Image

پاکستان اللہ اور نبی کریم ﷺ کی پناہ میں

اسلم لودھی

جس نے بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ،وہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔اب جو پاکستان میں انتشار پھیلانے کی جستجو کررہے ہیں بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے ،ان شا اللہ قائم رہے گا۔افواج پاکستان کا ہر افسر اورہر جوان وطن کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ہرسال 6ستمبر کو ہم یوم دفاع مناتے ہیں ۔یہ دن ہمیں بھارتی جارحیت اور جنگ بدر کی یاد دلاتا ہے ۔جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں قطار در قطار فرشتے زمین پر اترے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے کافروں کی گردنوں کو جسم سے الگ کرکے انہیں جہنم واصل کیا تھا ۔جنگ بدر میں بھی تین سو تیرہ کا مقابلہ ایک ہزار کافروں سے تھا اور 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دونوں ملکوں کی افواج کا یہی تناسب تھا ۔پھر دنیا نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح پاک فوج کے مٹھی بھر جوانوں نے بھارت کے چھ سو ٹینکوں کے پرخچے اڑائے کہ انہیں واپس آکر حملہ ہونے کی جرات نہ ہوئی ۔کلمہ طیبہ کے نام سے بننے والے ملک پاکستان کا محافظ خود رب العالمین اور نبی کریم ﷺ ہیں ۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس نے بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ،اس کا انجام توقع سے کہیں زیادہ بدتر ہوا ۔بطور مثال شیخ مجیب الرحمان ، اندرا گاندھی ، بھٹو اور یحیی خاں ۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں یہ شخصیات کسی نہ کسی طرح شامل تھیں اور اب بھی جو شخص ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے ،وہ بھی جلد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ۔ان شاءاللہ اس لیے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آئندہ بھی جس نے وطن عزیز میں انتشار پیدا کرنے کی جستجو کی ،اس کا انجام بھی پہلے سے بدتر ہوگا ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بظاہر افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے بھارتی یلغار روکنے کی عملی طور پر جستجو کی۔ لیکن پس پردہ حقائق عوامل اس کے علاوہ بھی تھے ۔ اوکاڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ حضرت کرما ںوالا کے نام سے مشہور ہے ،یہاں اپنے دور کے سب سے بڑے ولی کامل حضرت سید ا سمعیل شاہ بخاری کا مزار شریف ہے ۔ یکم ستمبر 1965 کی بات ہے حضرت کرماں وا لے لاہورکے میوہسپتال میں زیر علاج تھے ،ان کا پروسٹیٹ کا آپریشن ہوا تھا ،آپ بخار میں تپ رہے تھے ۔معالجین نے انہیں چند ہفتے لاہور میں ہی قیام پذیر رہنے کی ہدایت کی تھی ۔دوستمبر کی بات ہے کہ انہوں نے گاڑی تیار کرنا کا حکم دیا ، عقیدت مند حیران تھے کہ اس لاچاری کی حالت میں سرکار کو واہگہ بارڈر پر وہ کونسا کام پڑگیا ہے جو ان کے بغیر نہیں ہوسکتا۔مریدوں نے آپ کو اس حالت میں جانے سے روکنا چاہا تو آپ نے فرمایا بیلیو۔