Image

پاکستانی جمہوریت، عدالت اور عوام

ڈاکٹر سلیم خان

عمران خان کی حکومت چار ماہ قبل گرگئی کیونکہ وہ ایوان پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھے اور اپنی تمام تر قلابازیوں کے باوجود حکومت نہیں بچا پائے ۔ اس کے بعد انہیں مجبوراشہباز شریف کو اقتدار کی باگ ڈور سونپنا پڑی۔ ا قتدار کی اس تبدیلی نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں بھی ہوا کا رخ بدل دیا اور پی ٹی آئی کے بیس ارکان پارلیمان نے اپنی وفاداری بدل دی۔ اس طرح حمزہ شریف کو وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہونے کا موقع مل گیا۔ اسی کے ساتھ باغی ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ ہوگئی اور پنجاب کے 20حلقوں میں ضمنی انتخابات کی نوبت آگئی۔ یہ بالکل اسی طرح کی صورتحال ہے جیسی کہ کرناٹک اورمدھیہ پردیش میں رونما ہوئی تھی۔ کانگریسی ارکان نے دل بدلا اور پھر انتخاب لڑا۔ پی ٹی آئی کے سارے باغی مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئے اور اس نے انہیں اپنے اپنے حلقہ میں ٹکٹ سے نواز دیا گیا۔ اب معاملہ عوام کی عدالت میں پہنچ گیا تھا لیکن پنجاب کے رائے دہندگان نے وہ نہیں کیا جو کرناٹک یا ایم پی میں ہوا تھا کہ باغیوں کی غداری کو نظر انداز کرکے انہیں دوبارہ کامیاب کردیا گیا بلکہ انہیں بدعہدی کی سخت سزا دے دی ۔پنجاب کے عوام نے ان ضمنی انتخابات میں سابق وزیر اعلی عثمان بزدار کی کابینہ کے 5وزرا سمیت 16منحرف اراکین کو مسلم لیگ نون اور حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کی حمایت کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں عبرتناک شکست سے دوچار کردیا۔یہ بات قابلِ ذکر ہے سیاسی حکمت عملی کے تحت پیپلز پارٹی آف پاکستان نے ووٹ کی تقسیم نہ ہونے دینے کے لیے اور عمران خان کو ہرانے خاطر اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارا تھا ۔ اس کے باوجود عوام نے اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کی۔ رائے دہندگان کے اندر اس طرح کی بیداری نہ ہو اور وہ غداری کے باوجود ابن الوقت امیدواروں کو کامیاب کردیں تو اس سے سیاست کے بازار میں خریدو فروخت کا رحجان پروان چڑھتا ہے۔ موقع پرستوں کو دھن دولت کے عوض وفاداری بیچنے کی ترغیب ملتی ہے لیکن اگر انہیں گھر بلکہ اس سے آگے بڑھ کر جیل بھیج دیا جائے تو سیاست کی دنیا میں خودغرضی کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے اس بڑی فتح کے بعد پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت 186کا سنہری ہندسہ عبور کرلیا ۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 188ہوگئی ہے اور مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادی 178 پر آگئے ۔ اس کے علاوہ چودھری نثار علی کے لاتعلق ہونے اور مسلم لیگ نون کے چار اراکین کے مستعفی ہوکر نااہل ہوجانے کے سبب وہ بھی انتخاب میں حصہ لینے سے محروم ہو گئے۔ حمزہ شریف کو اس صورتحال میں شرافت سے استعفی دے کر اپنی عزت بچانا چاہیے تھا لیکن جمہوری سیاستدانوں سے اقتدار کی شراب با آسانی نہیں چھوٹتی ۔ اپنا اقتدار بچانے کے لیے حمزہ شریف نے مسلم لیگ ق کے سربراہ شجاعت حسین سے اپنے ارکان کو خط لکھوایا کہ وہ ان کے چچا زاد بھائی اور پی ٹی آئی کے امیدوار چودھری پرویز الہی کے خلاف ووٹ دیں ۔ ان ارکان نے اپنے صدر کی مرضی کے خلاف ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا تو مسلم لیگ کے حمایت یافتہ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ان کے ووٹ کو گنتی میں شامل نہیں کیا ۔ اس طرح حمزہ شریف پھر سے وزیراعلی بن گئے۔