80

اب بھی پاکستان کو ایک رول ماڈل بنانے کیلئے علماء کرام کا بہت اہم کردار ہے،وزیراعظم


اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے اور قیام پاکستان کیلئے علماء و مشائخ نے قائداعظم کے ساتھ مل کر بھرپور کردارادا کیا، قائداعظم نے پاکستان کو بطور اسلامی فلاحی ریاست اور دنیا کیلئے رول ماڈل بنانا چاہتے تھے، ملک وزیر اعظم اور وزرا کی چوری سے تباہ ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے مثال لے لیں جہاں کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنما کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو ، ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملک سے چوری ہو کر امیر ملک جاتا ہے، وزیر اعظم  نے ان خیالات کا اظہار پیر کو   علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ  اب بھی پاکستان کو ایک رول ماڈل بنانے کیلئے علماء کرام کا بہت اہم کردار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں ہیں، انہوں نے کہا کہ مغرب میں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہمیں مغرب کو باور کرانا ہو گا کہ دہشت گردی کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام سلامتی کا وہ مذہب ہے جو امن کا درس دیتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ کردار سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا، وزیراعظم نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب نہیں کہ مذہبی منافرت کو ہوا دی جائے  جبکہ مغرب میں لوگوں کا دین سے متعلق رویہ ہمارے معاشرے سے مختلف ہے،ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیڈر شپ کو عالمی فورم پر مغربی ممالک کے رہنمائوں کو سمجھانا چاہیے تھا کہ آزادی اظہار اور پیغمبر کی ناموس میں کیا فرق ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا،وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمانوں ایک ہی نظر سے دیکھے جانے لگے،انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا،عمران خان نے کہا کہ جرمنی میں یہودی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ظلم  ہوا اور اب آزادی اظہار کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا،انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزا ہوجاتی ہے وہاں آزادی اظہار نہیں ہے، مسلم ملکوں کے سربراہان کا فرض ہے کہ دین اسلام پر ہونے والے حملوں کو روکیں، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی خطاب میں بھی کہا تھا اور تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو خطوط بھی لکھے ہیں کہ ہمیں مل کر مغربی دنیا میں موجود اسلام مخالف نظریات کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی مثال لے لیں جہاں کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنما کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو،انہوں نے کہا کہ گائے، موٹرسائیکل اور دیگر چھوٹی چوری کرنے والے جیلوں میں ہیں جبکہ ملک کے وسائل چوری کرکے بیرون ملک لے گئے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو،عمران خان نے کہا کہ چھوٹے چوروں کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، ملک تباہ  تب ہوتا ہے جب اس کا وزیراعظم اور وزیر چوری شروع کردیں،انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر کے تمام ممالک دیکھ لیں جہاں ان کے وزیر اعظم اور وزرا پیسہ چوری کرکے بیرون ملک لے جاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملک سے چوری ہو کر امیر ملک جاتا ہے،انہوں نے مسلم لیگ(ن)کے قائد نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ چند صحافی سپریم کورٹ کے سزا یافتہ مجرم اور جھوٹ بول کر بیرون ملک جانے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے ،انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلے گا، اللہ اس کی مدد کرے گا، مغربی ممالک اسلامی فلاحی نظام کے سنہری اصول اپنا کر کامیاب ہو گئے،وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ہے، طاقتور اور کمزور میں سماجی تفریق معاشروں کی تباہی کا سبب بنی، انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں جن پر اربوں کی کرپشن کے کیسز ہیں وہ این آر او چاہتے ہیں جبکہ بیشتر غریب اور ترقی پذیر ملکوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ ان کی اعلیٰ قیادت کا بدعنوان ہونا ہے اور جب کسی بھی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جائے تو قوم تباہ ہو جاتی ہے،  انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اپوزیشن پر اربوں کے کیسز ہیں اور کہتے ہیں کہ این آر او دیں جبکہ چھوٹے چور جیلوں میں بند ہیں اور بڑے چور این آر اومانگ رہے ہیں، علماء اور قوم سے پوچھتا ہوں کہ جن کی اربوں کی جائیدادیں بیرون ممالک میں ہیں کیسے انہیں تقریر کرنے کا موقع دیں،وزیراعظم نے کا کہ سنگاپور میں وزیر نے کرپشن میں پکڑے جانے پر خود کشی کرلی کیونکہ وزیر کو معلوم تھا کہ اب اس کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے، وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو اوپر اٹھانا ہے تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلنا ہو گا،ہمیں اچھے اور برے کی تمیز کو عام کرنا ہے، کیونکہ قرآن میں ہے کہ نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔ ادھر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے  کہا  ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کا مفاد ہے، مشکل معاشی حالات کی وجہ سے غریب عوام سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ، ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، درآمد شدہ کھانے پینے کی مختلف اشیا پر عائد ٹیکسز میں بھی کمی لانے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی جائیں ۔ پیر کو   وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں   بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو ٹارگیٹڈسبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