Image

اسرائیل کے خطرناک عزائم

حجاب فاطمہ

 فلسطین وہ خطہ ہے،جہاں کی سر زمین انبیا کا مرکز رہی ہے۔اور بیت المقدس دنیا میں وہ واحد جگہ ہے۔جو یہود و نصاری اور مسلمانوں کے لئے مقدس مقام ہے۔یہودیوں کے خیال میں یہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی، یہاں پرحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کی تیاری کی،یہاں پر ہی ہیکل سلیمانی ہے۔ عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام یہاں مصلوب ہوئے اور یہیں پر ہی ان کا مقدس کلیسا واقع ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ جگہ کئی وجوہات کی بنا پر اہمیت کی حامل ہے۔یہ سر زمین انبیا ہیں۔جسے قرآن مجید نے الارض المقدس کہا ہے۔اور حدیث میں بھی اس کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔تقریبا چودہ سال تک بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول رہا ہے۔اور یہیں سے آقا کریم ﷺ کا سفر معراج شروع ہوا تھا۔یہیں پر آپ ﷺ نے انبیا کی امامت کروائی۔اس کی حفاظت اور دفاع مسلمان ایسے ہی ضروری سمجھتے ہیں۔جیسے حرمین شریفین کا۔16ہجری میں جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا تو عیسائیوں نے اس معاہدہ پر القدس مسلمانوں کے حوالے کیا کہ مسلمان اس میں یہودیوں کو بسنے کی اجازت نہیں دیں گے۔نہ ہی یہودی یہاں سے زمین خرید سکیں گے۔اس معاہدے کو معاہدہ عمریہ یا شروط عمریہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ اس ہستی نے کیا،جن کے مشوروں کی تائید رب العالمین نے کی ہے، اور جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی مدعا کے مطابق قرآن کے احکامات نازل ہو جاتے تھے۔اس معاہدہ پر دستخط ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کئے جو امین الامت ہیں،اور معاذ بن جبلؓ کے ہیں جن کے بارے میں فرمایا کہ میرے صحابہ میں یہ حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں،اور خالد بن ولیدؓ کے ہیں،جو سیف اللہ ہے۔مسلمانوں نے ان شروط عمریہ کی پاسداری ساڑھے تیرہ سو سال تک پوری ذمہ داری سے کی۔خلفائے راشدین، بنو امیہ، بنو عباسیہ اور عثمانیہ 1920 تک حرمین اور بیت المقدس کا تحفظ کرتے رہے۔ درمیان میں میں کچھ عرصہ مسلمان بیت المقدس سے محروم ہوئے بھی مگر سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے غیور اور عظیم لیڈر نے ہزاروں قربانیاں دے کر بیت المقدس واپس حاصل کر لیا۔ یہاں تک کہ جب سلطنت عثمانیہ کے خلاف یورپ کی تمام طاقتوں نے اتحاد کر لیا۔ایک ایک کر کے ترکوں کو مشرقی یورپ سے نکالا گیا،ترکوں نے دفاع کیا ہزاروں کی تعداد میں شہید ہوئے مقروض ہوئے مگر حرمین اور بیت المقدس کے تحفظ میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہاں تک کہ 19ویں صدی کے اواخر میں اتنے مقروض تھے کہ سلطنت کو چلانا ان کے بس میں نہیں رہا تھا۔اس وقت سلطان عبدالحمید ثانی خلیفہ تھے۔1902میں استنبول میں ان سے ملنے یہودیوں کا ایک وفد آیا اور انہیں پیش کش کی، کہ اگر آپ القدس میں یہودیوں کو زمین خریدنے کی اجازت دے دیں، تو دنیا کے یہودی آپ کا سارا قرض اتار دیں گے۔