Image

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت

گلگت کے علاقے یادگار چوک پر دو گروپوں میں تصادم اور رات گئے تک شہر کے وسطی علاقے میں فائرنگ کے مزید واقعات میں ایک گروپ کے دوافراد جاں بحق اور دونوں گروپوں کے مجموعی طور پر سترہ افراد زخمی ہوگئے۔واقعہ ہفتہ کی شام چھے بجے شہر کے علاقے یادگار چوک پر اس وقت پیش آیا۔جب آغا راحت حسین الحسینی کی قیادت میں علم کشائی کی غرض سے خومر کی طرف جانے والی ریلی کے بعض شرکااور یادگار چوک پر موجود چند افراد کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑے کے دوران اچانک فائرنگ اور جوابی فائرنگ شروع ہوگئی۔جس کے نتیجے میں دوافراد معمولی زخمی ہوئے۔تاہم آغا راحت حسین الحسینی ریلی سمیت خومر چوک پہنچے اور وہاں پر علم کشائی کی۔اسی دوران دونوں گروپوں کے افراد ایک بار پھر یادگار چوک اور خومر چوک سے نعرہ بازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگے۔صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گلگت اسامہ مجید اور ایس ایس پی شہباز الہی پولیس کی بھاری نفری سمیت یادگار چوک پر پہنچے اور براہ راست تصادم کو تو روکنے میں کامیاب ہوئے مگر اسی اثنا میں دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر خود کار ہتھیاروں سے براہ راست فائرنگ شروع کردی۔جسکے نتیجے میں دونوں گروپوں کے مجموعی طور پر دس افراد زخمی ہوگئے جن میں سے سات زخمیوں کو پی ایچ کیوہسپتال لے جایا گیا جہاں دوافراد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔جبکہ تین زخمیوں کو سٹی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ہسپتال ذرائع کے مطابق تینوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔صورتحال کے باعث شہر کشیدگی کی لپیٹ میں آگیا۔دونوں گروپوں کے مابین تصادم اور بعد ازاں ہونے والی فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے تمام بازار،دکانیں،ہوٹل،مارکیٹیں اور کاروباری وتجارتی مراکز بند ہوگئے اور پورا شہر مکمل طور پر سنسان ہوگیا ۔دریں اثناء وزیر اعلی گلگت بلتستان کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کمانڈر ایف سی این اے، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ہوم سیکرٹری، ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکانے گلگت میں فائرنگ کے افسوس ناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرپسندوں کو فوری طور پر پکڑا جائے گا اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ،اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ شرپسندوں کو اس واقعے کو فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جی بی کے امن کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں جی بی کے شہریوں سے درخواست کی گئی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں پر اعتبار نہ کریں اور جعلی خبروں پر بھروسہ نہ کریں۔سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کو گرفتار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ گلگت بلتستان کے دیگر حصوں میں حکومتی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ محرم کے اس مقدس مہینے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کو روکیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے گلگت میں فائرنگ کے واقعات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت شرپسندوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی، خالد خورشید نے کہا کہ جو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ گلگت بلتستان کا پر امن ماحول ہی یہاں کی تعمیر ترقی کا اصل ضامن ہے ہم گلگت بلتستان کے امن کو کسی صورت خراب ہونے نہیں دینگے اس حوالے سے ہمیں جتنے سخت فیصلے کرنے ہونگے وہ ہم فوری کر یں گے،علماسمیت ہم سب کا فرض ہے کہ امن کو یقینی بنائیں۔چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین احمد وانی کا کہنا ہے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں اور اس واقعے ملوث افراد کو گرفتارکرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔ قیام امن کے لئے حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔محرم الحرام کی آمد کے موقع پر بدامنی کے حالیہ واقعات یقینا تشویشناک ہیں حکام بالا کو شرپسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے جو ایک بار پھر گلگت بلتستان کے امن کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ یہاں مختلف مسالک کے درمیان آپس کا اتحاد واتفاق معاشرتی زندگی کو خوبصورت بناتا ہے،ایسی نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ مہم کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے جو امن کی دشمن ہے 'مذہبی رہنمائوں کو محبت اور پیغام امن عام کرنا چاہئے تاکہ کوئی بھی اس سرزمین کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعما ل نہ کرسکے۔