اس صورتحال میں پرویز الہی کو عدالت عظمی سے رجوع کرنا پڑاجس نے بازی الٹ کر چودھری پرویز الہی کی حلف برداری کرادی ۔ شجاعت چودھری کو اب مسلم لیگ ق سے برطرف کردیا گیا ہے اور وہ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ ایسے ابن الوقتوں کا یہی انجام ہونا چاہیے لیکن اس کاسہرا پاکستان کی عوام کے سر جاتا ہے ۔ وہ اگر اندھے بھگتوں کی طرح منحرف لوگوں کو پھر سے کامیاب کردیتے تو عدالت بھی بے دست و پا ہوجاتی ۔ اس طرح پہلے عوام نے اور پھر عدالت نے ابن الوقت جمہوری سیاستدانوں پر نکیل کس کر ایک صحتمند سیاست کی روایت قائم کردی۔ حمزہ شریف کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے ہیں لیکن پرویز الہی اتنے مشہور نہیں ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز1977 کی حکومت مخالف تحریک کے دوران ہوا۔ بلدیاتی سیاست سے سیاسی سفرشروع کرنے کے بعد وہ بہت جلد صوبائی وزیر بن گئے لیکن ایک سال کے اندر اس وقت کے وزیرِاعلی نواز شریف سے ان کے اختلافات ہو گئے۔ 1986 میں چوہدری پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی میں نواز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ناکام کوشش کی ۔ انہوں نے نواز شریف کے خلاف ایک کتابچہ شائع کرکے بدعنوانی کے سنگین الزامات عائدکیے۔ نواز شریف کی مخالفت کے باوجود ہر انتخاب میں کامیاب ہوتے رہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے 1993 میں انہیں جیل بھیج دیاکیونکہ شہباز شریف کی غیر موجودگی میں وہ قائم مقام قائدِ حزبِ اختلاف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔یہ بات کہی جاتی ہے کہ نواز شریف نے وزیر اعظم بن جانے کی صورت میں پرویز الہی کو وزیرِاعلی پنجاب بنانے کا وعدہ کیا تھا تاہم جب1997 میں پاکستان مسلم لیگ انتخابات میں کامیابی مل گئی تو اس وعدے کے خلاف شہباز شریف کو وزارت اعلی کے عہدے سے نوازا گیا۔1999 میں مارشل لا کے سبب نواز شریف کی حکومت چلی گئی اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں شریف خاندان ملک بدر کردیا گیا ۔ اس کے بعد ابتدا میں چودھری پرویز الہی کو جیل میں ڈالا گیا اور ان کے خلاف کئی مقدمات قائم کیے گئے تاہم بعد ازاں پرویز مشرف کے ساتھ مصالحت کے نتیجے میں چودھری برادران نے مسلم لیگ ق کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔اس جماعت میں سابق پاکستان مسلم لیگ کے چند رہنماﺅں سمیت دوسری جماعتوں سے آنے والے کئی سیاستدان بھی شامل ہو گئے۔ق لیگ نے 2002 کے انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں دونوں سطح پر حکومت قائم کرلی۔ پنجاب میں کامیابی کے بعد پرویز الہی ایک واضح برتری کے ساتھ ریاست کے وزیرِاعلی منتخب ہو گئے۔ اور پھر اگلے پانچ برس وہ انتہائی مضبوط وزیرِاعلی ثابت ہوئے۔ انہوں نے صوبے میں ترقیاتی کام بھی کروائے اور اپنے اثر و رسوخ کو بھی بڑھایالیکن ایک عوامی یا مقبول لیڈر نہیں بن پائے۔پرویز الہی کی جماعت ق لیگ کا حال ہندوستان کی جنتا پارٹی جیسا تھا۔ وہ ایک قومی جماعت نہیں بن پائی کیونکہ اس میں شامل ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق پہلے دوسری سیاسی جماعتوں سے تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب 2007 جنرل مشرف کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا اور اس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو، سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی واپسی ہوئی اور تو ق لیگ میں شامل رہنماﺅں نے اسے خیر باد کہنا شروع کردیا۔