Image

عمران خان کی طرح وزیراعلیٰ بھی معافی مانگیں گے، اپوزیشن لیڈر

اپوزیشن لیڈر و صدر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ججز کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعلیٰ منہ دکھائی کے لئے اس لئے آئے تھے کہ عدالتوں میں ان کے کیس لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ججز تقرری کی مخالفت کرکے محکمہ فنانس جی بی سے فنڈ مانگا ہے تاکہ ججز تقرری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کرسکیں اور اب سرکاری خزانے سے پی ٹی آئی کے وکلاءکو نوازنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دو روزہ دورہ گلگت پر آئے تھے اب واپس جارہے ہیں گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی ہے ہی نہیں ون مین شو ہے اور عمران خان کے نام پر اپنے وزرا اور مشیروں کو ڈرا کر ساتھ رکھا ہوا ہے اس وقت کوئی وزیر اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی وزیر سے وہ مشاورت کرتے ہیں خالد خورشید نے پرائیوٹ کیبنٹ رکھی ہوئی ہے اسی پرائیویٹ کیبنٹ کے فیصلوں کو لیکر آئے روز تبادلے کر رہے ہیں اور اس پر خالد خورشید کے اپنے وزرا ہی معترض ہیں لیکن ان کو عمران خان کے نام کی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان کے عوام گندم کے دانے دانے کے لئے ترس رہے ہیں وزیراعلیٰ کبھی عدلیہ میں فساد ڈالنے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو کبھی استور میں فساد ڈال دیتے ہیںتو کبھی گندم کا بحران پیدا کرکے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے عوام کو فساد کی جانب لے جانا چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اب تک اسلام آباد میں وقت گزارا ہے گلگت بلتستان کے عوام سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے جس طرح عمران خان معافیاں مانگتے نظر آرہے ہیں اسی طرح اب خالد خورشید بھی معافی نامے لے کر گھومتے دکھائی دیں گے۔