آج میرا وہاں جانا بہت ضرور ی ہے،کیونکہ دشمن سے سرحدیں بھی تو محفوظ بنانی ہیں ۔چوہدری محمد انور بٹر جو آپ کے خاص مریدوں میں شامل تھے انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی ،آپ یہاں ہی سے توجہ فرما دیں ۔جس پر آپ نے فرمایا ویسے تومیں ادھر ہی چہرہ کرکے لیٹا ہوا ہوں مگر مجھے بنفس نفیس وہاں جانا ضروری ہو گیا ہے ۔چنانچہ آپ روکنے کے باوجود واہگہ بارڈر تشریف لے گئے ۔بخار کی حالت میں وہاں کچھ دیر چارپائی پر بھارت کی طرف رخ کرکے بیٹھے رہے ،پھر اپنے دائیں ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر چند کلمات پڑھ کر بھارت کی طرف پھینک دی ۔یاد رہے کہ ہجرت مدینہ کی رات جب کافروں نے آپﷺ کے گھر کا محاصرہ کررکھا تھا کہ آپ ﷺ گھر سے نکل نہ پائیں تو آپ ﷺ نے بھی ایک ہاتھ میں تھوڑی سی مٹی لی اور اس پر چند قرآنی آیات پڑھ کے ان کافروں کے سروں پر پھینک دی تھی ،جس سے کافروں کو نیند کی غنودگی نے آ لیا تھا اور آپ ﷺ بہت آرام سے اپنے گھر سے نکل کر غار ثور میں جا پہنچے تھے کچھ ایسا ہی منظر 1965 کی جنگ میں نبی کریم ﷺ کے حکم پر اللہ کے ولی دکھا رہے تھے ۔3ستمبر کی صبح آپ کے زخموں سے خون بہنے لگا لیکن اس تکلیف کے باوجود آپ برکی سیکٹر جا پہنچے اور وہاں بھی وہی عمل دہرایا جو واہگہ سرحد پر کیا تھا ۔ مریدوں نے ڈاکٹروں کی نصیحت یاد دلائی کہ سفر آپ کے لیے نقصان دہ ہے لیکن روکنے کے باوجود آپ گنڈا سنگھ بارڈر جا پہنچے اور دائیں ہاتھ پر مٹی اٹھا کر اس پر چند کلمات پڑھے اور بھارت کی جانب پھینک کر انتہائی تکلیف کی حالت میں لاہور واپس آکر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ۔ پاکستان کی حفاظت کے لیے نبی کریم ﷺ نے میری جو ڈیوٹی لگائی تھی وہ میں نے پوری کردی ہے، اب الحمداللہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں ۔قدرت کا کمال دیکھیئے کہ بھارتی فوج انہی تین مقامات پر حملہ آور ہوئی ،جہاں پیرو ں کے پیر حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری روحانی پہرہ لگا کر آئے تھے ، پھر وہاں کیا ہوا ،اس کا باقی احوال میجر شفقت بلوچ کی زبانی سنیئے -: ایک جانب حضرت کرماں والوں کا وطن عزیز کی سرحدیں محفوظ کرنا تو دوسری جانب میجر شفقت بلوچ جنہوں نے 110جوانوں کے ساتھ بھارتی بریگیڈکے حملہ کا سب سے پہلے سامنا کیا اور ٹینکوں اور توپوں سے لیس بھارتی فوج کو پورے دس گھنٹے رو کے رکھا اور پورا بریگیڈ تباہ کرکے جنگوں کی عالمی تاریخ میں اپنا اور اپنی کمپنی کا نام سنہری لفظوں میں لکھوا لیا ۔میجر شفقت بلوچ نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ہم 5ستمبر کی شام فٹ بال کا میچ کھیل کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ کمانڈنگ آفیسر نے مجھے بلا کر حکم دیا کہ آپ اپنی قیادت میں ایک سو دس جوانوں کی کمپنی لے کر آج رات بی آر بی تک جائیں گے ،وہاں سے پیدل ہی چلتے ہوئے ہڈیارہ ڈرین پہنچ کر آرام کرینگے ،اگلی صبح بریگیڈئر صاحب تشریف لاکر بتائیں گے کہ دفاعی نقطہ نظر سے مورچیں کہا ں کہاں کھودنے ہیں ۔میجرشفقت بلوچ ،ایک سو دس جوانوں کو اپنے ساتھ لے کر رات دس بجے بی آر بی پہنچ گئے ،وہاں سے پیدل ہی چلتے ہوئے ہڈیارہ ڈرین جا پہنچے۔ اس وقت رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا ، میجر صاحب تمام جوانوں کو آرام کرنے کا حکم دے کر خود بھی آرام کرنے لگے ،ہڈیارہ گاﺅں کی مسجدوں میں فجر کی اذان کی صدا بلند ہوئی تو میجر صاحب بھی وضو کرکے نماز ادا کرنے لگے،اسی دوران یکے بعد دیگر ے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں ،میجر صاحب نے وائرلیس آپریٹر کو حکم دیا کہ سرحد پر تعینات رینجر سے رابطہ کریں ،جب رابطہ قائم ہوا تو رینجرکے جوان کی اتنی سی آواز سنائی دی کہ بھارتی فوج نے حملہ کردیا ہے ،وہ تیزی سے لاہور کی جانب بڑھ رہی ہے۔یہ خبر میجر شفقت کے لیے پریشان کن تھی۔ انہوں نے کمانڈنگ آفیسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے حکم دیا کہ تم خود جاکر صورت حال کا جائزہ لو، جب میجر صاحب جیپ میں سوار ہو کر ڈرین کے دوسری طرف پہنچے تو رینجر کے ایک جوان نے انہیں بتایا سر بھارتی فوج ادھر ہی چلی آرہی ہیں ،آپ اگر تھوڑا سا بھی آگے گئے تو وہ آپ کو گرفتار کرلیں گے۔میجر صاحب وہیں سے پیچھے پلٹے اور کمانڈنگ آفیسر کو اطلاع دینے کے بعد اپنے 110جوانوں کو تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ڈرین کے مغربی کنارے پر مورچہ زن ہونے کا حکم دیا ، اسی اثنا میں دن کا اجالا پھیل چکا تھا،بھارتی فوج ٹینکوں اور توپوں کے ساتھ صاف بڑھتی ہوئی نظر آرہی تھی ۔میجر شفقت بلوچ نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ہڈیارہ ڈرین کے بند پر کھڑے ہو کر ٹینک شکن فائر کروا رہے تھے ،اللہ کا کرم ایسا ہوا کہ جتنے بھی گولے ہماری جانب سے فائر کیے گئے وہ بھارتی ٹینکو ں کو جا لگے ، جس سے بھارتی فوج کی پیش قدمی رک گئی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بھارتی فوج کے ٹینکوں اور توپوں کے تمام گولے اور گولیاں بلند بالا بند پر کھڑے ہوئے میجر شفقت کو چھو نہ سکے۔جب میجر عزیز بھٹی نے بی آر بی کے ساتھ دفاع لائن قائم کرلی تو میجر شفقت کو واپسی کا حکم ملا۔کمانڈنگ آفیسر نے میجر شفقت بلوچ سے پوچھا ،کتنے جوان شہید ہوئے،میجر شفقت نے کہا سر ہمارا کوئی جوان بھارتی فوج کی گولہ باری کی زد میں آکر شہید نہیں ہوا ۔ دو جوان واپس آتے ہوئے اپنی ہی باروی سرنگوں سے ٹکرا کر شہید ہوئے ،باقی 108 جوان آپ کے سامنے ہیں ۔یہی وہ کرامتیں ہیں جو حضرت کرماں والوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر پاکستانی سرحدوں پر جا کر اپنے دائیں ہاتھ میں مٹی اٹھاکر بھارت کی طرف پھینک کر پاکستانی سرحدوں کو محفوظ کیا تھا ۔1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان اور بھارت کا بظاہر دفاعی تقابل نہ ہونے کے باوجود دنیا والوں نے دوران جنگ جو حیرت انگیز واقعات سنے یا پڑھے انہیں انسانی عقل ماننے سے عاجز ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی قیادت میں انبیا کرام کی سواریاں میدان جنگ کی طرف رواں دواں دیکھی گئی ۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے کہ شہر لاہور اس لیے ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہا کہ یہاں اولیا کرام بالخصوص حضرت داتا گنج بخش اور دیگر ولیوں کا پہرہ تھا۔