Image

گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں

گلگت،غذر،شگر:گلگت ،غذر اور شگر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں،نلتر بجلی گھر کے واٹر ٹینک میں سیلابی پانی کے ساتھ پتھر جمع ہونے سے گلگت کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جس سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ،ہزاروں کنال اراضی کو نقصان پہنچا ہے ،سینکڑوں درخت سیلاب کے باعث جڑوں سے اکھڑگئے ہیں ،جبکہ گورو میں پیٹرول پمپ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بارگو بالا میں سیلاب سے فش فارم مکمل تباہ ہوگیا ہے ، اس کے علاوہ سڑکیں، زرخیز زمینےں ، درختوں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔دریائے گوچ نالہ ہنزہ میں شدید طغیانی کے باعث مسلسل کٹاﺅ کا سبب بن رہا ہے جس کی وجہ سے ڈسٹرکٹ کونسل سلاٹر ہاﺅس۔ سرکاری فش فارمز۔ پیٹرول پمپ بہہ گئے ۔ تقریبا 15 مکانات کو نقصان پہنچا، ایک ہزار کنال فصلوں اور زمین کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایف ڈبلیو او کیمپ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ خطرے والے علاقے میں تقریبا 30مکانات ہیں۔ موجود ہ صورت حال میں دریاکا کٹاﺅ مسلسل جاری ہے اور یہ شاہراہ قراقرم تک پہنچ سکتا ہے۔ تمام اےچ او ڈےز اور امدادی ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں۔خطرے والے علاقے سے لوگوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹینٹ وےلج کیمپ قائم کردیا گیا ہے اور این ای سی کی امدادی اشیا فراہم کی گئی ہیں۔ نلتر میں سیلاب کی وجہ سے سڑک کو نقصان پہنچا ہے۔ ۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے حکام سڑک کی بحالی کا کام کر رہے ہیں سڑک کی بحالی کے بعد مشینری 18 میگاواٹ کے فوربے تک پہنچائی جائے گی فوربے کی صفائی کے بعد 18 میگا واٹ سے بجلی بحال کر دی جائے گی۔ بدھ کوغذرمیں سیلاب سے سلی ھرنگ پاور ہاﺅس کا مرکزی چینل ٹوٹ گیا جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے اشکومن اور غذر چترال روڑ کئی گھنٹوں تک بند رہا تاہم ضلعی انتظامیہ اور آر اے ڈی سی کی مشینری کے ذریعے غذر چترال روڑ بحال کیا گیا جبکہ اشکومن روڈ ہاﺅسز کے مقام پر بھی بحال کردیا گیا ہے، سیلاب سے یاسین طاس میں بھی تباہی مچ گئی ہے سینکڑوں کنال اراضی پر مشتمل زرعی اراضی زیر آب آگئی ہے جبکہ درختوں کو بھی نقصان ہوا ہے ضلعی انتظامیہ نے مختلف مقامات پر بحالی کا کام شروع کیا ہے ،شگر کے علاقے تسر میں سیلاب نے تباہی مچادی ارنچوگاﺅں اور قائم آباد میں سیلابی ریلے نے درختوں ،سینکڑوں کنال اراضی کو ملیا میٹ کردیا،سیلاب کے باعث فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اورلوگوں نے علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے ، سیلاب متاثرین کا کہنا تھا ہر سال موسم گرما میں سیلابی ریلے تسر میں تباہی مچاتے ہیں محنت کر کے کھیتوں کو آباد کرتے ہیں تو سیلاب ہماری محنت کو منٹوں میں ختم کردیتا ہے، لہذا حکومت ارنچو گاﺅں کو آفت زدہ قرار دیکر متاثرین کو کسی اور جگہ چھت فراہم کرے ،بالخصوص فورس کمانڈر گلگت بلتستان مدد کے لئے اقدامات اٹھائیں،دوسری جانب وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اوربحالی کے کاموں کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کو شروع کیا جائے۔ ہر سال سےلاب لوگوں کی جمع پونجی بہا کر لے جاتا ہے جب پانی کا بہاﺅ دریا کی قدرتی گنجائش سے بڑھ جائے اور خاص طور پر دریا کے موڑ یا نشیبی علاقوں میں اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلتا ہے ۔ سیلاب اکثر آبادیوں، زرعی املاک اور جنگلات کو نقصان پہنچاتا ہے۔گزشتہ سالوں کی طرح اِمسال بھی سیلاب تباہی کا پیغام لے کر آیا ہے اس سال بھی سیلاب کی تباہ کاریوںسے زرعی فصلیں اور ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر سیل نے متاثرہ اضلاع میں قبل از وقت آگاہی کی بگل بجا دی تھی لیکن افسوس ناک عمل یہ ہے کہ سالانہ بنیاد پر آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاﺅ کیلئے تاحال کوئی موثر حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی ہمیشہ کی طرح قصے کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ سیلاب کا سبب ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے دشمنی کی بنا پر واٹر وار کے تحت ڈیموں سے اضافی پانی پاکستان کے دریاﺅں میں چھوڑا جس سے دریاﺅں میں پانی کی حد تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے یہ تباہی پھیلتی ہے ۔