Image

کیرئیرفیسٹ اور اساتذہ کی اہلیت

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین احمد وانی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اولین کیرئیرفیسٹ طلبا کو اپنے مستقبل کی راہ کے تعین میں مدد گار ثابت ہو گا۔ پندرہ سے اٹھارہ اگست تک ہائی سکول نمبر ایک گلگت میں منعقدہ کرئیر فیسٹ میں  مختلف شعبہ جات کی  نامورملکی  شخصیات اپنے تجربات شیئر کریں گی۔ کیرئیر فیسٹ میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے طلبا کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ اس سے بھر پوراستفادہ کر سکیں۔ چیف سیکرٹری کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیریئر فیسٹ میں معروف کمپنیاں ،یونیورسٹیز، ریکروٹمنٹ ایجنسیز اسٹالز لگائیں گی اور گلگت بلتستان کے طلبہ کو ان کے کیریئر کے چنائو کے بارے میں معلومات اور رہنمائی فراہم کریں گی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں 144 کمپیوٹر لیب کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ طلبا  دور جدید کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ صوبے میں آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کیلئے حکمت عملی کے تحت کام جاری ہے جس کے نتائج علاقے میں رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں تعلیم اور صحت کے شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے ان دونوں شعبہ جات کے لیے فنڈز میں کنجوسی نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تقرریوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ کونسل سے معاملات طے پا گئے ہیں صوبائی کابینہ نے بھی منظوری دے دی ہے گلگت بلتستان اسمبلی سے منظوری کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ کونسل شفاف طریقے سے ٹیسٹ کا انعقاد کرے گی، چیف سیکرٹری نے کہا کہ وفاقی تعلیمی بورڈ کے تحت گلگت بلتستان میں حالیہ میٹرک کے نتائج اطمینان بخش نہیں ہیں اساتذہ کی اہلیت جانچنے کیلئے دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے گا جو استاد پڑھانے کے اہل ہوں گے وہ درس و تدریس کا فریضہ سرانجام دیں گے' کسی کو اس معاملے پر سیاست کرنے نہیں دیں گے۔کیرئیر کونسلنگ نہ ہو تو طالبعلم سوچتا ساری عمر کچھ اور ہے، کرتا کچھ اور ہے، اور ہوتا اس کے ساتھ کچھ اور ہے۔ ہماری قوم کے بیشتر نوجوان گزرتے ہیں اور ان کے خواب یوں ہی بکھر جاتے ہیں۔ اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو ہمیں اس کے بے شمار عوامل نظر آئیں گے، ان میں سے ایک اہم وجہ نوجوان طلبہ کی مناسب کریئر کونسلنگ کی کمی بھی ہے، ہمارے ہاں طلبہ کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک وہ جو بہت محنتی اور ذہین ہوتے ہیں، ان کو زبردستی سائنس پڑھائی جاتی ہے۔ دوسرے وہ طلبہ ہوتے ہیں، جو قدرے متوسط ذہنی استعداد کے حامل ہوتے ہیں، انہیں کامرس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور جو طلبہ پڑھائی میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے ان کی قسمت میں آرٹس پڑھنا آ جاتا ہے اور یہ سوچے سمجھے بغیر والدین یا بڑے بہن بھائی زبردستی مضامین کا انتخاب کر کے انہیں وہ مضامین پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں جن میں ان کا کوئی رجحان نہیں ہوتا۔اگر آپ نے اپنی پسند اور رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے مضامین کا انتخاب کیا ہے اور اس سے جڑا ہوا کیریئر ہی آپ کی زندگی کا مقصد ہے تو کوئی بھی آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتا، اور آپ اپنا مقصد ضرور حاصل کرتے ہیں۔لیکن اس کے برخلاف اگر آپ نے وہ مضامین پڑھے جن میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تو آپ کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔خودی سے آگاہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے، اور اگر آپ نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اپنی طاقت کا اندازہ لگا لیا، اور اس ٹیلنٹ کو صحیح انداز میں استعمال کرنے کا فن سیکھ لیا، تو کامیابی آپ کا مقدر بن جائے گی ورنہ دوسری صورت میں اپ کی مثال ایک ایسی کشتی کی ہوگی جو ہوا کے دوش پر ہچکولے کھاتی کبھی یہاں جاتی ہے تو کبھی وہاں۔کوئی بھی طالب علم نالائق نہیں ہوتا۔ وہ نالائق تب تک ہوتا ہے جب تک اسے اس کی مرضی کے برخلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں مناسب کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ غلط تعلیمی فیصلے کرتے ہیں اور غلط کیریئر کا انتخاب کر کے اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کی سطح پر باقاعدہ کیریئر کونسلر تعینات کیے جائیں، جو بچوں کے ذہنی رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں مناسب مشورے دے سکیں، ورنہ یہی حال رہے گا کہ بجلی گھر تعمیر ہو نہیں رہے لیکن الیکٹریکل انجینیئر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں تیار ہو رہے ہیں، جو ملکی خزانے پر بوجھ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیچر ایجوکیشن میں بہت سی خامیاں موجودہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے لیکن کوئی بھی شخص استاد بننا چاہتا ہو تو اسکے پاس کم از کم ٹیچر ایجوکیشن کی ڈگری ہونی چاہیے یعنی ایک استاد کو بی۔ ایڈ یا ایم۔ ایڈ ضرور ہونا چاہیے۔ہمارے تعلیمی نظام میں موجود بہت سی مثالوں سے اسے رد کیا جا سکتا ہے کیونکہ کئی تعلیمی ادارے ایسے ہیں جہاں پر اساتذہ ٹیچر ایجوکیشن کی ڈگری کے بغیر بھی بہت اچھا پڑھا رہے ہیں۔لیکن استاد کو نہ صرف اپنے کورس پر مکمل مہارت ہونی چاہیے بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کورس کس طرح پڑھانا ہے،تدریس کے کون سے طریقے استعمال کرنے ہیں اور ان طریقوں کے استعمال کے کیا فوائد و نقصان ہیں۔ اپنے کورس میں ماہر استاد بچوں کا سلیبس تو جلدی مکمل کروا دے گا لیکن ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس جلدی میں بچے نے سیکھا کیا ہے۔آج کل ہمارے اردگرد اسکولوں اور اکیڈمیز میں یہی کچھ ہو رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کاتدریس کے طریقوں سے لاعلمی ہے۔استاد کا لفظ اپنے اندر بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ استاد کی ذمہ داری صرف اسکول میں جا کر بچوں کو کتابوں سے دیکھ کر پڑھانا نہیں بلکہ ایک استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے پاس کیا وسائل ہیں اور ان وسائل کو کس طرح استعما ل کرنا ہے۔ آج کے استاد کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال آنا چاہیے اور کسی سہولت کی عدم دستیابی میں بھی پڑھانے کاسلیقہ آنا چاہیے۔ طریقہِ تدریس میں تبدیلی سے بچوں کے سیکھنے کے معیار پر پڑنے والے اثرات سے واقف استاد ہی ایک اچھا استاد کہا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ،استاد کیلئے بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے، استاد کو علم ہونا چاہیے کہ بچے کی توجہ سبق پرکس طرح مرکوز کروائی جاسکتی ہے یا وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچہ سبق میں دلچسپی نہیں لے رہا ۔ استاد کی رہنمائی اور کونسلنگ کے ذریعے نالائق سمجھے جانے والے بچے کا اعتماد بحال کر کے اسے قابل بچوں کی صف میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ایک استاد کو پیپر بنانے سے لے کر مارکنگ تک کے سسٹم سے آگاہ ہونا چاہیے تا کہ وہ اپنے طلبا کی کارگردگی کا بہتر طریقے سے اندازہ لگا سکے۔ یہاں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیپر کی تیاری یا چیکنگ کیلئے تو علیحدہ ادارہ موجود ہے لیکن سالانہ پیپرز کے علاوہ بھی روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سہ ماہی ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں اس لئے ایک ٹیچر میں اتنی اہلیت ہونی چاہیے کہ وہ کلاس میں ہونے والے ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ جانچ لے کہ اسکے طالب علموں نے کتنا سیکھا اور بہتری کی کتنی گنجائش موجود ہے۔معیاری تدریس کیلئے فلسفہِ تعلیم اور تاریخ کے علم پراستاد کی دسترس ضروری ہے ورنہ وہ ادب ،سائنس یا ریاضی کے مضامین توپڑھا لے گا لیکن بچوں کو یہ مضامین سمجھ میں آئے یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ملک میں اتنے وسائل نہیں کہ کونسلنگ، کلاس روم مینجمنٹ اور امتحانات کے لئے الگ الگ شعبے بنائے جائیں اس لئے اگر استاد خود پیپرز کی تیاری اور یگر تدریسی فرائض سرانجام دے گا تو وہ اپنے طالب علموں کو بہتر طور سے سمجھ سکے گا اور جہاں کوتاہیاں ہوں گی انہیں خود دور کر سکے گا۔ہر پیشے کی طرح تدریس میں آنے والے افراد کو بھی بعض خصوصی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ پیشہ تدریس میں داخل ہونے والے کو سب سے پہلے اپنی جسمانی و ذہنی سطح کے بارے میں مکمل اطمینان کرلینا چاہیے کہ وہ اوسط سطح سے بلند ہے۔ افراد، اشیا اور اصول و قوانین کے صحیح ادراک کی صلاحیت سے عاری افراد تدریس میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکتے۔ انسانوں سے محبت اور میل جول، صبر و تحمل اور فنِ گفتگو پر عبور، کسی بھی شخص کو اچھا مدرس بنانے کے لیے ضروری ہے۔ استاد کے لیے لازم ہے کہ اس میں ایثار و قربانی کا جذبہ بھی بیدار ہو۔اساتذہ کا زیادہ تر واسطہ اور رابطہ عموما بچوں اور نوجوانوں سے ہوتا ہے اس لیے ان کا حاضر دماغ و حاضر جواب، خوش لباس، خوش اخلاق اور بعض صورتوں میں پر مزاح ہونا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ لطائف و واقعات اور کہانی قصوں کا موقع محل کی مناسبت سے استعمال مدرس کے کام کو آسان بنا دیتا ہے،  ان سب سے بڑھ کر علم کی مسلسل جستجو، ان تھک محنت کی عادت اور اپنے کام سے والہانہ لگائو ہی کسی مدرس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان میں سے جس قدر زیادہ صلاحیتیں کسی شخص میں موجود ہوں گی، وہ اتنا ہی کامیاب استاد ہوگا۔ تدریس سے وابستہ لوگوں کو اپنے شاگردوں پر مسلسل توجہ، ان کی ہر وقت نگہداشت اور جذبہ ایثار کے ساتھ نرم و شائستہ انداز میں رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔ اس لیے یہ شعبہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ بالخصوص ابتدائی پرائمری سطح کی تعلیم کا اگر پورا نظامِ صحت مند، ذہین اور محنتی اساتذہ کے حوالے کردیا جائے تو زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