں جبکہ محترمہ مریم نواز صاحبہ بھی دو،دو جلسے تو کر ہی رہی ہیں۔دونوں کے جلسوں میں عوام پاکستان بھرپور طریقے سے ان کو سرخرو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اگر عمران خان کے جلسوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام چار سال تک اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو ایک دم بھول چکی ہے اور جو وہ لوگ قطاروں میں لگ کر چیزیں خریدتے تھے وہ سب پس پشت ڈال چکے  ہیں۔خان صاحب آج کل اپنے دور حکومت میں ہونے والی نام نہاد ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بھرپور جسارت کررہے ہیں لیکن شاید وہ بھول چکے ہیں کہ انہی کے دور حکومت میں چینی کا بحران آیا،آٹے کا بحران آیا،کھاد کا بحران آیا،پٹرول کا بحران آیا،ادویات مافیا نے جنم لیا،ماسک مافیا انہی کے دور حکومت میں پیدا ہوئے،رنگ روڑ سکینڈل بھی انہی کے دور حکومت کا طرہ امتیاز ہے،پینڈورا پیپرز میں انہی کے وزرا کا نام زیر گردش تھا،جس کو اس وقت کے وزیر داخلہ اور کرپشن کے خلاف جنگ کرنے میں سر فہرست شیخ رشید صاحب کہہ چکے ہیں کہ پینڈورا پیپرز ٹائیں ٹائیں فش ہے لیکن ان کے کسی بھی مجرم کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی۔وہ وقت، شاید ہماری بے حس عوام بھول چکی ہے کہ جب آٹے کے حصول کیلئے سارا دن لائنوں میں لگنا پڑتا تھا لیکن آٹا نہیں ملتا تھا،باریک چینی بلیک میں فروخت ہوا کرتی تھی،کھاد منہ مانگے داموں میں فروخت ہوا کرتی تھی اور بہت ہی مشکل دستیاب تھی،اس بندہ ناچیز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ کھاد کے بڑے بڑے ٹریڈرز پر صبح پانچ بجے پہنچ جایا کرتے تھے لیکن شام سات بجے تک انتظار کرنے کے بعد بھی ایک بوری وہ بھی بلیک میں خرید کر گھروں کو جایا کرتے تھے۔ایک کلو چینی کے عوض سارا دن سڑکوں پر دھکے کھانے والی ماں،بہنوں اور بیٹیوں کا کیا قصور تھا۔آٹا نہ ملنے کے باعث جس طرح بھوک اور افلاس نے جنم لیا وہ خان صاحب کیلئے سوچنے کا مقام ہے۔آج کل خان صاحب کسانوں کی ترقی کی بات کررہے ہیں لیکن شاید خان صاحب کو معلوم نہیں کہ جتنا ظلم ان کے دور حکومت میں کسانوں کے ساتھ ہوا شاید ہی کسی کے دور حکومت میں ان کے ساتھ ہوا ہو اور کسان جتنے بلیک میل ان کے دور حکومت میں ہوئے شاید ہی کسی کے دور حکومت میں ہوئے ہوں۔آج خان صاحب عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے سازش کا سہارا تو لے رہے ہیں لیکن اس وقت یہ نہیں بتا رہے تھے کہ سازش کس نے کی؟ جب انہوں نے اپنی سازش والی پہلی تقریر میں امریکا کا نام لے کر کہا،نہیں۔۔۔امریکا نے سازش نہیں کی،کوئی اور ملک تھا۔آج خان صاحب اپنی ہر تقریر میں اسی بات کو بتا رہے ہیں کہ امریکی سازش کے تحت حکومت کو بدلا گیا لیکن پی ڈی ایم نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔عوام پاکستان شش و پنج میں مبتلا ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے پاس گئی،ان سے سوال کیا کہ کیا یہ کوئی سازش ہوئی ہے؟انہوں نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی اور نہ ہی سازش کے کوئی ثبوت ملے ہیں۔