Image

سیاسی ہم آہنگی اور سماجی مساوات

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے صدر تحریک انصاف اور وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے بنی گالہ اسلام آباد میں اہم ملاقات کی اور وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر ججز کی تقرری کے ذریعے عدلیہ کی آزادی پر شب خون مارنے اور گلگت بلتستان کی منتخب اسمبلی اور حکومت کے اختیارات میں مداخلت کے ذریعے صوبائی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں سے آگاہ کیا اور حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کے باوجود وفاق کی جانب سے بحالی اور آبادکاری کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ عدم تعاون اور فنڈز کی فراہمی کیلئے لیت و لعل کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔چےئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اس موقع پر وفاقی امپورٹڈ حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے مروجہ ضابطہ کار کے برعکس تقرریوں کو صوبائی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو ہدایت جاری کر دیں کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو عملا مفلوج کرنے، آزاد عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوششوں اور منتخب اسمبلی و حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام سیاسی ،آئینی اور قانونی آپشنز بروئے کار لائے جائیں۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے گلگت بلتستان جیسے حساس خطے کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازشوں کو ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف دوبارہ برسر اقتدار آکر گلگت بلتستان کو معاشی، آئینی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کا عمل جو وفاق میں تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد امپورٹڈ حکومت نے سبوتاژ کیا ہے، وہ منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا اور گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرکے اور معاشی پیکیج پر مکمل عمل در آمد یقینی بنا کر برسوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائیگا۔موجودہ صورتحال میں سےاسی ہم آہنگی اس لےے بھی ضروری ہے کہ اس کے نتیجے میں باہمی سیاسی منافرت، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایسا متبادل بیانیہ تیار ہونا چاہیے جسکے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعا نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں۔اسی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی بہتری کیلئے نیا اور جامع میثاق معیشت ترتیب دیا جائے ۔توقع ہی کی جاسکتی ہے کہ سبھی فریق ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ملک و قوم کی بہتری کے لئے اپنی اپنی انا کے حصار سے باہر نکلیں۔ےاد رہے کہ سماجی مساوات ایک ایسی اخلاقی سیاسی قدر ہے جس کی اساس پر معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار ہوتا ہے۔اگر کسی معاشرے میں یہ قدر کمزور ہو تو اس کی وجہ سے جنم لینے والے مسائل انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں۔ سماجی مساوات جس طرح تمام شہریوں میں حقوق کی برابر فراہمی کا ذریعہ ہوتا ہے اور ریاست کے وسائل سے سب کو فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے، اسی طرح ملک وقوم کی ترقی وفلاح کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ گویا یہ ایک ایسا دوطرفہ عمل ہے جو شہریوں کے مابین تعلق کو پرامن ا ورخوشگوار بنیادیں فراہم کرتا اور ریاست کے ساتھ ان کے ربط کو صحت مند اورپیداواری بناتا ہے۔ایک حقیقی جمہوری نظم کی تعبیر ایسا سماج ہے جہاں شہریوں اور ریاست کے مابین اعتماد پر قائم تعلق کی فضا بحال ہو اور سماج کے باہمی انفرادی واجتماعی روابط میںہم آہنگی پائی جائے۔ سماجی مساوات ایسا میزان ہے جس پر کسی ملک وسماج کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی حیثیت کو پرکھا اور تولا جاسکتا ہے۔کوئی اور سیاسی قدر یا آئیڈیالوجی سماجی مساوات کی قدر سے زیادہ طاقتور اور موثر نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے سماج کی مختلف اکائیوں کو بلاتکلف اور فطری طور پرباہم متحد رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور دورہ ہے تو اس کا واضح مطلب ہوتا ہے کہ وہاں سماجی مساوات کو اہمیت حاصل ہے۔سماجی مساوات کے فروغ میں اگرچہ ریاست کا کردار بنیادی اور اہم ہے لیکن اس کا دائرہ صرف اسی تک محدودہے نہ وہ تنِ تنہا اس سے جڑے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ اس سماجی قدر کا معاشرے میں بھی پختہ ہونا ضروری ہے۔