Image

گلگت ہسپتال میںایف سی پی ایس ٹریننگ کی منظوری

وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کے گلگت بلتستان میں صحت عامہ کے روایتی نظام کو بدلنے کیلئے خصوصی اقدامات کے تحت پہلی بار پراونشل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت میں ایف سی پی ایس کی ٹریننگ شروع کرنے کی باقاعدہ منظوری مل گئی ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے پی اےچ کےوہسپتال گلگت کو میڈیکل، ریڈیالوجی اور پیڈز میڈیسن کے شعبے میں ایف سی پی ایس ٹریننگ کے لیے باقاعدہ طور پر این او سی جاری کر دی ہے اور جلد ہی گلگت بلتستان کے سب سے بڑے ہسپتال میں صحت عامہ کے مذکورہ شعبوں میں ایف سی پی ایس تربیت کا آغاز کیا جائیگا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی خصوصی کاوش پر گلگت بلتستان میں پہلی بار پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ، ہاﺅس جاب اور نرسنگ کلاسز کے باقاعدہ آغاز کیلئے انتظامات اور سہولیات کا جائزہ لینے کیلئے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے صدر کی زیر قیادت 18 رکنی ٹیم نے حالیہ دنوں میں گلگت، سکردو اور چلاس کے ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے گلگت پراونشل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایف سی پی ایس کی ٹریننگ کیلئے منظوری کو تاریخ ساز لمحہ قرار دیتے کہا ہے کہ صحت عامہ کی سہولتوں کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اورصحت کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد عوام کو گھر کی دہلیز پرمعیاری، بہتر اور جدید طبی سہولتوں کی فراہمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا سابق حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے قلیل مدت میں صحت کے شعبے میں اہم منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اور گلگت پراونشل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایف پی ایس سی کی ٹریننگ شروع ہونے سے نہ صرف عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات یقینی بنائی جائیگی بلکہ گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں کیلئے بھی طبی استعداد بڑھانے کے مواقع بھی دستیاب ہونگے۔پراونشل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت میں ایف سی پی ایس کی ٹریننگ شروع کرنے کی باقاعدہ منظوری خوش کن ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گےہم دےکھتے ہےں کہ سعودی ہیلتھ کمیشن کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کی ایم ایس اور ایم ڈی کی ڈگریاں مسترد کیے جانے کی خبر کے بعد پاکستان کے عوامی حلقوں میں ملک کے طبی تعلیم کے نظام پر شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے تھے۔ دراصل ڈاکٹروں کو نوکری سے نکالنے کے معاملے پر دو پاکستانی طبی ادارے سی پی ایس پی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان اور اے یو پی ایس پی ایسوسی ایشن یونیورسٹی آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان آپس میں برسرپیکار رہے ۔اس وقت کہا گےا کہ سعودی عرب میں صرف ان ڈاکٹروں کی ڈگریاں مسترد کی گئی ہیں جو اے یو پی ایس پی کے ساتھ منسلک ہیں۔ دراصل سی پی ایس پی نے حسد کی بنا پر سعودی حکام کو بتایا کہ ان ڈاکٹروں کی پاکستان میں بھرپور کلینکل تربیت نہیں ہوئی ہے۔کہا جاتا رہا کہ اصل بات یہ ہے کہ سی پی ایس پی ہر جگہ اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ایف سی پی ایس ڈاکٹروں کی تنخواہ اور عہدے ہمارے ایم ایس اور ایم ڈی ڈگری ہولڈر ڈاکٹروں سے کم ہیں تو انہوں نے سعودی حکام کو شکایت لگائی۔اس وقت کئی سو ڈاکٹروں کے نکالے جانے کا اعلامیہ جاری کیا گےا ۔ایم ای ای کے مطابق پاکستانی ایم ایس اور ایم ڈ ی کی ڈگریاں مسترد کرنے کے بعد سعودی وزارت صحت نے وضاحت کی کہ یہ ڈگریاں ان کی سرزمین پر اعلی عہدوں پر پریکٹس کرنے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قرضے کے لین دین کے بعد پاکستان کے لیے سعودی عرب میں مقیم اپنے لوگوں کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ سی پی ایس پی کے ترجمان ڈاکٹر پروفیسر غلام مصطفی کا کہنا تھا سعودی عرب میں ابھی تک ایک ڈاکٹر کو بھی ایسی کسی بنیاد پر نہیں نکالا گیا۔ البتہ کچھ ڈاکٹروں کو ان کی سالانہ خراب کارکردگی کی بنا پر نکالا گیاجس کے لیے کسی اور کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ سی پی ایس پی کے کچھ ذرائع کا کہنا تھا تمام خلیجی ممالک کے اپنے قواعد ہیں۔ کچھ ممالک میں ایم ایس پر پریکٹس کی اجازت ہے اور کہیں پر نہیں ہے۔اگر پاکستانی ڈاکٹر امریکہ اور برطانیہ میں کام کرسکتے ہیں تو سعودیہ میں کیوں نہیں؟ پاکستان میں ایم ایس اور ایم ڈی پروگرام کی ٹریننگ محض برائے نام ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایف سی پی ایس جو کہ پاکستان میں طب کی سپریم ڈگری مانی جاتی ہے، اس میں بھی بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سپیشلائزیشن کرنے کے بعد بھی امریکہ اور برطانیہ جاکر کچھ ٹیسٹ پاس کرنے ہوتے ہیں اور تب ہی ایک ڈاکٹر کو وہاں ایف آر سی پی سپریم میڈیکل ڈگری میں داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی مختلف ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی کلینیکل پریکٹس کی اجازت ملتی ہے۔ خلیجی ممالک میں برطانیہ اور امریکہ کی مستند طبی ڈگریوں اور پروگراموں کو ہی زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ چونکہ امریکہ اور برطانیہ میں ایم ایس کی ڈگری پر پریکٹس کی اجازت نہیں ہوتی لہذا ہو سکتا ہے کہ عرب ممالک نے اس کی پیروی میں ایسا قدم اٹھایا ہو۔ اگر سعودی عرب نے بھارت اور بنگلہ دیش کے ایم ایس ڈگری کے حامل ڈاکٹروں کو نہیں نکالا تو ہو سکتا ہے کہ ان ڈاکٹروں کے پاس پریکٹس کی ڈگری بھی ہو اور وہ اسی ڈگری کے مساوی پوزیشن پر کام کر رہے ہوں۔پاکستانی طبی ڈگری کی بیرون ملک کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ وہ پاکستانی ایف سی پی ایس کی ٹریننگ تو مان لیتے ہیں لیکن ایک ڈاکٹر کو وہاں دوبارہ ٹیسٹ دینے کے بعد ہی داخلہ ملتا ہے۔ اکثر ڈاکٹر خلیجی ممالک جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہاں سہولیات اور تنخواہ پاکستان اور مغربی ممالک سے زیادہ ہوتی ہےں۔ لہذا اگر ایک ڈاکٹر ان ممالک میں اچھی پوسٹ پر کام کرنا چاہتا ہے تو پاکستانی ڈگری ایف سی پی ایس کی بجائے ایف آر سی پی سے اس کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔ ہر باشعور اور سمجھدار ڈاکٹر سپیشلائزیشن کے لیے مغربی ممالک جانا پسند کرتا ہے بشرط یہ کہ وہ محنت اور مطالعے کے شوق کے ساتھ ساتھ ملک سے باہر جانے کی پوزیشن میں ہو۔پاکستان میں اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے لیکن ایک غریب ملک ہونے کی وجہ سے یہاں وسائل کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان ڈاکٹروں کے سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ۔ برطانیہ میں سپیشلائزیشن دس سال میں مکمل ہوتی ہے اور اس تمام عرصے میں ایک ڈاکٹر اپنے مضمون پر بے تحاشا عبور حاصل کر لیتا ہے۔برطانیہ میں ہر سال ایک لیول سے دوسرے لیول پر جانے کے لیے زبانی امتحان دینا ہوتا ہے، جس میں ایک ڈاکٹر کے سامنے چھے ماہرین کا پینل بیٹھا ہوتا ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا یہ ڈاکٹر نئے لیول پر جانے کا اہل ہے یا نہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ پاکستان کے طبی نظام میں وہ کون سی خامیاں ہیں، جن کی وجہ سے بیرون ملک ان کی ڈگری کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ کون سے محرکات ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی ڈاکٹر سپیشلائزیشن کے لیے امریکہ اور برطانیہ جانا پسند کرتے ہیں۔ ایف سی پی ایس کی ڈگری میں سیاست اور اقربا پروری کا عمل دخل ہے۔ ایک ڈاکٹر کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی ہونا لازمی ہوتا ہے۔ بصورت دیگر ایک قابل ڈاکٹر بھی ڈگری سے محروم رہ سکتا ہے۔مغربی ممالک کے برعکس ایف سی پی ایس کے امتحان میں کسی قسم کی ریکارڈنگ نہیں ہوتی، لہذا ناانصافی کی صورت میں ایک ڈاکٹر کے پاس چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایک ڈاکٹر کو پانچ سال سپر وائزر کے ساتھ گزارنے ہوتے ہیں، جو مکمل طور پر با اختیار ہوتا ہے۔ لہذا ایک ڈاکٹر کو پانچ سال کی طویل مدت کے دوران سپر وائزر کی پسند نا پسند اور جائز ناجائز کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔وسائل اور بہترین ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے ایک ڈاکٹر کے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔گو کہ ایف سی پی ایس کا امتحان مغربی ممالک سے تسلیم شدہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس ڈگری کے حامل افراد امریکہ اور برطانیہ میں کلینکل پریکٹس نہیں کر سکتے۔اس کے لیے وہاں کا ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔بیرون ملک خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ سے سپیشلائزیشن کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خامیاں ان کے نظام میں بھی ہیں لیکن وہ خامیاں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔ ان ڈاکٹروں کے مطابق پاکستان ایک غریب ملک ہونے کی وجہ سے نہ صرف طبی میدان میں وسائل کی کمی کا شکار ہے بلکہ یہاں پر طبی اخلاقیات بھی بہت کمزور ہیں۔ہم سمجھتے ہےں کہ اگرگلگت میں ان خامےوں پر قابو پالےا گےا تو صورتحال میں نماےاں تبدےلی ہو سکتی ہے۔