عدالت عظمی نے بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو اپنے تفصیلی فیصلے میں غیر آئینی قرار دیا اور فیصلے میں لکھا کہ سازش کے الزام میں کوئی صداقت نہیں جبکہ اس بات میں صداقت ہے کہ وزیراعظم،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے آئین سے انحراف کیا اور اس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے کہ یہ آرٹیکل چھ کے مرتکب ہوئے ہیں یا نہیں لیکن خان صاحب اس کے بعد بھی سازش،سازش کا رونا رو رہے ہیں اور اپنی ایک ہی بات پر قائم ہیں کہ سازش ہوئی ہے۔دوسری جانب عدالت سے سزا یافتہ محترمہ نون لیگ کی الیکشن کمپین چلانے میں پیش پیش ہیں اور عوام پاکستان کو بتانے کی کوشش کررہی ہیں کہ کرپشن کیا ہوتی ہے اور کس کس نے کیسے کیسے کرپشن کی؟غضب خدا کا اس ملک میں سیلاب اور زلزلے نہ آئیں تو اور کیا ہو کہ ملک کو لوٹ لوٹ کر کنگال کرنے والے نام نہاد سیاستدان کرپشن پر لیکچر دینے لگ جائیں۔عوام پاکستان ہر پانچ سال بعد بیوقوف بننے کیلئے تیار ہوتی ہے۔کرپٹ سیاست دانوں کو ایوان اقتدار میں پہنچانے میں جتنا کردار عوام پاکستان کا ہے شاید ہی کسی اور کا ہو لیکن پانچ سال تک دھکے کھانے کے بعد بھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔اندرون ملک اور بیرون ملک محلات میں گزر بسر کرنے والے حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا بڑا ہی دکھ ہے لیکن عوام پر اپنا ایک بھی روپیہ لگانے کو تیار نہیں۔امریکا،لندن،دبئی،بھارت اور دیگر ممالک میں بلیک منی سے جائیدادیں بنانے والے اگر اپنا آدھا پیسہ بھی پاکستان میں لے آئیں تو پاکستان کے تمام قرضے دور ہو جائیں گے کیونکہ اس دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے کرائمز ہوتے ہیں سب بلیک منی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔سارے فساد کی جڑ پیسہ ہے،سبھی ناجائز کاموں کی وجہ بھی یہی ہے۔چور،لٹیرے،گورنمنٹ کو خریدنے والے کاروباری لوگ،بڑے بڑے سیاستدان،ان سب کا وجود،ان سب کے پاس آنے والی وہ بے ایمانی کی کمائی ہے جو ان کو کسی بھی غریب کا خون چوسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔اس ملک میں امیر کے کالے دھن کا ایک بڑا حصہ غریبوں میں بانٹ دیں گے تو ایک بڑی پرابلم حل ہو جائے گی لیکن کوئی ایسا کیوں کرنا چاہے گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ عوام پاکستان مسائل کو حل کروانے کیلئے مخلص ہی نہیں ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اتنا ظلم سہنے کے بعد بھی انہی لوگوں کی سپورٹ کرنا جو آپ کو کئی بار دھوکہ دے چکے ہیں،ان کی خاطر اپنے عزیزوں سے تلخ کلامی کرنا،ایسا رویہ ہمیں کبھی بھی آگے بڑھنے نہیں دے گا۔۔۔سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں شامل لوگوں کے جذبے اور جنون سے ثابت ہو رہا ہے کہ ہم بیوقوف بننے کیلئے تیار ہیں،آپ جس طرح کی مرضی تقریر کریں،جس طرح کا مرضی رویہ ہمارے ساتھ اپنائیں،مہنگائی اور بیروزگاری میں جس طرح مرضی اضافہ کردیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،کیونکہ ہم بیوقوف بننے کے لئے تیار ہیں،اور ہمیشہ سے بنتے ہی آرہے ہیں۔اس بار بھی بن گئے تو کیا قیامت آ جائے گی؟