Image

جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا

جاوید جمال الدین

مہاراشٹر میں رات کے اندھیرے میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو مہرہ بن کر ایک بار پھرایساسیاسی کھیل کھیلاگیا،جیسا تقریبا ڈھائی سال پہلے کھیلاگیاتھا،جب راتوں رات گورنر صاحب نے بی جے پی کے دیویندر فڈنویس اور اجیت پوار کو بالترتیب وزیراعلی اور نائب وزیراعلی کے عہدے اور رازداری کاحلف دلایا،اور انجام دوتین دن میں دونوں کو اقتدار سے بے دخل کردیاگیا،اب ایکناتھ شندے کو وزیراعلی اور فڈنویس کو نائب وزیراعلی مقرر کردیا گیاہے،پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی ذرائع ابلاغ یا سیاسی جماعتوں کو پوچھنے کی ہمت نہیں ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی ایم وی اے حکومت کے ہٹنے کے بعد شری مانیاور کوشیاری جی نے کس بنیاد پر یہ فیصلہ لیا ؟جبکہ سبھی واقف ہیں کہ معاملہ عدالت عظمی میں زیر سماعت بھی ہے۔حالانکہ مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل سے دوچار روز پہلے ہی جناب کوویڈ19مثبت پائے گئے اور اسپتال داخل ہوئے لیکن شندے کی بغاوت کے سر بلند ہوئے،جناب اعلی راج بھون پہنچ گئے اور صحت مندی کا اعلامیہ بھی جاری کردیاگیا،اس پورے اےپی سوڈ میں گورنر صاحب خوش وخرم نظرآئے،انکے چہرے پر کہیں بھی علالت کی علامت نہیں نظرآئی ۔مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل فی الحال کم نہیں ہوئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایکناتھ شندے کے وزیراعلی بن جانے کے بعد سیاسی طوفان تھما نہیں ہے ۔دورکنی شندے اور فڈنویس حکومت نے مرکزی حکومت اور گورنر کوشیاری کی مدد سے پوری طاقت لگادی ہے کہ شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ کو انجام تک پہنچادیا جائے ،یہی وجہ ہے کہ شندے کے اثر ورسوخ والے علاقوں تھانے اور نوی ممبئی میں روزانہ بغاوت کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔حالانکہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیراعلی ایکناتھ شندے نے اعلان کردیا تھا کہ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ہیں لیکن اپنی ہی پارٹی شیوسینا کے خلاف کارروائیاں تھمی نہیں ہیں اور بی جے پی کے اشارے پر وہ آپ ہی مادری جماعت کو قصہ پارینہ بنانے کے چکر میں ہیں اور اس لیے بی جے پی نے انہیں حکومت کی باگ ڈور سونپی دی ہے تاکہ اپنی بندوق کے لیے وہ شندے اور ان کے حامیوں کے کندھے کااستعمال کرتی رہے ۔فی الوقت شیوسینا نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے شندے حکومت کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے رجوع کیاہے۔جبکہ اسمبلی میں بھی شندے کے اتحادنے چیف وہپ نے اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر سے درخواست کی ہے کہ شیو سینا کے تقریبا دودرجن اراکین کی رکنیت منسوخ کردیں۔ اس کا جواز انہوں نے یہ پیش کیا ہے کہ شندے ایم ایل ایز کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے ۔حالانکہ اس سے قبل اسپیکر کے الیکشن اور اعتماد کے ووٹ کے لیے رجوع کیاتھا،پھر بھی انہوں نے مہا وکاس اگھاڑی کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا، اس لیے تمام ایم ایل اے کی رکنیت منسوخ ہونی جانی چاہیے۔شیوسینا میں بغاوت کے بعد15ایم ایل اے ہی رہ گئے ہیں ۔اگر رکنیت ختم کی جاتی ہے تو شیوسینا کا برا حشرہو سکتاہے ۔ایکناتھ شندے کے وزیراعلی بننے کے بارے میں سب سبھی اچھی طرح اس بات سے واقف ہوچکے ہیں کہ مذکورہ بغاوت کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کارفرما ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں بلکہ محض ڈھائی سال قبل شیو سینا کی ضدنے اقتدار سے بی جے پی بے دخل ہوگئی اور مہاراشٹر میں مہاراشٹروکاس اگھاڑی کی حکومت تشکیل دی گئی ،لیکن حیرت انگیز طورپر جو بی جے پی نے شیوسینا کو بڑا بھائی بننے نہیں دیا وہ سیاسی مصلحت کے تحت چھوٹا بھائی بننا قبول کر لیا ہے ،؟