بھارتی ہوا بازوں کے حوالے سے ایسی خبریں بھی سننے کو ملتی رہیں کہ لاہور شہر کے شمالی کنارے پر بہنے والے دریائے راوی پر اس وقت ریلوے پل کے علا وہ صر ف ایک ہی پل تھا جسے توڑنے کے لیے بھارتی فضائیہ نے جتنے بھی فضائی حملے کیے وہ ناکام رہے ۔بھارتی پائلٹوں کے مطابق ہم جب بھی نیچی پرواز کرکے پل پر بمباری کرتے تو ایک سبز لباس والے بزرگ ہمارے گرائے ہوئے بموں کو کیچ کرکے اپنے تھیلے میں ڈال لیتے تھے ۔اگرخدانخواستہ راوی کا اکلوتا پل تبا ہ ہوجاتا تو پاک فوج کی نقل و حرکت یکسر رک جاتی اور سرحدوں پر صورت حال بھارتی فوج کے لیے موافق ہو جاتی ۔ایسا ہی ایک خط عمار صدیقی کی کتاب مجاہدین صف شکن میں بطور خاص شامل کیا گیا تھا ۔ یہ خط ایک ایسے شخص کا تھا جو ستمبر 1965 کے پہلے ہفتے میں مدینہ منورہ میں روضہ اقدس پر موجود تھا ۔ جس روز لاہور پر بھارت نے حملہ کیا ،اسی رات مدینہ منورہ کے کئی افراد نے ایک ہی خواب دیکھا کہ روضہ اقدس سے حضرت محمد ﷺ بہت عجلت میں ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر باب اسلام میں تشریف لے گئے ۔صحابہ کرام نے عرض کی ۔ یا رسول اللہ ﷺ اس قدر جلدی میں کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ پاکستان پر حملہ ہونے والا ہے‘وہاں جہاد کے لیے جا رہے ہیں ۔ یہ فرماتے ہی برق رفتاری سے آپ نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ آپ کے پیچھے مواجہ شریف سے پانچ افراد اسی راستے تیز ی سے چلے گئے ۔یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جیسے جنگ بدر میں مسلمان مجاہدین کی مدد کے لیے اللہ تعالی کے حکم سے فر شتے اتارے گئے تھے ،اس جنگ بدر میں زندہ بچ رہنے والے کافروں کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ ہمیں شکست مسلمان مجاہدین نے نہیں دی بلکہ مسلمانوں کو غیبی مدد حاصل تھی ۔یہاں میں بھی بتاتا چلوں کہ 1965 کی جنگ کے دوران آسمان پر تلوار نمودار ہوئی ، جس کی ہتھی پاکستان کی جانب تھی جبکہ تلوار کی نوک بھارت کی جانب تھی ، یہ کھلا اشارہ تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالی ، انبیا کرام ، صحابہ کرام اور اولیا اللہ کے مدد حاصل تھی ۔ڈاکٹر ثمرمبارک مند جنہوں سائنس دانوں کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کیے تھے ،انہوں نے ایک ملاقات میں ایسے ایسے انکشافات کیے تھے جنہیں سن کر انسان کی حیرت گم رہ جاتی ہے ، یہ واقعات ایک مکمل آرٹیکل کا تقاضا کرتے ہیں لیکن اختصار سے کام لیتے ہوئے میں صرف اتنا بتاﺅں گا کہ اگر ہمیں اللہ ، نبی کریم ﷺاور اولیا کرام کی غائبانہ مدد حاصل نہ ہوتی توہم کبھی ایٹمی دھماکے نہ کرسکتے ۔کیونکہ حالات ہمارے موافق نہ تھے جبکہ فضا میں امریکی اواکس اور سیٹلائٹ پاکستان کے چپے چپے کی نگرانی کررہے تھے ۔یہ باتیں پھر کبھی سہی لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان اللہ کی حفاظت میں ہے اسے ہر حال میں قیامت تک قائم رہنا ہے ۔ان شاءاللہ