Image

گلگت واقعہ، انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت پانچ مقدمات، نو نامزد ملزمان گرفتار

ڈی آئی جی گلگت رینج فرمان علی نے ایس ایس پیز اسحاق حسین' شہباز الہی اور محمد حفیظ کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں یادگار چوک پر پیش آنے والا واقعہ حادثاتی تھا اس میں کسی منظم فرقہ وارانہ یا قاتلانہ منصوبہ بندی کا عنصر شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات میں دو افراد جاں بحق اور 22 افراد زخمی ہوئے ہیں سیکیورٹی فورسز نے چھاپوں اور ناکہ بندی کے دوران 60 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہیجن میں سے 7 ملزمان کو اسلحہ آتشیں و کارتوس سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ ان واقعات میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت 5 مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں گلگت شہر میں اچانک ایک ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا جس کی شدت اور منفی اثرات کو اگر بر وقت قابو نہ کیا جا تا تو یہ ایک ایسی تباہ کن چنگاری ثابت ہوسکتی تھی جس سے گلگت بلتستان کا مجموعی امن تہ و بالا ہوسکتا تھا تاہم اللہ تعالی کا شکر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، عوام اور پریس نے مثالی زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین باہمی تعاون کے بدولت اس خطے کو ایک تباہ کن صورتحال سے بچالیا۔حقائق کی چھان بین اور شواہد کی روشنی میں یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ گزشتہ دنوں یادگار چوک کے مقام پر ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کی ریلی میں شامل جوان اور ایک چنگ چی رکشہ سوار کے درمیان شروع ہونے والے جھگڑے نے پتھراؤ اور فائرنگ کا رخ اختیار کرلیا۔صورتحال اس وقت مزید کشیدگی اختیار کرنے لگی جب وہ مذہبی لیڈر ریلی کی شکل میں یادگار چوک سے ہوتے ہوئے خومر چوک کی طرف جارہا تھا۔ اس ریلی میں موٹر سائیکل سواروں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ جونہی ریلی کا پہلا حصہ یادگار چوک پر پہنچا وہاں پر اچانک شہید ملت روڈ کی جانب سے ایک چنگ چی رکشہ ریلی میں شامل ہوا۔ ریلی میں شامل ایک موٹر سائیکل سوار نے چنگ چی رکشہ کو رکنے کا اشارہ کیا۔رکشہ رکنے پر ایک اور جوان نے رکشے کے قریب آ کر رکشے کو پیچھے لیجانے کا کہا اور ساتھ ہی رکشے کی چابی بھی اٹھالی۔ رکشے کوسائیڈ کرتے وقت رکشے میں موجود ایک سواری اور رکشے کی چابی اٹھانے والا جوان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ دونوں کی لڑائی دیکھ کرقریبی دکان میں موجود دو افراد چنگ چی رکشہ کی طرف دوڑے آئے جنہیں دیکھ کر ریلی میں موجود کچھ جوان بھی اس جانب دوڑتے ہوئے آئے اور ان کا آپس میں شدید پتھراو اور فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کا سلسلہ بعد میں ملحقہ یادگار محلہ، سیف الرحمن روڈ اور کے آئی یو روڈ پر واقع گیس پلانٹ تک پھیل گیا۔ فائرنگ کے ان تمام واقعات میں دوافراد جان بحق جبکہ 22 افراد زخمی ہو گئے۔ان واقعات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعات کے تحت 05 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔یادگار چوک میں پیش آنے والے واقعے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ،گلگت شہر کے مختلف اطراف میں رینجرز ، جی بی سکاوٹس ، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور مختلف مقامات پر چھاپوں اور نا کہ بندی کے دوران کل 60 مشتبہ گان کوحراست میں لیا گیا۔ شہر میں موٹر سائیکلز کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی نیز مختلف کاروائیوں کے دوران جو مشتبہ گان وملزمان زیر حراست  اور شامل تفتیش رہے۔ان میں سے 7 ملزمان کو اسلحہ آتشیں وکارتوس سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔وقوعہ کی شب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی منظم اور مربوط کاروائی کے بدولت گلگت شہر کے حالات مزید پچیدہ رخ اختیار کر نے سے محفوظ رہے ہیں۔گلگت شہر میں رونما ہونے والے ان نا خوشگوار واقعات کے نتیجے میں درج شدہ مقدمات کی میرٹ پر شفاف تفتیش کیلئے صوبائی حکومت نے اعلی سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہیں اور ہر جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی رینک کا پولیس آفیسر بطور چیئر مین مقرر کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی انتہائی باریک بینی سے تفتیش اور پوچھ گچھ کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے تا کہ کوئی بیگناہ شخص متاثر نہ ہواور اصل ملزم بیچ نہ سکے۔ جے آئی ٹیز نے اب تک کی کاروائیوں کے دوران ، یادگار چوک کے مقام پرلڑائی ، پتھراؤ اور فائرنگ کی بنیادی وجہ بننے والے چنگ چی ڈرائیور سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ ان کے بیانات اور دیگر ٹھوس شواہد کی روشنی میں اس رائے کو تقویت ملی ہے کہ یہ ایک حادثاتی واقعہ ہے اور اس میں کسی منظم فرقہ ورانہ، قاتلا ندمنصوبہ بندی کا عنصر شامل نہیں ہے۔ جے آئی ٹی نے مزید پوچھ کچھ اور چھان بین کی روشنی میں شامل تفتیش مشتبہ گان میں سے اب تک 12 افراد کو ان کی بیگناہی پر رہائی دی گئی ہے۔ تشد د اور فائرنگ کے ان واقعات کے خلاف درج پانچ مختلف مقدمات میں کل 18 افراد نامزد میں جن میں سے 9 نامزدملزمان کوگرفتار کیا جا چکا ہے۔ باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔ انشائ اللہ جلد ہی تمام مطلوبہ نامزدملزمان کوگرفتار کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائیگا۔گلگت شہر میں مخدوش حالات کے پیش نظر امن عامہ کی حفاظت اور پائیدار تسلسل کیلئے پولیس اور دیگر فورسسز کی مشتر کہ چیک پوسٹس قائم کی گئیں ہیں اور تلاشی کامل سخت کر دیا گیا ہے۔اس باعث شہریوں کو بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کیلئے ہم معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن عامہ کی ناگز یرصورت کو مد نظر رکھتے ہوئے معزز شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ کریں۔