ہمارے ملک میں ڈیموں کی تعداد انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے پانی کے اضافی بوجھ کو روکنا ممکن نہیں۔جب بھی پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا موسم آتا ہے تو بھارت ہمیشہ کی طرح اپنی منافقانہ دشمن سوچ کے تحت مثال کے طور پر بغل میں چھری منہ میں رام رام اوپر سے دوستی اور ہمدردی جتاتا ہوا نظر آتا ہے اندر سے دشمن کی طرح موقع کی تلاش میں کوئی وار خالی نہیں جانے دیتا اور بارشوں کے اس موسم میں وہ اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے دریاﺅںمیں پانی کی حدِ تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلتی ہے شہری اور دیہی علاقے اس لیے متاثر ہوتے ہیں کہ ایک دریاکے ہیڈ میں پانی کے گزرنے کی گنجائش چار پانچ لاکھ کیوسک ہے اور اگر اس میں پانی کی حد نو لاکھ کیوسک فٹ آجائے تو پھر اس ہیڈ و دریا کو محفوظ رکھنے کیلئے کم آبادی والے علاقوں میں دریاﺅں اور بندوں پر شگاف ڈالاجاتا ہے تاکہ پانی کے اخراج اور خطرناک حدِ تناسب کو کم کیا جائے ، اس شگاف سے اخراج شدہ پانی اور اس کی زد میں آنے والے علاقوں، بستیوںاور فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ قدرتی آفات ہماری اپنی کوتاہی ، ہٹ دھرمی عدم تحفظ کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہے کہ پانی کی نکاسی کیلئے سیوریج سسٹم بناسکتے ہیں ، ڈیم بنا سکتے ہیں لےکن نہےں بنائے ۔ اگر ڈیم ہوتے، پانی کے معقول اخراج و استعمال کا منظم انتظام ہوتا تو شاید یہ تباہی نہ پھیلتی ۔سیلاب ہر سال ملک میں آتا ہے،اس پر اربوں روپے کے فنڈ صرف کیے جاتے ہیں اور اس کے نقصانات کا باریک بینی کی عینک سے تخمینہ لگایا جائے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ریلیف آپریشن پر آنے والے اخراجات سے کم بجٹ میں ڈیم کی تعمیر ممکن ہے ،جب سیلاب آتا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام بھی کیے جاتے ہیں اور آئندہ کیلئے سیلاب سے بچنے کی ممکنہ پالیسی بھی وضع کی جاتی ہے روایتی انداز اور روایتی عمل کے تحت چند دنوں کے بعد ہم سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کو تاریخ کا حصہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں ۔ایسا ہی کچھ سیلاب کے آنے اور چلے جانے کے بعد ہمارے ملک و عوام کے ساتھ ہوتا ہے جہاں حکومتی مشینری سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن میںسر گرم عمل نظر آتی ہیں وہاں فلاحی ادارے، این جی اوزبھی اس موقع پر اپنی مدد آپ کے تحت جذبہ ہمدردی و خیر سگالی پر عمل پیر ا ہوتے ہوئے سیلاب سے متاثرین کی بھر پور مدد کرتے نظر آتے ہیں ۔اپنی مدد آپ کے تحت کرنے والے ادارے ، جماعتیں محدود وسائل میں لامحدود کام منظم پلاننگ و حکمتِ عملی سے سر انجام دیتے ہیں ۔سیلاب کی تباہی سے جو گھر مسمار ہوگئے ان کی تعمیر کیلئے حکومت کو منصوبہ بندی کرنا چاہےے۔ہر سال لاکھوں افراد سیلاب سے متاثر ہونے کے باوجود، زندگی اورذرائع روزگار کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ابھی تک ایک اعلی درجے کے ارلی وارننگ سسٹم کو نافذ نہیں کرسکا۔اگرحکومت علاقوں میں ایک ارلی وارننگ سسٹم نصب کر دے اورلوگوں کو بروقت اطلاع مل جائے تو ان کا قےمتی سامان تباہ ہونے سے بچ سکتا ہے ۔ہر سال پاکستان میں لاکھوں افراد سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کے جی ڈی پی کا سالانہ نقصان تقریبااےک فیصد ہوتا ہے۔ اس کے ذیلی اثرات کے نتیجے میں2030 تک پاکستان میں سالانہ 2.7 ملین افراد دریا ئی سیلابوں سے متاثر ہو سکتے ہیں تاہم ملک میں خستہ حال ارلی وارننگ سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ابھی باقی ہے اور سیلابی خطرات سے متاثر شہروں میں سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کوکم کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی نصب کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل مدت کی واٹر پالیسی، اپ گریڈیڈ ٹیکنالوجی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ پاکستان کو سیلابی پانی کی آفات سے نکلنے میں مدد کرسکتا ہے۔گلگت بلتستان کے حکام بالا کو چاہےے کہ وہ مستقل طور پر جغرافےائی حےثےت کے پےش نظر پےشگی انتظامات مکمل رکھے تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