اور آئندہ دس سال تک جتنے مالی وسائل کی ضرورت ہے، وہ سب ادا کر دیں گے،آپ نے فرمایا تم اسی وقت نکل جا، تم یہ چاہتے ہو کہ میں وہ پہلا مسلمان بنوں جو شروط عمریہ کیخلاف ورزی کرے۔ میں اس امانت کا سودا کرنے کے لئے یہاں بیٹھا ہوں،میں مر جاﺅں گا مگر امانت کا سودا نہیں کروں گا۔ جب یہ وفد یہاں سے جانے لگا تو اس کے سربراہ نے کہا کہ ہم بھی سمجھ لیں گے کہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔اس واقعہ کے چھ سال بعد سلطان کو معزول کر کے قید کر دیا گیا۔جو شخص معزولی کا پروانہ لے کر گیا یہ وہی شخص تھا۔جس نے یہودی وفد کی قیادت کی تھی،اور سلطان کو دھمکی دے کر آیا تھا۔ حیران کن اور تکلیف دہ بات یہ ہے،کہ یہ جرمن یہودی ڈاکٹر ہرزل تھا،جو 1948 میں اسرائیل کا پہلا صدر بنا۔اسی نے سلطان کو رشوت کی پیش کش کی،پھر یہی معزولی کا پروانہ لے گیا،اور پھر یہ شخص ہی اسرائیل کی ناجائز ریاست کا پہلا صدر بنا۔سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی کے بعد آنے والی حکومت نے یہودیوں کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت دے دی،1908 سے 1918 تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر بھی ان دس سالوں میں یہودیوں کی آبادی فلسطین میں 6 فیصد ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم جو برطانیہ فرانس اور جرمنی کے درمیان ہوئی تھی، اس کے بعد اس پوری سر زمین کے حصے بکھرے ہوئے فلسطین کے کئی ٹکڑے کر دیئے گئے۔ایک چھوٹا سا حصہ کاٹ کر یہودیوں کو دے دیا گیا جس کو اسرائیل کا نام دے دیا گیا۔حالانکہ وہاں یہودیوں کی آبادی چھ فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن یہ یہودیوں کا پرانا پلین تھا جس کا فیصلہ انہوں نے 1799 میں سوئٹزرلینڈ میں کیا تھا۔صیہونی ریاست بنانے کی یہ پہلی پیش کش فرانسیسی ڈکٹیٹر نیپولین بونا پارٹ نے کی تھی،کہ فلسطین میں یہودیوں کا وطن موعود قائم کیا جانے گا۔ان کی پالیسی بڑی واضح ہے،یہ چھپی ہوئی نہیں ہیں۔پھر 1897 میں انہوں نے اس کا نقشہ دیا ہے،اس کے گرد ایک سانپ ہے۔یہ نقشہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں لگا ہوا ہے۔اس پر یہودی اور عیسائی متفق ہو چکے ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے، کہ مسلمانوں کی غفلت اور کور چشمی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی، کہ دنیا کی دو بڑی قومیں ان کی تباہی پر متفق ہو چکی ہیں اور یہ ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔حالاں کہ قرآن ہمیں چودہ سو سال پہلے خبر دار کر چکا ہے۔بہر حال اس نقشہ کا چار نکاتی خطر ناک ایجنڈا یہ ہے۔

 آرمگڈ ڈون،armageddon کا مطلب ہے کہ بہت بڑی جنگ جو اس دنیا کے خاتمے سے پہلے خیر اور شر کے درمیان ہو گی۔ عربی میں اسے اربعہ جدول کہتے ہیں، اور یہ بائبل کی آخری کتاب مکاشفہ یوحنا میں ہے۔حدیث شریف میں اس جنگ کو الملحمتہ العظمہ کہا گیا ہے۔ یعنی بڑی جنگ اس کا ذکر حدیث صحیح میں ہے کہ وہ جنگ جب ہو گی تو ایک بندے کے اگر 100بیٹے ہیں تو ایک بچے گا۔اس کی تفصیل کتاب الملاحم میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

