Image

امن وامان اورعلماء کرام کی ذمہ داریاں

گلگت بلتستان کے تمام مسالک کے علمائے کرام نے گلگت میں پیش آنے والے واقعہ کو گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں'حکومت شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔امن سب کی ضرورت ہے 'گلگت بلتستان کسی بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور قومی یکجہتی کا فقدان ہے۔ ہر طرف مفادات کی جنگ ہے۔ تصحیح کے پردے میں تخریب کی کوششیں عروج پر ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی باہمی کشمکش نے بھی ملک میں بدامنی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش نے امن کی حسین پری کو پاکستانی عوام سے متنفر کردیا ہے، ملک کی اشرافیہ نے غریبوں کے استحصال اور مہنگائی کے عفریت نے باہمی نفرتوں کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ ہر طبقہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے سرگرداں ہے، ہر شخص اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے، ملک کے اجتماعی مفاد، اجتماعی ترقی اور قیام امن کیلئے سوچنے کو کوئی تیار نہیں۔ اس وقت ملک میں قیام امن کے حوالے سے ہمیں بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔ ناخواندگی عروج پر ہے، سیاسی شعور کا فقدان، مطلق العنان حکومتیں، مخصوص طبقے کا سیاسی تسلط، نسلی و لسانی اختلافات، معاشی پسماندگی، تہذیبی وثقافتی اختلافات، علاقوں کی مساویانہ ترقی کا فقدان اور ان جیسے لامحدود مسائل نے پاکستان اور امن کے درمیان ایک حد فاصل لاکھڑی کی ہے۔ اب ارباب اختیار اور ملک وقوم کا درد رکھنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ وطن عزیز کے تحفظ وسلامتی اور بقا واستحکام اور اس ملک میں امن کے قیام کیلئے نہ صرف ان رکاوٹوں کو دور کریں بلکہ ایسے اقدامات بھی کریں جن سے پوری قوم ایک لڑی میں پروئی ہوئی نظر آئے۔ اس کیلئے ہمیں خواندگی میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ پڑھے لکھے لوگ سامنے آئیں اور امن کی فضا پیدا کریں۔ تمام علاقوں کی مساویانہ ترقی کیلئے کام کرنا ہو گا، صحیح معنوں میں جمہوریت کا قیام، مخصوص طبقوں کی اجارہ داری کا خاتمہ، قومی اداروں کو مضبوط بنانا، یکساں حقوق کی فراہمی، معاشرتی عدل وانصاف کا قیام، اسلامی تعلیمات کا فروغ، بین الصوبائی شادیاں، معاشی آسودگی، بین الصوبائی کھیلوں کا فروغ اور اپنے قومی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ حقیقت کی آنکھ سے حالات کا مشاہدہ کریں اور آئندہ بیس تیس سال کی امن پالیسی وضع کر کے اس میں جت جائیں۔ جب تک قوم کا ہر فرد پر امن نہیں ہو گا اور امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کریگا اس وقت تک تبدیلی نہیں آئیگی۔ ہمیں اپنی سوسائٹی اور معاشرے میں امن کلچر کو پروموٹ کر نا ہو گا۔ اگر ہم، ہمارے حکمران اور ہمارے عوام واقعی چاہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی اور بد امنی سے جا ن چھڑا کر ایک پرامن اور خوشحال ملک کی بنیا د رکھیں تو اس کیلئے ہمیں امن پر متفق ہونا ہو گا۔ اگر ہم نے اب بھی ملک میں امن و آشتی کے قیام کا فیصلہ نہ کیا تو پھر یا د رکھنا یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا، نہ اقتصادی خوشحالی آئیگی، نہ دہشت گردی کا جن بوتل میں بند ہو گا۔ مغربی استعمار اس بات سے مایوس ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان کے عوام بالخصوص دینی حلقوں کو وہ اپنے ڈھب پر لا سکے۔ اس لیے سرے سے پاکستان کو ہی دنیا کے نقشے سے ختم کر دینے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ عالمی پریس میں یہ باتیں لکھی جا رہی ہیں کہ روسی استعمار کے خلاف پاکستان کی ضرورت تھی جو پوری ہوگئی ہے اس لیے اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک مغربی استعمار کے تہذیبی اور ثقافتی غلبہ کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے اور اس کی قوت کو ختم کرنے کے لیے جنوبی ایشیا کے جغرافیائی نقشے میں تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔ اس قسم کی باتیں لکھ کر اور بار بار دہرا کر اس خطہ کے عوام کا ذہن بنایا جا رہا ہے کہ وہ جغرافیائی تبدیلیوں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔ خود ہمارے دینی حلقوں میں دھیرے دھیرے یہ بات آگے بڑھائی جا رہی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان کے نام سے یہ ملک مغرب کے مقاصد اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بنایا جا رہا ہے اس لیے اس کی سالمیت و وحدت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے ہمارے بزرگوں کے موقف کی تائید ہی ہوگی۔ یہ بہت خطرناک بات ہے اور بہت بڑا نفسیاتی حربہ ہے جو پاکستان کی جغرافیائی وحدت کے خلاف عالمی استعمار کے ایجنڈے کو تقویت پہنچانے کے لیے اختیار کیا جا رہا ہے اور اس سے پوری طرح خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ نئے مرحلہ میں جبکہ پاکستان کے خدانخواستہ مزید حصے بخرے کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، ہمارا موقف یہی ہونا چاہیے اور یہی ہو سکتا ہے کہ ہم ماضی کی طرف جائے اور اس کا حوالہ دیے بغیر ملک کے تحفظ کی جدوجہد کریں، اس لیے کہ اب پاکستان کی بقا اور تحفظ میں ہی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا مفاد ہے، بلکہ پورے عالم اسلام کا مفاد پاکستان کی بقا اور تحفظ میں ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور مشرق بعید کے مسلمانوں کے درمیان اہم ترین جغرافیائی سنگم میں واقع یہ تہذیبی اور فکری رکاوٹ اگر خدانخواستہ پامال ہوگئی تو دنیا کے کسی خطے میں بھی مسلمان محفوظ نہیں رہیں گے اور مغربی استعمار یاجوج ماجوج بن کر عالم اسلام کے کونے کونے میں پھیل جائے گا۔صورتحال سے بے خبر رہنا اور حالات سے لاتعلق ہو جانا دینی حمیت کے منافی ہے ۔ اگر ہم ان حالات میں بھی بے خبر اور لاتعلق رہنے میں عافیت محسوس کر رہے ہیں تو ہمیں صرف دینی حمیت و غیرت کا ہی نہیں بلکہ دین کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھی ازسرنو جائزہ لے لینا چاہیے۔ اس لیے علما کرام اور دینی کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ حالات کا ادراک کریں، صورتحال سے باخبر رہیں اور پورے شعور اور سنجیدگی کے ساتھ ان حالات میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کرنے کے راستے تلاش کریں۔ جس شعبہ اور دائرہ کار میں آپ اپنے ذوق کو ہم آہنگ پاتے ہیں اور جس کام کی آپ اپنے اندر صلاحیت پاتے ہیں اسی میں کام کریں لیکن ضرور کریں، فارغ ہرگز نہ بیٹھیں اور لاتعلقی اور بے خبری کے طرز عمل سے بہرصورت حاصل کریں۔علما کرام اور دینی کارکنوں پر لازم ہے کہ جس شعبہ میں آپ کام کر رہے ہیں وہیں کریں اور دلجمعی کے ساتھ کریں لیکن خدا کے لیے دین کے دوسرے کسی شعبے کی نفی نہ کریں اور کسی دوسرے دینی شعبہ میں کام کرنے والوں کے لیے تحقیر اور استخفاف کا لہجہ اختیار نہ کریں۔ اگر دین کے کسی دوسرے شعبہ میں کام کرنے والوں کے ساتھ آپ کسی درجہ میں تعاون کر سکتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم حوصلہ شکنی کسی کی مت کریں۔قوم کی غالب اکثریت قومی سطح پر دینی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے مرکزی قیادتوں کی طرف دیکھ رہی ہے اور ادھر سے حوصلہ افزا جواب نہ پا کر مایوسی کا شکار ہو رہی ہے۔ لیکن مایوسی کا شکار ہو کر گھروں میں بیٹھ جانے کی بجائے اپنا کام کرتے جائیں اور قائدین کو مناسب طریقہ سے توجہ دلاتے جائیں، کبھی تو کسی کا دل پسیجے گا۔ اگر دینی جماعتوں کی موجودہ قیادت نے حالات کی سنگینی اور دینی کارکنوں کے جذبات کا بروقت احساس نہ کیا تو یہ خلا بہرحال باقی نہیں رہے گا، اس لیے کہ خلا کبھی باقی نہیں رہتا، فضا میں اگر ہوا کا دبائو کم ہو جائے تو اس خلا کو اکثر اوقات آندھیاں پر کرتی ہیں جس سے بہت کچھ بدل جایا کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کی ر و سے ہر سال اکیس ستمبر کو امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد نسل انسانی کے ذہن میں امن کی برکتوں اور فیوض کو جاگزیں کرتے ہوئے انہیں جنگ وجدل سے باز رکھنا اور پوری دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہوتا ہے۔اس کا مقصد لوگوں میں امن کی اہمیت اور ضرورت کا احساس اجاگر کرنا ہے۔ ہماری آج کی دنیا کو ایک مثالی اور خوشحال دنیا کار نگ دینا ہے۔ ایسا اسی صورت میں وقو ع پذیر ہو سکتا ہے جب دنیا کے تمام انسان امن قائم کرنے کی راہوں پر گامزن ہو جائیں۔ انسانی آزادی ہمار ا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔اس بات کا احساس دلانا اور اس طرزفکر کو عام کرنا علماء کی اولین ذمہ داری ہے۔ جامعات میں علم حاصل کرنے والے طالب علموں کو جب تک علمی دنیا کے حقائق سے روشناس نہیں کروایا جاتا، اس وقت تک تعلیم کی اصل معراج تک پہنچنا بے معنی ہے۔ امن عالم کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جامعات کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو انسانی آزادی کے صحیح مفہوم و تصور سے روشناس کروانے کی کوشش کریں۔ایک مرتبہ جب انسانی آزادی کا مفہوم طلبہ کے اذہان میں راسخ ہو جائے گا تو پھر معاشرہ امن کی نئی راہوں پر گامزن ہو گا۔ یہ ذمہ داری ہم سب پر اجتماعی لحاظ سے عائد ہوتی ہے۔