ہر شہری کی عزت اور اس کی سلامتی جمہوری معاشرہ کا بنیادی محور ہے۔رصغیر میں فرقہ واریت برسوں سے چل رہی ہے، لیکن ماضی میں یہ اختلافات پرامن طریقے سے حل ہو جاتے تھے اور بڑے پیمانے پر کبھی نہیں پھیلتے تھے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اب اس میں تشدد کا عنصر کیوں آ گیا ہے۔ جب ایک دفعہ شدت کا عنصر آیا تو اس پر بری مشکل سے قابو پایا گیا ہمارے ہاں  بہت سارے فرقہ وارانہ گروپ ایک موقع کی تلاش میں رہتے ہیں  کہ انہیں جگہ ملے اور وہ اپنے نیٹ ورک کو فعال بنا سکیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے کافی عرصہ سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس میں بھارت کے مذموم عزائم کے حوالے سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔پہلے تو بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن اس نے  نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے۔ بھارت کے پاکستان،افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط، سر پرستی اور ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔اس سے پہلے  بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن اب یہ تبدیل ہو رہا ہے، داعش کو استعمال کر کے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے۔ تمام مذہبی رہنمائوں اور علما کرام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد امت کو فروغ دینے کے لئے تمام کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی تاکہ دشمن کو اس محاذ پر بھی عبرتناک شکست ہو۔ حکومت کو ایسی راہ نکالنی ہو گی کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے مل جل کے بیٹھیں اور جو گروہ کشیدہ صورتحال پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہیں یہ بات باور کرائی جائے کہ پاکستان ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بڑے عرصہ بعد خطے میں سیاحت فروغ پا رہی ہے جسے تباہ کرنے کی اس سازش کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے بطور ریاست مذہبی انتہا پسندی او ربالخصوص مذہبی منافرت یا فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے کچھ بڑے اقدامات اٹھائے، ان میں بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان سمیت پیغام پاکستان جیسی اہم دستاویزات تھیں۔یہ دونوں اہم دستاویزات عملی طور پر انتہا پسندی اور مذہبی فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ایک قومی نصاب یا کنجی کی حیثیت رکھتی تھیں ۔26مئی 2017کو ریاست پاکستان نے ممتاز اور جید علمائے کرام کی مدد سے دہشت گردی ، شدت پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف ایک متفقہ فتوی اور متفقہ اعلامیہ جاری کیا ۔ اس وقت کے صدر مملکت ممنون حسین کی قیادت میں جاری ہونے والا یہ بیانیہ عملا ایک قومی او رمذہبی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ علما ہر قسم کی خون ریزی اور دہشت گردی کے خلاف ہیں ۔ یہ متفقہ فتوی او ر اعلامیہ آگے چل کر قومی بیانیہ پیغام پاکستان کا حصہ بنا۔ عملی طور پر ریاست پاکستان ، حکمران طبقات، علمائے کرام ، مذہبی جماعتوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے جڑے فریقین کو اس قومی بیانیے پر جو مشترکہ جدوجہد او رکوشش کرنی چاہئے تھی اس کا بڑا فقدان نظر آتا ہے ۔ ایک بڑی وجہ ملک میں سیاسی محاذ پر بڑی محاذ آرائی اور سیاسی تقسیم سمیت حکومت او رحزب اختلاف میں بد اعتمادی کی فضا ہے ۔جس کام کے لئے ایک بڑی قیادت پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت، چاہے وہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف میں ہونی چاہئے تھی اس کا واضح فقدان نظر آتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر ہمیں قومی سطح پر فرقہ واریت کا کھیل دوبارہ مسائل یا شدت پیدا کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ ایک بار پھر ریاست اور خود حکومت بھی فرقہ واریت کی حالیہ لہر سے پریشان نظر آتی ہے ۔پاکستان میں اس اہم قومی بیانیے یعنی پیغام پاکستان کے بارے میں لوگوں کا سیاسی ، سماجی او رمذہبی شعور بہت کم ہے اور ان کو اندازہ یا معلومات ہی نہیں کہ اہم دستاویز کیا ہے اورہمیں کیسے اس کو موثر بنانا ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ایجنڈے یا ان کی سیاسی ترجیحات میں بھی پیغام پاکستان بہت پیچھے نظر آتا ہے ۔ اس پیغامِ پاکستان کے پھیلائو یا اس بیانیے کو ایک بڑی سیاسی و مذہبی تحریک میں بدلنے میں ہم وہ کچھ نہیں کرسکے جو قومی ضرورت بنتا تھا ۔