Image

عوام دشمن اقدامات چہ معنی دارد



عالمی سطح پر تیل کے نرخوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے امریکا، یورپی اور دیگر کئی ممالک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد مہنگائی کی صورتحال میں بہتری  جبکہ تیل کی طلب میں کمی دیکھی گئی ہے، اسی باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔رواں سال کے آخر تک تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کمی آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مالیاتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ خام تیل کی قیمتیں رواں سال کے اختتام تک پینٹسھ ڈالر فی بیرل تک گر جائیں گی۔رپورٹ کے مطابق 2023 کے اختتام تک خام تیل کی قیمت پنتالیس ڈالر فی بیرل ہونے کی توقعات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کساد بازاری سے محدود ہوتی طلب کے سبب خام تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں۔خام تیل کا آئوٹ لک اوپیک اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مداخلت کے بغیر وضع کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو پاکستان کیلئے اچھی خبر قرار دیا جا رہا ہے، امکان ظاہر کی گیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں لیکن یہاں صورتحال برعکس ہے۔ ہمارا وزیر خزانہ تیل کے نرخ بڑھانے کو مناسب قرار دے رہا ہے۔گزشتہ دنوں جب یہ توقع کی جا رہی تھی کہ تیل کے نرخ کم کیے جائیں گیحکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھے روپے بہترپیسے کا اضافہ کردیا جس کے بعد نئی قیمت 233 روپے اکیانوے پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اکیاون پیسے سستا ہوا۔وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور شرح تبادلہ میں ہونے والی ردوبدل کی روشنی میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تبدیلی کے اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مقرر کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی پلیٹ قیمتوں کا اوسط لیتی ہے، پھر ان قیمتوں پر پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے ادا کردہ مال برداری اور پریمیئم کا اضافہ کر کے اسے شرح تبادلہ سے ضرب دیتی ہے، اس کے علاوہ یہ گزشتہ پندرہ روز کی لاگت کو بھی حقیقی بناتی ہے۔پی ایس او کے ذریعے ادا کیے گئے روپوں کو حساب میں لے کر اصل شرح تبادلہ پر گزشتہ پندرہ روز کی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال کی جانے والی اوسط کے سوا ہم نے قیمت میں کوئی نیا ٹیکس یا لیوی شامل نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حساب سے پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ڈیزل کی کم ہوئی کیونکہ لاگت پی ایس او کی جانب سے گزشتہ 15 روز میں ادا کی گئی قیمت اوگرا کے تخمینے سے زیادہ تھی۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھی قیمت بڑھی کہ پی ایس او کی جانب سے پیٹرول پر ادا کردہ پریمیئم میں اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل پر ادا کردہ پریمیئم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئے ٹیکس یا لیویز کا ایک پیسہ بھی شامل نہیں کیا گیا۔ان کی وضاحت کے جواب میں سینیئر صحافی حامد میر نے سوال اٹھایا کہ آپ پاکستان کے وزیر خزانہ ہیں، آپ نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ایک روز پہلے یہ دعوی کیوں کیا تھا کہ آپ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے؟جس کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ میں قیمت میں نئے ٹیکس یا لیویز کا ایک پیسہ بھی نہیں اضافی شامل نہیں کروں گا اور میں نے نہیں کیا۔ مفتاح اسمعیل نے کہا کہ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں کی سمری اوگرا نے پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے فنانس ڈویژن کو بھیجی ہے جو ہمیں قیمتیں طے ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی ملتی ہے۔میں لوگوں کی اپنے اوپر تنقید کا خیر مقدم کرتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے لیے مخلص ہوں، اسے دیوالیہ ہونے بچایا ہے اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہوں۔مسلم لیگ نون کی رہنما کے علاوہ خود حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش کیا۔سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حکومت فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے اور ساتھ ہے لیکن اس طرح کے فیصلوں پر مشاورت ضرور ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس حکومت میں عوام کو ریلیف دینے آئے ہیں اور یہی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، وزیراعظم کے ساتھ ہیں اور جلد ان سے ملاقات کروں گا جس میں معاشی ٹیم کے بارے میں بھی بات ہوگی۔ان کے علاوہ ایک اور اتحادی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا، عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ملک کے غریب عوام پر رحم کیا جائے اور ہر ممکن ریلیف دیا جائے، عوام کی ماہانہ آمدن کم ہے اور پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے ٹیکس کی مد میں اخراجات دگنے ہوچکے ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لیے بہتر حکمت عملی اپنائی جائے۔ پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل دو ایسی مصنوعات ہیں جو حکومت کے لئے ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، کیونکہ ان کی طلب بہت زیادہ ہے اور مزید بڑھتی چلی جا رہی ہے، ہر روز گاڑیوں کے خریداروں میں اضافہ ہو رہا ہے جنہوں نے پٹرول اور ڈیزل ہی پر چلنا ہے اس لئے ہر حکومت نے اس مد کو آمدنی کا ذریعہ بنا لیا۔ ویسے بھی پٹرولیم لیوی کی شکل میں ٹیکس جمع کرنا آسان ترین ہے کیونکہ یہ خود کار طریقے سے جمع ہوتا رہتا ہے اور اس کے لئے ایف بی آر کے عملے کو کوئی اضافی سرگرمی نہیں دکھانی پڑتی۔ پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے والے پمپ ہی مفت میں یہ فرض بھی انجام دے دیتے ہیں۔پہلے حکومت کا موقف یہ تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے خام تیل پہلے سے مہنگا ملے گا بجلی اور گیس کی قیمتیں حکومت پہلے ہی سے بڑھا چکی ہے اور مزید بڑھانے کی خوشخبریاں سنا رہی ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنے والے دن عوام کے لئے مزید مہنگائی لے کر آئیں گے۔کون نہیں جانتا کہ جب تیل کے نرخ بڑھتے ہیں تو مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے کیونکہجب چیزیں مہنگی تیار ہوں گی تو مارکیٹ میں نرخ بھی بڑھیں گے اور یہ ساری قیمت وہ لوگ ادا کریں گے جن کی آمدنیاں محدود ہیں، روپے کی قیمت کم ہونے سے ان کی قوت خرید بھی کم ہوگئی ہے، اگر کوئی مزدور دس ہزار روپے مہینہ چند ماہ پہلے کما رہا تھا تو یہ رقم خرچ کرکے اسے بنیادی ضرورت کی جو اشیا حاصل ہوتی تھیں وہ اب کم ملیں گی، یوں اگر اس کے لئے اپنی آمدنی بڑھانا ممکن نہیں ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا معیار زندگی پہلے سے نیچے آجائے گاایسے عالم میں بیروزگاری کا ایک طوفان پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے روزگار چھین چکا ہے اور مزید لوگوں کو روزگار چھن جانے کا خوف لاحق ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کو مزدوری نہیں ملتی۔ اس طرح کروڑوں لوگ غربت کی جانب تیزی سے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔مہنگائی کا ایک طوفان ہے جو تیزی سے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور لگتا یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو اسے قابو کرنے کا کوئی پروگرام ہے اور شاید کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم کہا ہے کہ میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوں، اس فیصلے کی تائید نہیں کر سکتی۔ ایک ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت بالخصوص وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔جس کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل نے کہا کہ میں ایک آسان ہدف ہوں لیکن قیمت میں یہ تبدیلی صرف پاکستان اسٹیٹ آئل کے اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں ہے۔ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ اپنے اخراجات گھٹائے عوام پر بوجھ نہ ڈالے مگر یہاں کابینہ بڑھتی چلی جا رہی ہے اور کچومر عوام کا نکالا جا رہا ہے۔