دوسروں کے حقوق کے حوالے سے شہریوں میں حساسیت کا ہونا ناگزیر ہے۔ کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں انفرادی اور اجتماعی سطح پر لوگ ایک دوسرے کے لیے نرمی اور باہمی تعاون کے جذبات رکھتے ہوں اور دستیاب وسائل تک ایک دوسرے کو رسائی دینے میں مدد کرتے ہوں۔سماجی مساوات کی عملی تعبیر یہ ہے کہ لوگوں کو شہریت کی اساس پر بلاتفریق حقوق حاصل ہوں اور میرٹ کی بنیاد پر تمام شہریوں کے لیے برابر مواقع یقینی بنائے جائیں۔ایسانہ ہو کہ کسی مخصوص طبقے، زبان،نسل یامذہب کے لیے تو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع موجود ہوں جبکہ دیگر گروہوں کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا رہے۔بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں یہ بنیادی اخلاقی وسیاسی قدر مفقود ہے۔پاکستان کا آئین سماجی مساوات کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے لیکن انتظامی سقم اورمتعصبانہ سیاسی کلچر کی وجہ سے اس کا عملی مظاہرہ ممکن نہیں ہوپاتا۔ چونکہ یہ معاشرہ شہریت کی اساس کی بجائے طبقاتی فکر کا حامل ہے اس لیے بلا تفریق ہر زبان، نسل اور مذہب کو برابر حقوق میسر نہیں آسکتے۔حکومتوں اور پارلیمان نے عملا ایسا نظام قائم کرنے میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی جس سے سماجی مساوات کو فروغ مل سکے۔ وی آئی پی کلچر اور قانون کی عملداری میں امتیاز برتنے کی روایت نے اس کے وجود کو اور مشکل بنا دیا ہے۔اگر سماجی مساوات کے فقدان کے ساتھ سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہوجائے تو معاشرتی ڈھانچہ مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔سیاسی استحکام بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے حصول اور سماجی اکائیوں کے باہمی تعلق کو متوازن ومعتدل رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک میں غیریقینی صورتِ حال سے جہاں ایک طرف معیشت متاثر ہوتی ہے وہیں اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سماج میں افتراق کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ایک ایسا ملک جہاں معاشرتی شکستگی اور اس میں تقسیم کے کئی اور سامان واسباب بھی وافر ہوں وہاں سیاسی عدمِ استحکام اور زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔اس سے جب معیشت،انصاف اور سےکیورٹی کے شعبے متاثر ہوتے ہیں تو لوگ بھی خوف اور غیریقینیت کا شکار رہتے ہیں۔ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ مافیا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے گروہ مضبوط ہوجاتے ہیں اور شہری ریاست کے مقابل اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگتے ہیںجس کا انجام بالآخر سماجی ڈھانچے میں دراڑ کی صورت برآمد ہوتا ہے۔پاکستان میں مسلسل سیاسی عدم ِاستحکام کی وجہ سے معاشی بدحالی اور سماجی اضطراب سنجیدہ مسئلہ بن کر نمودار ہوئے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو قرضوں کی صورت میں بیرونی امدا دملتی رہتی ہے لیکن یہ امدادبڑے پیمانے پر کوئی مثبت تبدیلی اور بہتری لانے میں ناکام ثابت ہوتی ہے۔ خصوصااس کے ثمرات سماج کے نچلے طبقے تک توپہنچ ہی نہیں پاتے۔ حقیقی مضبوطی، داخلی سیاسی وسماجی نظم کی طاقت سے حاصل ہوتی ہے۔لگتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کو شدید اندیشے لاحق ہیں۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے سیاسی قوتوں کو چوکنا اور ہوشیار رہنا ہوگا۔ ملک میں جمہوریت قائم رہنے سے ہی سیاسی پارٹیاں حکومت کرنے اور فیصلے کرنے کی مجاز ہوسکتی ہیں۔ اس لئے اس نازک وقت میں سیاسی اور گروہی اختلافات سے قطع نظر سب سیاسی قوتوں کو یکجہتی، ہم آہنگی اور سیاسی بلوغت وبصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تمام معاملات قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق طے کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون بے حد ضروری ہے۔اس وقت جو دھڑا بھی اپنے ذاتی مفاد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لئے جمہوریت دشمن قوتوں اور رویوں کا ساتھ دے گا، وہ عوام دشمنی کا مرتکب ہوگا۔ پاکستان کے عوام نے بے شمار قربانیوں کے بعد جمہوریت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اب اس سلسلہ میں حائل مشکلوں کو دور کرنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ تو اس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاز آرائی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے، جس کے سبب سیاسی ہم آہنگی ایک خواب ہی رہ گئی ہے۔