Image

اپنا بوجھ اپنے ہی کاندھوں پر اٹھا کر چلنا

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان کے علاقے بن کورائی میں سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے لگائے گئے کیمپوں کے دورے کے موقع پر متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ اتنے قدرتی وسائل اور معدنی دولت کے باوجود ہم پیچھے کیوں ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اگر ملک میں آنے والی اب تک آنے والی تمام حکومتیں چاہے وہ سویلین حکومتیں ہوں یا فوجی، اگر وہ درد دل سے کام لیتیں تو پاکستان آج ان معاشی مسائل کا شکار نہیں ہوتا کہ دیکھیں آج ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔ ہم متحد ہوں تو کوئی مشکل، کوئی پہاڑ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا، اتحادی حکومت مل کر ملک کو تمام بحرانوں سے نکالے گی۔ اللہ کا حکم ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کریں، آخری آفت زدہ گھرانے کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد کی جلد از جلد بحالی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور محکموں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔اس سے قبل وزیر اعظم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک پہنچے۔انہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن اور ضلع ٹانک میں انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم کو عارضی پناہ گاہوں میں خوراک، پینے کے پانی کی فراہمی سمیت علاقے میں جاری امدادی اور بحالی کے کاموں سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے کے پی حکومت پر زور دیا کہ وہ جاں بحق افراد کے لیے موجودہ اعلان کردہ رقم آٹھ لاکھ روپے سے بڑھا کر  دس لاکھ روپے تک کرے۔ لواحقین کے لیے مالی امداد جاں بحق افراد کا نعم البدل نہیں ہے لیکن یہ متاثرین کی بحالی میں مدد کرے گی، آفت سے متاثرہ افراد کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے۔وفاقی حکومت نے زخمیوں کے لیے نقد امدادی رقم کو 25 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کردیا ہے، مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے لیے پانچ لاکھ روپے اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے مکانات کے لیے دولاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔سیلاب سے مرکزی سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بتائے جانے پر وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی سڑکوں کو جلد بحال کرے۔ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وہ این ڈی ایم اے اور صوبائی حکام کے سروے پر غور کریں گے تاکہ نقصانات کا اندازہ لگایا جاسکے اور وفاقی حکومت کی طرف سے ممکنہ تعاون کا فیصلہ کیا جاسکے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ٹانک زم ڈیم اور دیگر چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے علاقے اور اس کے انفرااسٹرکچر کو سیلاب سے بچانے میں مدد ملے گی۔ شہباز شریف کو بتایا گیا کہ سیلاب سے ضلع ٹانک میں تقریبا 11 ہزار گھرانوں کو نقصان پہنچا ہے اور 2 اموات کے علاوہ 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے بلوچستان اور کے پی میں سیلاب سے تباہ شدہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے این ایچ اے کی جانب سے کیے جانے والے کام کے لیے بھی زور دیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پر مشترکہ سروے کریں۔انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کی فیلڈ فارمیشن ہر جگہ موجود ہیں و ہ اس میں تعاون کریں، جس پر آرمی چیف نے کہا کہ یہ قومی ذمہ داری ہے اس میں مکمل تعاون کریں گے۔خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے متاثرہ آبادی کے لیے کیے گئے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے کے ساتھ ساتھ متعلقہ وزرا کی بھی تعریف کی جنہوں نے متاثرہ لوگوں کی جلد امداد اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں کیں۔ بدقسمتی سے جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ہماری معیشت کاپہیہ صحیح طور پر نہ چل سکا معاشی طور پر ہم کمزور ہی رہے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا میں وہی قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے اور اپنا لوہا منوا سکتی ہے جس کی معیشت مضبوط  اور  عوام بھی ہر لحاظ سے طاقتور و خوشحال ہوں  ایسے ممالک دنیا کو اپنے طریقے سے چلاتے ہیں لیکن  ہماری مجبوری یہ رہی کہ ہم شروع سے ہی غلامی کا شکار ہو گئے اور اپنی آزادی   کہ جسے بہت قربانیوں کے عوض حاصل کیا تھا غلامی کے شکنجے میں کس دیا ۔ ہمارے سیاستدان سرمایہ دارانہ نظام کے جال میں پھنس گئے جس کی وجہ سے ہر آنے والا دن ہمیں مزید پستی میں دھکیلتا چلا گیا ۔ آئی  ایم ایف بھی ایک سرمایہ دارانہ نظام کا شاخسانہ ہے ان کا اپنا ہی طریقہ کار ہے یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کس ملک کی معیشت کمزور ہے پھر اسے قرض دے کر اپنا غلام بنا لیتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ ملک مکمل طور پر ان کے جال میں پھنس جاتا ہے اس کے بعد وہ جتنی بھی کوشش کر لے ان کے چنگل سے نہیں نکل سکتا۔  اصل رقم  پر  سود دینا بھی ان کیلئے وبال جان بن جاتا ہے۔  پاکستان کی موجودہ صورتحال بھی ایسی ہی ہے پاکستان کو آئی ایم ایف نے قرضہ دے کر اس قدر مفلوج کر دیا کہ اب اس کی معیشت بغیر قرضے کے چلنے سے قاصر ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ہمیں قرض  پرسود کی رقم ادا کرنے کیلئے بھی مزید قرض لینا پڑ رہا ہے اور قرض دینے والا اپنی کڑی شرائط پر ہمیں قرض دے رہا ہے۔ ابتدا سے آج تک ہر حکومت نے دعوی تو کیا کہ ہم قرض نہیں لیں گے کشکول  توڑ دیں گے لیکن افسوس اس پر عمل نہ کیا جا سکا اور ہر آنے والی حکومت نے پچھلی حکومت سے زیادہ ملکی قرضوں میں اضافہ کیا۔ سابقہ  حکومت جب برسر اقتدار آئی تو اس کا بھی دعوی یہی تھا کہ ہم آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے خودکشی کر لیں گے ۔آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے بھیک نہیں مانگیں گے لیکن یہ حکومت بھی آئی ایم ایف سے پیچھا نہ چھڑا سکی اور قرض لینے کا اثر یہ ہوا کہ آج ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ روپے کی قیمت روز بروز گرتی جا رہی ہے آئے  روز بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔ حکومت مجبور ہے اس کے پاس آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ عوام مفلسی کی چکی میں پس رہے ہیں مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہ جو تین وقت کھانا کھاتے تھے ایک وقت کی سوکھی روٹی پر آ گئے ہیں۔ سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ گیا ہے لوگ خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ عوام کا بہت برا حال ہے سونے پر سہاگہ یہ کہ حکومت منی بجٹ لا تی رہی ہے 'سبسڈیز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ موجودہ دور حکومت میں ہمارے معاملات پر آئی ایم ایف کا مکمل کنٹرول ہے اب وہ قرضہ دے کر ہماری مکمل نگرانی کر رہا ہے ہمیں بتاتا ہے کہ یہ قرضہ کہاں خرچ کرنا ہے نیز عوام پر مزید کتنا ٹیکس لگانا ہے ۔کونسی چیز مہنگی کرنا ہے ۔ تین سال پہلے کی اشیائے ضرور یہ اور یوٹیلٹی چارجز کا موازنہ آج کی قیمتوں سے کریں تو ہر چیز ڈبل یا اس سے اوپر نظر آئے گی۔ وہ جو کہتے تھے کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے واقعی انہوں نے نیا پاکستان بنا دیا ہے جس میں اب کوئی چیز پرانے پاکستان کی قیمت میں دستیاب نہیں ۔عوام نے خان صاحب سے بہت امیدیں وابستہ کی تھیں کہ شائد اپنے کہے ہوئے الفاظ پر عمل کرتے ہوئے ہمیں قرضوں سے نجات دلوا دیں گے کشکول توڑ دیں گے لیکن خان صاحب بھی پچھلی حکومتوں کا تسلسل ہی نکلے ۔ حکومت جانے پر بھی یہی ہو رہا ہے قوم منتظر ہے ایسی نیک اور صالح قیادت کا جو ملک کو قرضوں سے نجات دلا دے جو آئی ایم ایف کی غلامی سے چھٹکارا دلا دے اور عوام کو حقیقی طور پر خوشحال کر دے۔یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام لے رہی ہے، پاکستان 1990 کے بعد دس مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام لے چکا ہے۔ ہر حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں سے معیشت کے نقصانات کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔ اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ دوارب ڈالر ماہانہ ہے، توانائی کے شعبے کے نقصانات ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔ ترامیمی فنانس ایکٹ بھی ان حالات کی وجہ سے لانا پڑا جب کہ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ مائیکرو اکنامک استحکام کے لئے کیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