Image

محرم الحرام اور امن کے تقاضے

وزیر اعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ بھارت نے کئی سالوں سے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کررکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ مسلمان گھروں میں محصور ہیں۔ پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کو پورے پاکستان سمیت عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام پر بھارتی مظالم سے دنیا بھر میں بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہوا لیکن ابھی تکمیل پاکستان ہونا باقی ہے۔کشمیر کی آزادی کیساتھ تکمیل پاکستان مکمل ہوگا۔ دنیا میں مثالی قوم بننے کیلئے ہمیں آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک دشمن عناصر کے سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حقوق غصب کررہا ہے۔وزیر گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو بھارتی ظلم،جبر اور استحصال سے چھٹکارا ملے گا۔دریں اثناء گورنر گلگت بلتستان سید امجد زیدی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات نکتہ اتحاد ہے امام حسین نے دین محمدی کی اصلاح اور اسلام کی سربلندی کیلئے عظیم قربانی پیش کی ان کی یاد میں نکلنے والے ماتمی جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی جلوسوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ہرگز کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی صوبائی حکومت ماتمی جلوسوں کے پرامن انعقاد کیلئے تمام تر انتظامات کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام یوم عاشور پر اتحاد ویکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں اور اسلام دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں ملائیں اسلام دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیتا ہمارا دین امن رواداری بھائی چارگی آخوت کا درس دیتا ہے جو بدامنی کی باتیں کررہے ہیں وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے نابلد ہیں ایسے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا صوبائی حکومت اس بارے میں پوری طرح سے تیار ہے کسی کو علاقے کا امن خراب کرنے نہیں دیں گے گلگت بلتستان کی اہمیت پہلے سے زیادہ کئی گنا بڑھ چکی ہے اس حساس اور اہم علاقے پر تمام ممالک کی نظر ہے اس کے امن کو برقرار رکھنے کیلئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے علمائے کرام عمائدین علاقہ اور میڈیا سے وابستہ افراد امن کی مجموعی صورت حال کو برقرار رکھنے کیلئے کردار ادا کریں اور امن دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔محرم الحرام دنیائے اسلام میں انتہائی مقدس مہینہ تصور کیا جاتا ہے جس میںحضرت امام حسین اور ان کے رفقائے کار نے حق کی خاطر اپنی جان دے کر دنیا کے سامنے ایک ایسی مثال قائم کردی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ محرم الحرام میں شہداکربلاکی یاد بڑے عقیدت اور احترام سے منائی جاتی ہے۔لیکن اس دن چند عناصر مسلم دنیا کی یکجہتی کونقصان پہنچانے کے لئے سرگرم ہوجاتے ہیں بلکہ محرم الحرام آنے سے پیشتر ہی وہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے ناپاک منصوبوں اورسازشوںمرتب کرنا شروع کردیتے ہیںاور ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مسلمان بھائی آپس ہی میں دست و گریبان ہوجائیں۔اسلام امن پسند مذہب ہے۔ دہشت گردی انتہا پسندی کی اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک من حیث القوم مسلمان انصاف تحمل وبرداشت اور علم سے محبت کے فلسفے پر عمل پیرا رہے وہ دنیا پر حکمرانی کرتے رہے اور جب انہوں نے ان اصولوں پر روگرادنی کی اور باہم دست گریبان ہوئے فرقہ واریت کی لعنت سے دوچارہو گئے۔ ہم اشتعال انگیز تقریریںکرتے ہیں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ بات بات پر لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ذاتی انا اور انتقامی جذبہ ہمارے اندر سرایت کر چکا ہے۔ ہم ایک دوسرے کر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہم ایسے گمبھیر مسائل میں کچھ اس طرح الجھ کر رہ گئے ہیں کہ ہمارے پاس غورو حوض کیلئے وقت ہی نہیں کہ ہم ان مسائل سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ یہ سوچیں کہ ہم دنیا میں کیوں زیر عتاب ہیں؟ یقینا اس میں جہاں ہماری دیگر بداعمالیاں شامل ہیں۔ وہاں ہماری صفوں میں عود آنے والی فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے۔اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسے خیالات پروان چڑھائیں جس سے ہمارے اندر مذہبی رواداری ، محبت اور ایثار کے جذبے بیدار ہوں۔ دنیا کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ترقی پسند اعتدال پسند اور امن و بھائی چارے کا دین ہے اگر ہم قول و عمل اور کردار سے یہ عملی ثبوت دیں تو ہماری مساجد ہماری امام بارگاہیں ہمارے مدارس ایک دوسرے پر تنقید کی بجائے علم محبت اور تحمل و برداشت کی تربیت گاہیں بن جائیں۔اگر ہم اپنے رویوں میں اعتدال پیدا کر لیں، انتہا پسندی سے اجتناب کریں، جدید علوم سے بہرہ ور ہو جائیں اور اسلام کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی عملی زندگیوں پر نافذ کرلیں تو ہم دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کو ان کا اصل مقام یاد دلا سکتے ہیں۔ یہ علما کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی اعتدال پسندی اورتحمل و برداشت کی حقیقت حال ان حلقوں پر واضح کریں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ پاکستان کو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی نے بے حد نقصان پہنچایا ہے جس کے قلع قمع کے بغیر یہاں امن وسلامتی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ ہمیں دنیا کے اندر بہتر مفاہمت ہم آہنگی اور اسلامی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ دنیا کے سامنے اسلام کے عظیم مذہب کے تشخص کو اجاگر کرنا ہے۔اس تناظر میں محرام الحرام کامقدس مہینہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ہوشمندی اور صبروتحمل کے جذبات کا عملی مظاہرہ کریں۔ ہمیں ایسے شرپسندوں کی سازشوں کو بھانپنا ہوگاجو ہمارے جذبات کو ابھار کر ایسی آگ لگانا چاہتے ہیںجس سے اسلام اور پاکستان کے امیج کو زک پہنچے۔ہمیں دشمن کی ان مکروہ سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت پیداکرنا ہوگی۔ ہمیں فرقہ واریت کے عفریت سے نکلنا ہوگا، صوبائیت کے چنگل سے آزاد ہونا ہوگا، قوم پرستی کے آسیب سے جان چھڑانا ہوگی۔ یہ امراض ہمارے خود پیدا کردہ ہیں جن سے جان سے نجات کے لئے بھی ہمیں خود ہی سعی کرنا ہوگی۔ اگر ہم اپنی ذات، انفرادی مفادات، سیاسی وفروعی وابستگیوں سے بالا ترہوکر اسلام اور پاکستان کی فلاح و بہبود کا خیال کریں تو ہم اندورنی و بیرونی سطح پر دشمن کی تمام ریشہ دوانیوں کو خاک میں ملا سکیں گے۔پاکستان متحد ہے اور ہمیشہ متحد رہے گا دشمن طاقتوں کا ناپاک ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے ہم ایک متحد قوم بن کر ہی دشمن کو شکست دے سکتے ہیں،دشمن طاقتیں ہمیں لڑا کر انتشار پیدا کر کے کمزور کرنا چاہتی ہیں،ان کا مقصد اپنے ناپاک ایجنڈے اور سازشوں کو کامیاب کرنا ہے جو کہ ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہمیں چاہیئے کہ ہم اسلام کے پیغام اخوت محبت رواداری اور اتحاد کو سامنے رکھیں ۔یاد رہے کہ اتحاد و وحدت ہمارا دینی اور ایمانی سرمایہ ہے ہم سب مسلمان ہیں اور ایک ہی کلمہ پڑھتے ہیں پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہی حاصل کیا گیا تھا آج پاکستان کو پہلے سے زیادہ اتحاد و استحکام اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے،ہم نے اپنے اتحاد اور داخلی استحکام کے ذریعے دشمن کو شکست دینی ہے ۔ محرم الحرام میں خصوصی طور پر دشمن کی سازشوں پر نظر رکھیں،انتشار اور عدم استحکام کی ہر سازش کو اپنے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ناکام بنا دیں،اسلام کا پیغام بھی ہم سب کو متحد رکھنے کا ہے ۔ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اورپیغام پاکستان کے فروغ کیلئے علما کرام منبر ومحراب سے آگاہی کو پیدا کریں، محرم الحرام میں قیام امن کے لیے اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کیا جائے جو کہ وقت کی ضرورت ہے،افواج پاکستان اور سیکورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا ہے اور پوری قوم کی دعائیں ہماری بہادر مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔قوم پر بھی لازم ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق سے کام لیں اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی توانائیوں و صلاحیتوں کا استعمال کریں۔