Image

سیاحت کےلئے ہوم سٹے اور ویلیج ڈویلپمنٹ پر پیش رفت

جی بی آر ایس پی کے اعلی حکام نے وزیراعلی خالد خورشید کو سیاحت کی منظم انداز میں ترقی کے لئے شروع کئے گئے خصوصی منصوبہ جات ہوم سٹے اور ویلیج ڈویلپمنٹ پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعلی خالد خورشید نے کہا کہ چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق گلگت بلتستان کے سیاحتی شعبے کی منظم انداز میں ترقی ہماری حکومت کا اولین ہدف ہے۔ اس کے لئے ہم نے گلگت بلتستان کے دیہات اور قصبوں کی جامع منصوبہ بندی کے ساتھ منظم انداز میں ترقی کے لئے ویلیج ڈیویلپمنٹ کا خصوصی ترقیاتی منصوبہ منظور کیا۔ اس کے ساتھ اہم سیاحتی مقامات کی مربوط انداز میں ترقی اور مقامی لوگوں کے لئے سیاحتی شعبے میں معاشی مواقع پیدا کرنے کے لئے ہوم سٹے کا اہم منصوبہ شروع کیا۔ وزیراعلی نے جی بی آر ایس پی اور متعلقہ حکام کو ان دونوں منصوبہ جات پر عملدرآمد میں تیزی لانے کا حکم دیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ اس حوالے سے تاخیر قابل قبول نہیں۔گلگت بلتستان کا مستقبل شعبہ سیاحت کی بھرپور ترقی میں ہے۔ ہماری حکومت شعبہ سیاحت کی صنعتی سطح پر ترقی دینے کے لئے پرعزم ہے۔سےاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پےش نظر ہوم سٹے اےک اچھا منصوبہ ہے جس سے روزگار کے ذرائع پےدا ہونے کے علاوہ سےاحوں کو بھی سہولےات دستےاب ہوں گی۔مقبوضہ وادی کشمیر میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر وہاں انتظامیہ ہوم سٹے اقدام کے ذریعے رہائش کی بڑھتی ہوئی مانگ کیلئے پچاس ہزار کمروں کی دستیابی کیلئے کوشش کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق سیاحوں کی اس زبردست آمد کے فوائد سبھی ، خاص طور پر مختلف سیاحتی مقامات کے مقامی لوگوں کو حاصل ہونے چاہئیں ۔سیاحوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے سہولیات کو پورا کرنے کیلئے یو ٹی انتظامیہ مختلف سیاحتی مقامات پر مقامی آبادی کی حوصلہ افزائی ، رہنمائی اور مدد کر رہی ہے ۔جموں و کشمیر سے باہر کے بہت سے لوگ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور ہوم سٹے اقدام ان کو اس خوبصورت جگہ کا دورہ کرنے کا مثبت پیغام دے گا ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے بھی ایک ماہ میں یبر پختونخوا ٹوارزم اتھارٹی کو مکمل فعال بنانے کی سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جامع انٹگریٹڈ ٹوارزم پلان کو حتمی شکل دینے، محکمہ سیاحت میں کنسلٹنٹس کی جگہ ٹورازم ایکسپرٹ ہائیر کرنے، ہر تحصیل میں ایک پلے گراﺅنڈ کے قیام، کلچرل ری وائیول پلان پر کام شروع کرنے، سیاحتی مقامات میں فوڈ سٹریٹس، کالام ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام شروع کرنے، سیاحتی مقامات میں اسی سیزن ہوم سٹے منصوبہ بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے، تمام ریسٹ ہاﺅسز کی آﺅٹ سورسنگ، سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز،15 ایکسز روڈ کی فیزبیلٹی،سیاحتی مقامات میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ و صفائی کی سختی سے ہدایت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات جیسے کہ جھیل سیف الملوک، ماہو ڈنڈ، خانپور ڈیم، کمراٹ وغیر ہ میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ، جیپ و دیگر گاڑیوں اور ورکشاپس کیلئے ان سیاحتی مقامات سے موزوں فاصلے پر جگہ کا تعین عمل میں لایا جائے تاکہ سیاحتی مقامات پر ماحول کو سیاحوں کیلئے صاف ستھرا رکھاجاسکے۔ وہاں ریسٹ ہاﺅسز کی آﺅٹ سورسنگ اور سیاحتی مقامات میں ہوم سٹے پراجیکٹ کو فعال بنایا گےا ۔ کیمپنگ گراﺅنڈز کیلئے متعلقہ کمشنرز کی مشاورت سے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ہم جانتے ہےں کہ سیاحت معاشی پیداوار کا باعث بھی ہوتی ہے۔ یہ محصول اکھٹا کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ سیاحت میں چھپے ممکنہ فوائد کا محض اسی وقت مکمل ادراک ہوسکتا ہے جب اس کے ڈھانچے میں موجود رکاوٹوں سے پوری طرح نمٹ لیا جائے۔ پاکستان میں حکام کو محفوظ اور پائیدار سیاحت کو یقینی بنانے کے لیے ویزہ پالیسیوں میں نرمی، سیاحتی مواقعوں میں اضافے کیلئے تربیت متعارف کرنے اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے کام کرنا ہوگا۔سیاحت، پاکستان کی ثقافتی رنگینی اور اس کی بہتر ہوتی سلامتی صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانے میں مدد دیتی ہے۔ کوہ پیمائی میں پیش آنے والا اےک واقعہ اگرچہ اندوہناک تھا تاہم اس نے پاکستان کا بین الاقوامی تشخص اجاگر کیا۔ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دو غیرملکی کوہ پیماﺅں کی کے ٹو سر کرتے ہوئے گمشدگی کی خبر سے انٹرنیٹ بھر گیا۔ بین الاقوامی کوہ پیماﺅں جیسا کہ منگما شرپا نے سدپارہ کو دنیا کا بہترین پاکستانی کوہ پیما قرار دیا اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے ٹوئٹ کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستان نے سدپارہ کو ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا، ایسے میں اس واقعے نے بطور پرکشش سیاحتی مقام پاکستان کے تشخص کو بڑھاوا دینے میں مدد دی۔ےوں سد پارہ نے قربانی دے کر پاکستان کا وقار بلند کر دےا۔کوہ پیمائی کے علاوہ مذہبی سیاحت بھی پاکستان کے لیے اپنی عالمی شہرت بہتر بنانے میں محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال بھارت میں مقیم سکھ برادری کے لیے کرتارپور راہداری کا کھولے جانا ہے تاکہ وہ اپنے مقدس ترین مقامات میں سے ایک اور پاکستان میں واقع گرونانک کے گردوارہ دربارہ صاحب آسکیں۔مذہبی سیاحت، رائے عامہ میں تبدیلی کے علاوہ مشترکہ ثقافتی ورثے کے لیے وسعت قلبی کی عکاسی کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو بھی بہتر بناتی ہے۔ سیاحت کے ذریعے سفارتی تعلقات کو گہرا بنانے کا عمل متحد اور ترقی کرتے پاکستان کے تشخص کو بڑھاوا دینے میں سیاحت کے کردار کو دوچند کردیتا ہے۔ تیزی سے پھلتی پھولتی سیاحت غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کے ذریعے نوکریوں اور محصولات میں اضافے کا روپ دھارتی ہے۔یہ پھلتی پھولتی معاشی سرگرمی خطے میں اجناس اور خدمات پر بھی اسی تناسب سے اثرانداز ہوئی ہے۔ خاص کر شمالی پاکستان کے سیاحتی مقامات جہاں مقامی سطح پر ریونیو کا انحصار سیاحتی سرگرمیوں پر ہے، اس کے حوالے سے یہ خاص کر اہمیت رکھتا ہے۔روزگار فراہم کرنے کا عمل بلاشبہ معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ کرتارپور راہداری کے افتتاح سے قبل مرمتی کام کے لیے سینکڑوں مزدور بھرتی کیے گئے۔ جس مقام پر سرگرمی جاری ہو وہاں مقامی آبادی کے لیے مستقل روزگار کے موقع پیدا ہوتے ہیں۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں سامان اٹھانے والے مزدوروں کی نوکریاں مقامی آبادی کے لیے مدد دیتی ہیں، خاص کر ایسے میں کہ جب شمالی پاکستان میں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ان سب کے علاوہ سیاحت کے ذریعے پاکستان میں محفوظ مواقعوں کی تشہیر غیرملکی سرمایہ داروں کے سامنے مثبت تشخص کو فروغ دیتی ہے۔ غیرملکی سرمایہ دار پاکستان میں سلامتی کی ابتر صورتحال اور سرکاری سطح پر دہشتگردی کی حمایت کی شہرت رکھنے کے سبب عرصے سے یہاں سرمایہ کاری میں ہچکچاتے رہے ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ حاصل کرنے میں اگرچہ آزمائشوں کا لامتناہی سلسلہ درپیش ہے جس میں کاروباری ماحول اور ٹیکسوں کی صورتحال شامل ہیں، تاہم سلامتی کے اعتبار سے محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے طویل سفر میں ایک قدم ہوسکتا ہے۔ سیاحت جہاں پاکستان کا تشخص نئے سرے سے بیان کرنے اور معاشی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ ہوسکتی ہے، وہیں بعض ادارہ جاتی رکاوٹیں ایسی ہیں جن سے اگر نہ نمٹا گیا تو یہ پاکستان کی شہرت کو متاثر کرسکتی ہیں۔ بہت سارے مزدور پہاڑ سر کرنے کے لیے موزوں لباس یا پہاڑوں پر چڑھنے کی پیشہ وارانہ تربیت کے بغیر ہی خطرناک چوٹیوں پر چڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے جہاں غیرملکی سیاحوں کے لیے ویزہ پالیسیوں میں نرمی کی ہے، وہیں کوہ پیمائی کے ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ غیرملکیوں کے لیے کوہ پیمائی کا اجازت نامہ حاصل کرنا اب بھی بے حد طویل وقت لینے والا مرحلہ ہے۔اگر ہم مقامی آبادی کے لیے نوکریوں کے بہتر مواقع اور اپنے بین الاقوامی تشخص کو بہتر بنانے کیلئے کوہ پیمائی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہےں تو اسے سب سے پہلے ویزے اور تربیت کے لیے پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ مثال کے طور پر سیاحت کے بارے میں مقامی سطح پرماہرانہ تربیت سیاحتی شعبے میں وسعت کے لیے درکار پیشگی شرائط کو یقینی بنائے ۔ ویزہ پالیسیوں میں نرمی مزید کوہ پیماﺅں کو پاکستان آنے کا موقع دے گی اور جوابا یہ غیرملکیوں کی رائے کو تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔ اگر مناسب تربیتی منصوبے موجود ہوں تو ایسے میں پاکستان مقامی و غیرملکی کوہ پیماﺅں کے لیے غیرسرشدہ چوٹیوں کے لیے مہمات کی میزبانی کے ذریعے کوہ پیمائی سے جڑی سیاحت کو وسعت دے سکتا ہے نیز کوہ پیمائی کے مرکز کی حیثیت سے ملک کو شہرت دلوا سکتا ہے۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان میں سےاحوں کو سہولےات کی فراہمی اور مقامی سطح پر روزگار کے ذرائع پےدا کرنے کی سعی کی جائے۔