اس کے نتیجے میں گریٹر اسرائیل قائم ہو جانا۔گریٹر اسرائیل کی تفصیل بھی جان لیجئے۔گریٹر اسرائیل:عراق،شام،اردن،ترکی کا جنوبی علاقہ،مصر کا صحرائے سینا اور اس کا زرخیز ترین علاقہ ڈیلٹا،سعودی عرب کا شمالی علاقہ، بشمول مدینہ منورہ، اس تمام علاقے کو وہ اسرائیل میں شامل سمجھتے ہیں۔اور اس پورے علاقے کو اسرائیل بنانا چاہتے ہیں۔جس کا مرکز ہیکل سیلمانی ہو گا۔

مسجد اقصی اور ڈوم آف دا راک کو گرانا۔اور تیسرا ٹیمپل بنانا:یہ سمجھنا ضروری ہے، کہ ٹیمپل اور ڈوم آف راک کیا ہے۔ القدس کی ایک پہاڑی ہے،جسے ٹیمپل ماﺅنٹ کہتے ہیں۔اس ماﺅنٹ کے اوپر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک معبد بنایا تھا، یعنی مسجد مگر یہودی اسے ٹیمپل کہتے تھے۔ اسی پہاڑی سے آقا جان ﷺ کا سفر معراج شروع ہوا، چٹان کی وہ جگہ جہاں سے سفر معراج شروع ہوا تھا اس پر اموی حکمران عبدالملک بن مروان نے ایک بہت بڑا گنبد بنوایا،جسے قبة الصخرا کہتے ہیں۔ یہی ڈوم آف دا راک ہے۔ یہودی جسے گرانا چاہتے ہیں۔صخرہ چٹان کو کہتے ہیں۔اس چٹان پر دو ڈوم ہیں، ایک بڑا ڈوم، قبتہ الصخرا دوسرا چھوٹا ڈوم، مسجد اقصی یہ دونوں ٹیمپل ماﺅنٹ پر ہیں۔ انھیں اب اپنا تیسرا ٹیمپل بنانا ہیں۔یعنی وہ مسجد ٹیمپل دوبارہ تعمیر کرنا ہے، جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک ہزار قبل مسیح میں تعمیر کیا تھا،پھر اسے بخت نصر نے تباہ کیا، پھر قائم ہوا پھر 70 میں ٹائٹس رومی نے گرا دیا، جو اب تک گرا ہوا ہے،گویا کہ یہودیوں کا خانہ کعبہ انیس سو سال سے گرا پڑا ہے۔صرف ایک دیوار ہے۔جہاں جا کر روتے پیٹتے ہیں،اسے ہی دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔حضرت داﺅدؑ کا تخت اس ٹیمپل میں لا کر رکھنا۔اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے۔ یہ وہ پتھر تھا جس پر حضرت داﺅد سلیمان علیہ السلام کو بیٹھا کر تاج پوشی کی گئی، پھر جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بنا دی، یہودی جسے ٹیمپل کہتے ہیں، تو یہ پتھر یا تخت اسی مسجد میں لا کررکھ دیا گیا۔ اس کے بعد کسی بھی اسرائیلی بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی،اسی پتھر پر ہوئی جب ٹائٹس رومی نے مسجد‘ٹیمپل کو گرا دیا تو وہ پتھر روم گیا،روم سے آئر لینڈ گیا، آئر لینڈ سے سکاٹ لینڈ گیا، سکاٹ لینڈ سے انگلینڈ آ گیا اور انگلینڈ میں چودھویں صدی عیسوی میں اس پتھر کو ایک کرسی کی سیٹ پر لگا دیا گیا، اور اب یہ ان کے پارلیمنٹ کے ساتھ جو چرچ ہے، اس میں رکھا ہوا ہے۔اب برطانیہ کے ہر بادشاہ کی تاج پوشی اسی پر ہوتی ہے۔اب یہودی اسے تیسرے ٹیمپل میں لا کر رکھنا چاہتے ہیں، یہ وہ چار نکاتی ایجنڈا ہے۔جس پر یہودی اور عیسائی متفق ہیں۔ مگر اس سے پہلے وہ پاکستان اور افغانستان سے نبٹ لینا چاہتے ہیں۔کیونکہ جب وہ اپنے مذموم ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوے مسجد اقصی اور قبتہ الصخرا، کو گرائیں گے تو عالم اسلام میں جو آگ بھڑکے گی، اسے وہ پہلے ہی بجھا دینا چاہتے ہیں۔