Image

عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی

بھارت اےک بار پھر اپنی مذموم سرگرمےوں مےں مصروف ہے‘الزامات کی اس کی روش بہت پرانی ہے ‘جھوٹ بولنے میں اسے ےد طولی حاصل ہے ‘عالمی برادری کو وہ پاکستان کے خلاف گمراہ کرنے کی کوششوں مےں مصروف رہتا ہے‘ پاکستان پر اس کے بے جا اعتراضات معمول ہےں‘عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی اس کا وتےرہ بن چکا ہے۔کون نہےں جانتا کہ وہ پاکستانی پانےوں پر درجنوں ڈےم بنا چکا ہے۔کشن گنگا، جہلم کا معاون دریا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے مطابق اس کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔کشن گنگا منصوبے کی تعمیر پر بھارت نے تقریبا چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔اس اعتبار سے یہ منصوبہ انتہائی مہنگا ہے۔ کم پیدوار کا حامل ہونے کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی پیدا کرے گا۔یہ منصوبہ مقبوضہ کشمیر کی گریز وادی سے وادی کشمیر میں بانڈی پورہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کشن گنگا کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک مختلف راستہ استعمال کرتے ہوئے، جس کے لئے بانڈی پورہ تک تقریبا بےالےس کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے، وولر جھیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔پاکستان کا مقف ہے کہ اس پراجیکٹ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، نیلم میں پانی بھی کم ہوگا اور کشن گنگا کا راستہ بھی بدلا جائے گا۔ پاکستان خود اسی دریا پر ایک بجلی گھر نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ بنا چکا ہے پاکستان کا مقف ہے کہ اسے جتنا پانی ملنا چاہئے، اس سے بہت کم مل رہا ہے۔ اس خطے میں پانی کی قلت سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔آزاد کشمیر میں وادی گریز کے مقام پر یہ دریا اب محض چھوٹا سا نالہ بن کر رہ گیا ہے سارا پانی بھارت نے اس پراجیکٹ کے ذریعے روک لیا ہے ۔330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کے اعلان کے فورا بعد ہی پاکستان نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پاکستان کے اعتراض کے بعد بھارت نے بجلی گھر کے لئے 97میٹر اونچا بند تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اب اس کی اونچائی 37میٹر ہے۔لیکن 2010میں یہ تنازعہ دی ہیگ میں مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے پراجیکٹ پر کام روکنے کا حکم دیا۔ تین سال بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارت یہ بجلی گھر بنا تو سکتا ہے لیکن اسے کشن گنگا میں تعین شدہ مقدار میں پانی کے بہاﺅ کو یقینی بنانا ہو گا۔پاکستان نے 2016میں پھر عالمی بینک سے رجوع کیا، اس مرتبہ کشن گنگا پراجیکٹ کے ڈیزائن پر اپنی تشویش کے سلسلے میں آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھاکر کے مطابق بینک نے اس مسئلے کے تصفیے کے لئے دو سطح پر کارروائی شروع کی تھی لیکن فریقین کی اس دلیل پر کہ دونوں متضاد فیصلے سنا سکتے ہیں، اس کارروائی کو روک دیا گیا۔ جب کشن گنگا میں بجلی بننا شروع ہوئی تو پاکستان نے پھر عالمی بینک سے کہا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اب اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ کشن گنگا پر ماہرین کی رائے کے مطابق یہ بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جہاں صرف 330 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ آبی وسائل کے ماہرین کے مطابق اس کی سٹرٹیجک اہمیت زیادہ ہے کیونکہ گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے بہت قریب واقع ہے۔ چونکہ یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے اس لئے کشن گنگا پر لاگت معمول سے بہت زیادہ آئی جس کے نتیجے میں یہاں بننے والی بجلی بھی بہت مہنگی ہوگی۔اس لئے اس پراجیکٹ کو بنانے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے اور اس کا مقامی معاشرے، ماحولیات، دریا اور وہاں کی بائیو ڈائیورسٹی سب کو نقصان پہنچے گا۔ بھارت میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اکثر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے۔ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔ایک طرف تو بھارت نے اقتصادی جواز نہ ہونے کے باوجود محض پاکستان کا پانی روکنے کے لئے اپنی دفاعی ضرورت کے پیش نظر کشن گنگا بنا لیا دوسری جانب آزاد کشمیر میں نیلم جہلم پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد بھارت کافی پریشان نظر آرہا ہے۔