یہی وجہ ہے کہ ان کے اس غیر اخلاقی اتحاد اور موقع پرستی نے مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کی حکومت کو ہی اکھاڑ پھینکا ہے اور ایکناتھ شندے کے سہارے ہی اسمبلی سے شیوسینا کے خاتمہ کے لیے سرگرمیاں بڑھادی ہیں ۔یہی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ شندے ۔فڈنویس حکومت کاجکد خاتمہ ہوجائے گااور اس فہرست میں این سی پی کے سربراہ شردپوار پیش پیش ہیں ۔انہوں نے شندے سرکار محض چھ مہینے دیئے ہیں۔جو بھی موجودہ حکومت کی تشکیل کے طریقے سے ناراض ہیں ،وہ اس قسم کے اندازے اور قیاس لگارہے ہیں۔ادھو ٹھاکرے کے خلاف یہ شیوسینا کی سب سے بڑی بغاوت کہی جاسکتی ہے،جس پر ڈرانے دھمکانے اور انفورسمنٹ ڈائرےکٹوریٹ (ای ڈی)کے خوف کا الزام لگا یا جارہا ہے ۔دوسرا خوف ان ایم ایل ایز کو شیوسینکوں سے بھی ہے اور موجودہ صورتحال سے وہ مطمئن نہیں ہیںکیوںکہ اب تک کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے۔کابینہ تشکیل کے بعد اس بے چینی وناراضگی میں مزید اضافہ کاامکان ہے۔اب تو معمولی معمولی بات پر عدم اطمینان پیدا ہوگا۔ادھو ٹھاکرے اور ان کے معاونین وقتہ طورپر ششدر ضرور ہوئے لیکن بالکل خاموش نہیں بیٹھے ہیں۔ان کی طرف سے جوڑتوڑ نہیں بلکہ حکمت عملی کے ساتھ سرگرمیاں جاری ہوں گی۔ باغی ارکان کی بے اطمینانی کافائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنی اصل پارٹی میں واپس لانے کی بھر پور کوشش کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ ادھوٹھاکرے اور شردپوار ہی نہیں بلکہ سیاسی پنڈت بھی مہاراشٹر میں وسط مدتی انتخاب کیلئے عوام کو تیار ہوجانے کااشارہ برابر دے رہے ہیں۔لیڈران ہی بلکہ عوام میں حکومت کی تشکیل موضوع بحث ہے کہ ادھو ٹھاکر ے کی حکومت کو سیاسی جوڑتوڑ کے ساتھ ساتھ پیسے، ای ڈی اور سی بی آئی زور پر گرایا گیا ہے اور اسے ایک غیر اخلاقی اورغیر جمہوری حکومت کہہ سکتے ہیں،خود اپنے بوجھ تلے کب دب جائے پتہ بھی نہیں چلے گا۔پہلے بھی اس بات کاذکر کیا جاچکا ہے اس کا کوئی اخلاقی کردار نہیں ہے،مہاراشٹر پر قبضہ کیلئے بی جے پی نے ناراض اراکین کوبغاوت کے لیے تیار کیاگیا،اس کاطور طریقہ غیراخلاقی ہے اور شیوسینا کے باغی ارکان اسمبلی کوسورت اور آسام،پھر گوا لیجانا اور دولت کی ریل پیل کا نظارہ سیاست کی گراوٹ کو پیش کرتاہے۔یہی کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی یہی ہوا ہے۔اس طرح عوامی فیصلے کے خلاف قدم اٹھایا گیا ،جو جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے لیکن اس حکومت کے قیام کے لیے جس طرح غیر اخلاقی اور غیر جمہوری طریقہ اپنایا گیا،اسی اندازمیں حکومت کو بچایا جائے گا کیونکہ پہلے تو گورنر بھگت جی کوشیاری کا نرم گوشہ ہے،جوراتوں رات بی جے پی اپوزیشن لیڈر فڈنویس کے ایک مکتوب پر فلور ٹیسٹ کا حکم دے دیا ،بقول ادھو ٹھاکرے موصوف نے گزشتہ دوسال سے گیارہ ایم ایل سی کی نامزدگی کے لیے کئی بار بھیجی گئی ان کی فہرست پرغور کرنا بھی غور کرنا بھی پسند نہیں کیا لیکن ان کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن لیڈر کے خط پر چند گھنٹوں میں عمل کردیا اور یہ بھی تشویش ناک امر ہے کہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر شندے اور فڈنویس کو اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائی جوکہ شردپوار کو بھی ناگوار گزراہے۔ ایک گورنر کو ہمیشہ غیر جانبداررہنا چاہئیے،مگر کوشیاری جی ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ لرزش ان سے دوسری بار ہوئی ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ شندے حکومت جلد یا بدیر گرجائے گی ایک خام خیالی ہے،کیونکہ راج بھون اور سپریم کورٹ کا جو رویہ ہے ،اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اطمینان رکھیں ، یہی سب، آئندہ دوڈھائی سال تک جاری وساری رہیگا۔البتہ اکتوبر‘نومبر میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج تصویر کے رنگوں میں کچھ حد تک بدلاولے آئیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کوشیاری نے پھرایک بار جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