البتہ اسلامی آثار اور فلسطینیوں کو وہ القدس سے آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں۔1967 کی جنگ میں جب اسرائیل نے تین مسلم ممالک کو شکست دی، تو اس حوالے سے انہوں نے پیرس میں جشن منایا۔اس میں تقریر کرتے ہوئے داوید بن گوریون جو اسرائیل کا پہلا وزیراعظم تھا، نے کہا کہ ہمیں کسی عرب ممالک سے کوئی خطرہ نہیں۔خطرہ ہے تو پاکستان سے ہے حالانکہ اس وقت پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا۔اسی طرح جب پوچھا گیا کہ نیٹو کی تیاری کس لئے تو جواب تھا کہ اسلامک فنڈا مینٹلز سے نبٹنا ہے۔انہیں خطرہ اس حدیث رسولﷺسے ہے، جس میں مشرق سے فوجیں آنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔اور مشرق میں پاکستان ہے۔اب سوال یہ ہے،کہ یہودی اور عیسائی تو احادیث رسول ﷺ کی پیشنگوئی کو دیکھتے اور یقین رکھتی ہوئے، اس حوالے سے اپنے منصوبے بنا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ بطور خاص امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔جس کے لئے بڑی لمبی چوڑی جال بچھا چکیں ہیں۔مگر امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے۔ امت مسلمہ احادیث کی روشنی میں اپنا کیا کردار نبھا رہی ہے۔ فلسطین کے حوالے سے اسلامی تنظیموں کے کردار کی بات کی جائے تو عرب لیگ 1946 میں قائم ہوئی تھی۔ فلسطین کے مسئلے کا حل اس کے اہم ترین مقاصد میں سے تھا،اس کے بعد O.I.C کو دیکھا جائے تو یہ تنظیم 1969 میں قائم ہی اس وقت کی گئی تھی،جب مسجد الاقصی پر ایک حملہ ہوا تھا۔یعنی یہ تنظیم قائم ہی مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ہوئی تھی مگر ان تنظیموں کی ترجیحات ہر ذی شعور پر واضح ہیں۔اگر 57 مسلم ممالک کے سربراہان میں کوئی دم خم ہوتا دینی حمیت و غیرت ہوتی تو دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح نہ بہایا جاتا۔دنیا بھر میں جہاں دیکھیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔بھیڑ بکریوں کی طرح ان پر ظلم ہو رہا ہے۔مسلمان بچوں پر ٹینک چڑھائے گئے، ان کے کباب بنائے گئے، 35 ہزار مسلمان عورتیں اغوا کر لی گئیں۔ظلم کی یہ داستان اتنی لمبی ہے کہ یہ تحریر تو کیا پانچ سو صفحات کی کتاب بھی کم پڑ جائے، مگر ان تمام مظالم کے باوجود اسلامی تنظیموں اور 57 ممالک کے سربراہان کی بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں آیا،آج تک یہ تنظیمیں عالم کفر سے معاشی بائیکاٹ تک نہ کر سکیں اور ان کے سربراہان میں ایک بھی عالم کفر کو للکار سکا نہ دو ٹوک موقف اختیار کر سکا۔اسلامی تنظیموں سے امیدیں لگانے والوں پر حقیقت ابھی بھی عیاں نہیں ہوئی کہ سعودی عرب کی زیر قیادت بنائی گئی اسلامی ممالک کی افواج کے مقاصد میں بھی مقبوضہ فلسطین،یا کشمیر کی آزادی کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ عرب ممالک تو اس دہشت گرد ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں اور ان کی بے غیرتی اور مردہ ضمیری کا حال یہ ہیں،کہ جب یہودی اپنے قومی ترانے میں مسلمانوں کی چھاتیوں میں نیزے گاڑنے، اور ان کے سر کاٹنے کا عہد کرتے ہیں،تو یہ ادب سے سر جھکا رہے ہوتے ہیں۔ ہر مسلمان اپنے دل سے فتوی لے لے کیا اسے ہی ایمان کہتے ہیں،کیا یہ ہی انداز مسلمانی ہے،کہ یہودی دہشت گرد اپنا دینی فریضہ سمجھ کر مسلمانوں کے ٹکڑے کر رہے ہوںاور مسلمان خاموش تماشائی بنے حجروں میں آرام سے بیٹھے ہوں۔اگر بات کی جائے اقوام عالم کے کردار کی تو ان سے امید رکھنا بے وقوفی اور جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔اقوام عالم کی حقیقت یہ ہے،کہ 1922میں اس وقت کے عالمی ادارے لیگ آف نیشن نے فلسطینی سرزمین پر صیہونی ریاست کی منظوری دی تھی،پھر 1948 میں اقوام متحدہ کی منظوری سے ہی فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔یہاں ہر صاحب عقل کے لئے یہ بات اہم ہے،کہ اقوام متحدہ، امریکا، برطانیہ، اس وقت کے سوویت یونین اور حالیہ روس سمیت دیگر بڑے ممالک نے صیہونی ریاست کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔تو اب وہ کس طرح فلسطین پر ہونے والے ظلم کے خلاف کوئی اقدام کریں گے یا اس کے لئے کچھ بھی کریں گے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں یہی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، عالم کفر اچھا اور مسلمان دہشت گرد ہیں۔دنیا کے یہ تمام دہشت گرد مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ دکھ تو یہ ہے،کہ مسلمانوں کی جاہلیت کا حال یہ ہے، کہ یہ ان کے پروپیگنڈے میں شریک ہو جاتے ہیں۔جب کہ حقائق کچھ اور ہیں، اسرائیل کا قومی ترانہ ہی ان کی عظیم ترین دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قرآن مجید نے تو 1400سال پہلے ہی کھول کھول بیان کر دیا تھا،کہ یہودی اور عیسائی کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔جب کہ تاریخ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ میثاق مدینہ کی خلاف ورزی سے لے کر آج تک کوئی دور ایسا نہیں گزرا جب یہودیوں نے اسلام کے خلاف سازشیں نہ کی ہوں۔ اس لئے فلسطین،کشمیر یا دنیا بھر کے تمام مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے بچانے کا راستہ اور اس مسئلہ کا حتمی حل وہی ہے۔جو قرآن مجید نے دے دیا ہے۔ بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگاران ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔ سورہ النسآ: آیت 75۔عام مسلمانوں کی بات کی جائے،تو ان پر بھی بہت سی ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں،مغربی طاقتیں فلسطینیوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے فلسطین کے وزیر خارجہ کی طرف سے اپیل کی گئی تھی کہ اگر دنیا کا ہر مسلمان سال میں ایک ڈالر بھی انہیں دے دے تو ان کا نظام اچھے طریقے سے چل سکتا ہے۔ اس لئے مالی امداد،دعا،ان کے حق میں رائے عامہ پیدا کرنا۔ان کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا۔الغرض جتنا آپ کے اختیار میں ہیں وہ ضرور کریں۔سب سے زیادہ ضروری اور بہت اہم ذمہ داری یہ ہے،کہ ووٹ کے ذریعے ان لوگوں کو اوپر لائیں جو فلسطینیوں اور دنیا کے تمام مظلوم مسلمانوں کے لئے عملا کچھ کریں گے۔جن سیکولر،لادین اور اسلامی ٹچ والے سیاستدانوں کو آزما چکے ہیں۔