31اپریل 2018کو سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر چکے ہیں جبکہ واپڈا نے ملک میں بجلی کی خطرناک حد تک کمی اور آزاد کشمیر کی مقامی آبادی کی علاقائی اور ماحولیاتی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی۔ 1997میں ہونے والی یورپی کمپنی کی سٹڈی رپورٹ کے مطابق مظفرآباد میں تین کیوبک پانی کی ضرورت ہے لیکن2011 میں واپڈا نے آزاد کشمیر حکومت کی تجویز پر دوبارہ سٹڈی کروائی تو مظفرآباد کے لئے تین سے بڑھا کرنو کیومک پانی کا بہاﺅ کر دیا گیا۔ دریائے نیلم میں موسم گرما میں پانی کا بہاﺅ چھ سو سے سات سو کیومک جبکہ موسم سرما میں یہ بہا گھٹ کر محض اسی سے نوے کیومک ہی رہ جاتا ہے اور نیلم جہلم واٹر ٹنل میں پانی کی حد گنجائش محض 280کیومک ہی ہے۔ اس طرح سے گرمیوں میں مظفرآباد میں واٹر ٹنل میں پورا280کیوبک پانی بھی چھوڑا جائے تو مظفرآباد میں پانی کا بہاﺅ زیادہ کم نہیں ہوگا چار ستمبر2018کو جب نیلم جہلم کے چاروں پیداواری یونٹ متحرک ہوئے تو طے شدہ معاہدے اور ماحولیاتی این او سی کی شرائط کے عین مطابق نوسیری سے نو کیومک پانی مظفرآباد کے لئے چھوڑا گیا جس پر شور ہوا کہ اس پانی سے ماکڑی واٹر سپلائی بھی بند ہو جائے گی لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان خود انتظامیہ کے ساتھ ماکڑی آئے جہاں واٹر سپلائی معمول کے مطابق رواں دواں تھی اس وقت نوسیری پاور گھر سے بہا نو کیوبک جبکہ مظفرآباد میں پانی کا بہاﺅ28کیوبک تھا جس پر ہر دو جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا بعد ازاں واپڈا پر اعتراض اٹھایا گیا کہ واپڈا ظاہر تو نو کیوبک بہا کر رہی ہے لیکن مظفرآباد میں پانی کا بہاﺅ اس سے بھی کم ہے جس سے ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ واپڈا کا کہنا تھا کہ وہ تحفظ ماحولیات معاہدے کے عین مطابق نو کیوبک پانی ہی چھوڑ رہی ہے چناچہ18ستمبر کو تحفظِ ماحولیات ایجنسی، واٹر سپلائی، واپڈا اور ضلعی انتظامیہ نے دوبارہ پانی کے بہا کی پیمائش کا واپڈا سے عملی مظاہرہ کروایا جو پورا نکلا جس پر آزاد کشمیر حکومت نے کہا کہ واپڈا پانی کا بہاﺅ مظفرآباد کے لئے اور بڑھائے۔ واپڈا کا کہنا ہے کہ گو کہ این او سی اور معاہدہ میں نو کیوبک ہے لیکن حکومت آزاد کشمیر کے مزید کہنے پر بہاﺅ بڑھا دیا۔ تین دن بہاﺅ نو کیوبک رکھا گیا اس کے بعد سے مسلسل نوسیری سے بیس کیوبک پانی چھوڑا جا رہا ہے جو مظفرآباد میں چالیس کیوبک تک جاپہنچتا ہے۔ اس کے عوض بجلی کم پیدا کی جا رہی ہے جس کے روزانہ نقصان کی شرح ایک کروڑ ہے۔پاکستان نے اس بھارتی پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ چینی انجینئرز اور عملے نے 969 میگاواٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی مرمت ترک کردی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ بھارت ایک بار پھر پن بجلی منصوبے کے بارے میں جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹس کا چرچا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ میں ایک خرابی کا پتا چلا ہے اور فی الحال اس کے تدارک کا کام جاری ہے جس کے لیے متعلقہ ادارے، چین کے گیزوبا گروپ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ گروپ پہلے ہی سائٹ پر مکمل متحرک ہوچکا ہے اور اس وقت کام بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سے جاری ہے، جبکہ 2023 میں منصوبے کی تکمیل متوقع ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پروجیکٹ پر کام روکنے یا ترک کرنے نام نہاد رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنا ہے جس کا مقصد پاک ۔ چین تعلقات کے بارے میں تنازع کو ہوا دینا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ ہمہ موسمی اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرز، دونوں ممالک اور عوام کے فائدے کے لیے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے جو ملک کا پہلا زیر زمین بجلی کا پراجیکٹ ہے ۔منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969میگاواٹ ہے۔ اس کے چار پیداواری یونٹ ہیں ، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت242.25میگاواٹ ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرنگ کاایک زبردست شاہکار ہے۔ اس کا 90فیصد حصہ بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے اور ایک دریا کو دوسرے دریا کے نیچے سے گزارا گیا ہے۔ منصوبہ ہر سال نیشنل گرڈ کو تقریبا پانچ ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا ۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریبا پچپن ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کئے گئے اِس منصوبے کے اہم حصوں میں نوسیری کے مقام پر تعمیر کیا گیا ڈیم، پچےس کلو میٹر طویل سرنگوں پر مشتمل زیر زمین واٹر وے سسٹم اور چھتر کلاس کے مقام پر زیر زمین تعمیر کیا گیا پاور ہاس شامل ہیں ۔