2008 عام انتخابات میں مرکز کے اندر پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں قلیل عرصہ کے لیے چوہدری پرویز الہی قائدِ حزبِ اختلاف بھی بنایا گیا لیکن ازاں 2011 میں پی پی پی کی حکومت میں ان کو ڈپٹی وزیراعظم کے عہدہ سے نوازا گیا۔ ان کا اقتدار اگلے انتخابات میں ختم ہوگیا کیونکہ مرکز میں ن لیگ نے حکومت قائم کرلی۔ اس سیاسی نشیب و فراز سے گزرنے کے بیس سال کے بعد غیر متوقع طور پرپرویز الہی کی قسمت کا ستارہ پھر سے چمکا اور محض دس ا رکان کی پارٹی کا سربراہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلی بن گیا۔ہندو پاک میں چونکہ مغربی جمہوریت کا بول بالا ہے اس لیے ابن الوقتی اور موقع پرستی مشترک ہے۔ سیاسی نظام میں مقننہ کے علاوہ عدلیہ اور عوام کا بھی ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لیے ان ممالک کی سیاسی پختگی کا اندازہ لگانے کے لیے اول الذکر کے بجائے موخر الذکر پہلو کا موازنہ کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے اندر ابھی حال میں جو سیاسی اتھل پتھل رونما ہوئی یا تین ماہ قبل مرکز میں آنے والی تبدیلی کے تناظر میں یہ جائزہ لیا جاسکتاہے کہ ابن الوقت سیاسی رہنماﺅں سے علی الرغم عدلیہ اور عوام نے اپنی ذمہ داری کس طرح ادا کی؟ عدلیہ کی بات کریں تو چار ماہ قبل جس عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف فیصلہ دے کر انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کی راہ ہموار کی تھی اسی نے اس بار موجودہ وزیر اعظم کے بیٹے اور صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی حمزہ شہباز کے انتخاب کو کالعدم قرار دےکرچودھری پرویز الہی کو وزیراعلی بنوا دیا۔اندرا گاندھی کے خلاف اس طرح کا فیصلہ الہ باد ہائی کورٹ نے دیا تھا اس کے بعد ملک میں ایمرجنسی لگ گئی لیکن عمران خان کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مودی اور یوگی کے دور میں تو سرکار کے خلاف ایسے عدالتی فیصلے کا تصور بھی محال ہے ہندوستان اور پاکستان کی سیاست کا موازنہ جب بھی کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہندی جمہوریت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہاں کئی بار فوجی حکمراں اقتدار پر فائز ہوچکے ہیں لیکن یہاں ایسا کبھی نہیں ہوا۔یہ دعوی درست ہے لیکن پاکستان کے اندر فوجی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جس طرح عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا ،کیا ایسا ہندوستان میں نہیں ہوا؟ کیا اندراگاندھی نے ایمرجنسی نہیں لگائی اور کیا فی الحال غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ نہیں ہے؟ انسانی حقوق کو فوجی آمر پامال کرے یا جمہوری قائد اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ؟ بلکہ انتخابی مہم کے دوران خوشنما وعدے کرکے عوام کی مرضی سے اقتدار پر قابض ہوجانے والوں کا ایسا کرنا زیادہ معیوب ہے کیونکہ اس میں وعدہ خلافی اور فریب کاری کے عناصر بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے محض اس بات پر فخر جتانا کہ ہمیں فوجی جرنیلوں کے بجائے خود ہمارے ہاتھوں منتخب شدہ قائدین نے لوٹا بے معنی ہے۔ لوٹ مار تو لوٹ مار ہے اس کاارتکاب کرنے والے کی وردی اور چہرے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لیے جمہوری نظام کو زندہ طلسمات سمجھ کر عدل و انصاف کی ضمانت سمجھ لینا خوش فہمی زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ فی الحال سیاست میں موقع پرستی اور ابن الوقتی کو عیب نہیں خوبی سمجھا جانے لگا ہے بقول شاعر

کبھی اِس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے

اب تو انعام دیا جاتا ہے غداری پر