ان کو ووٹ دے کر ظلم کا ساتھ ہرگز نہ دیں۔اگر آپ ووٹ ظالموں کو دیتے ہیں تو یاد رکھیں،ان کے ہر ظلم میں آپ برابر کے شریک ہیں۔یہی وجہ تھی کہ امام عالیؑ مقام نے یزید کو ووٹ نہیں دیا تھا۔اس کے علاوہ ہر مسلمان اپنے اپنے دائرہ کار میں جو کر سکتا ہے وہ کرے۔جو اور کچھ نہیں کر سکتا تو جس زبان کو سمجھتا اس میں اس مضمون کا ترجمہ کر کے،اس کی تشہیر کرے۔یا اسی مضمون کے ساتھ ہی کلمہ حق بلند کرے۔ جن مسلمان ممالک نے ظالم صیہونی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔انہوں نے قرآن کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ شروط عمریہ کیخلاف ورزی کرنے والے حضرت عمرؓ کے غدار ہےں،وہ اسلام کے غدار ہےں۔جنہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے خون کا سودا کیا ہے۔یا کرنے کا سوچ رہے ہیں وہ قرآن مجید کا فیصلہ یاد رکھیں۔ بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے۔ جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں۔ تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کی چرخ دیے(کھولتے)ہوئے دھات کی طرح ہے۔ کہ ان کے منہ بھون دے گا۔کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔ (الکہف 29 )رہا معاملہ پاکستان کے نام نہاد لیڈروں اور اسرائیل کے حالیہ دورے کرنے والوں کا اور اس کے حق میں رائے عامہ پیدا کرنے والو کا، یاد رکھو،ایسا سوچنا بھی مت، جس دن مسلمانوں کے قلوب پر جمی راکھ کے نیچے سے چنگاریاں بھڑک اٹھی،اس دن تم اور تمہارے ڈیڑھ کروڑ یہودی آقا اس آگ میں جل جاﺅ گے۔ پاکستان اور پاکستانی فلسطین کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فلسطین کی تائید میں کئی بیانات جاری کئے تھے۔ہر طرح سے اسرائیل کی ریاست کو کنڈم کیا اسے استعمار کا ناجائز بچہ قرار دیا تھا،1940 میں جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی وہاں اسرائیل کی ناجائز ریاست کی مذمت کی قرار داد بھی منظور ہوئی تھی۔جب شہید ملت لیاقت علی خان امریکہ کی دعوت پر اس کے پہلے دورے پر گئے۔تو وہاں ان کے تقریر کرنے کے بعد امریکی کانگریس کے پریزیڈنٹ نے لمبی تقریر کی اس میں مختلف کئی قسم کی مراعات بتائیں، جن کی لمبی لسٹ تھی اور کہا کہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے تو ہم آپ کو یہ تمام مراعات دیں گے۔ لیاقت علی خان نے صرف ایک جملے میں اس کا جواب دیا تھا۔جو سونے کے پانی سے لکھا جائے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا تھا۔Gentlemen our soul is not for saleجنہیں اسرائیلی ناجائز ریاست کو تسلیم کر نے کا خیال بھی آئے،وہ اچھی طرح سمجھ لیں،کہ فلسطین ہمارا روحانی مسئلہ ہے،عالم کفر بھی جان لے کہ چند بکاﺅ نام نہاد مسلمان حکمران گو کہ تم نے خرید لئے ہےں، مگر سب یہودی اور ان کے مسلمان نما ایجنٹ یاد رکھیں، ڈیڑھ سو کروڑ مسلمانوں کی روح برائے فروخت نہیں ہے۔ یاد رکھنا مسلمان کے نزدیک روح نہیں مرتی اس لئے ہم مر کر بھی فلسطین کا سودا نہیں کریں گے۔کیونکہ ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے۔