86

اصلاحات کیلئے پچیس ارب کی منظوری مل گئی، وزیر خزانہ

صوبائی وزیر خزانہ جاوید منوا نے کہاہے کہ گلگت بلتستان کو بااختیار صوبہ بنایا جارہاہے اس سلسلے میں وفاقی حکومت بالکل سنجیدہ ہے لفظ عبوری سے کوئی قباحت نہیں ہے جو سیٹ اپ دیا جارہاہے اس کے تحت ہمیں وہ تمام اختیارات اور حقوق ملیں گے جو ملک کے دیگر صوبوں کو حاصل ہیں کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نیکہاکہ گلگت بلتستان کو پہلی مرتبہ بجٹ کے علاوہ بھی خصوصی گرانٹ مل رہی ہے سات اعشاریہ تین ارب روپے کی منظوری ملی تھی ان میں سے دو ارب روپے چند دن قبل مل چکے ہیں باقی پیسے بھی ملیں گے اللہ کے فضل وکرم سے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے مسلم لیگ ن نے خزانہ خالی کرکے دیا تھا وزیراعلی خالد خورشید کی ذاتی کوششوں سے مالی بحران ٹل گیا ہے وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی  وزیراعلی خالد خورشید کی دو ملاقاتوں سے گلگت بلتستان کو بہت بڑا فائدہ ہوا ہے معدنیات سیاحت ٹمبر اور توانائی کے شعبوں کی اصلاحات کیلئے 25 ارب روپے کی منظوری مل چکی ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے وزیراعلی اور وزراء کی اسلام آباد میں موجودگی کو بعض حلقوں نے بہت بڑا ایشو بنایا مگر ملاقاتوں کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ وزیراعلی اور وزراء اسلام آباد میں عیاشی کریں ہم نے مختصر عرصے میں اسلام آباد سے بڑے کام کروائے ہیں انہوں نیکہاکہ پی ڈی ایم کا اتحاد غیر فطری ہے گلگت بلتستان میں یہ اتحاد بننے سے قبل ہی ٹوٹ گیا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے صوبائی صدور کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات سے ثابت ہوتا ہیکہ دونوں جماعتیں مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں ان کا کوئی نظریہ نہیں ہے نظریہ ہے تو وہ عوامی وسائل لوٹنے کا ہے ہم علاقے کے مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت گلگت بلتستان میں آرڈر 2018 کے تحت نظام حکومت چل رہاہے صوبائی کابینہ سوفیصد وزیراعلی کی اپنی کابینہ ہے وفاقی وزیربرائے کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سے کابینہ سازی میں مشاورت ضرور ہوئی ہے مگر یہ تاثر غلط ہے کہ پوری کابینہ ہی وفاقی وزیر علی امین گنڈا نے بنائی ہے مشاورت کرنا کوئی برا عمل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ میں نے وزیراعظم عمران خان کے ویڑن کی تکمیل کیلئے ہر ممکن کوشش کی اور اپنی بساط کے مطابق عمران خان کے ویڑن کا پرچار کیا مگر پارٹی پالیسی کے تحت میرے حلقے میں ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کی گئی اور مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا اس طرح پارٹی اور میرے درمیان چالیس دن کا فاصلہ پیدا ہوا مگر الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی کے وفاقی قائدین کو اپنے حلقے میں لے جاکر اس تاثر کو زائل کیا عوام اور پارٹی کے درمیان رابطے کو مذید مستحکم کردیا انہوں نے کہاکہ عبوری آئینی صوبے کے قیام کے بعد ہماری کوشش ہوگی کہ علاقے کو بیس سے پچیس سال تک ٹیکس فری زون رکھا جائے اور جن اشیاء  پر سبسڈیز مل رہی ہیں ان کو برقرار رکھا جائے تاکہ یہاں معاشی ترقی کا پہیہ چل سکے ہماری کوشش ہے کہ علاقے کی ترقی کیلئے نان ٹیکس ریونیو کو بڑھایا جائے نان ٹیکس ریونیوز بڑھائے جانے سے علاقہ معاشی اور اقتصادی لحاظ سے اپنے پاوں پر کھڑا ہوسکے گا توانائی معدنیات سیاحت کے شعبوں میں بڑے کام کئے جائیں گے