29

امریکی کانگریس پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے میں چار ہلاک

 امریکی کانگریس کی عمارت  پر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جب کہ 52 کو گرفتار کیا گیا ہے۔واشنگٹن میں کرفیونافذ کردیا گیاہے ، کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد وائٹ ہا ئوس کے چار اہم عہدے دار عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں ،صدر ٹرمپ کے نائب مشیر قومی سلامتی میٹ پوٹینجر وائٹ ہائو س کی نائب پریس سیکریٹری سارہ میتھیوز نے استعفی دے دیا ،خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف اور ٹرمپ کی سابق پریس سیکریٹری سٹیفینی گریما نے بھی عہدہ چھوڑ دیا، وائٹ ہاس کی سوشل سیکریٹری انا کرسٹینا بھی مستعفی ہوگئیں۔صدر ٹرمپ کو 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے برطرف کرنے پر غور کیا جا رہا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے جس میں یہ اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو اقتدار کی منظم منتقلی کے حامی ہیں تاہم ساتھ ہی انھوں نے ایک مرتبہ پھر انتخابی دھاندلی سے متعلق بے بنیاد دعوے بھی کیے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائب امریکی صدر مائیک پینس کی سربراہی میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں جیت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے کانگریس اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا کہ ٹرمپ کے حامیوں کی ریلی کے بعد نیلے پرچم اٹھائے ایک ہجوم نے کیپٹل ہل کے باہر رکاوٹیں توڑ دیں اور عمارت کے اندر داخل ہوگئے۔ اس دوران ٹرمپ کا ایک حامی سینیٹ میں ڈائس پر چڑھ گیا اور ٹرمپ کی جیت کا دعوی کیا۔واقعے کے دوران سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا مشترکہ اجلاس کچھ وقت کے لیے معطل کیا گیا، پولیس نے ارکان کانگریس کو باہر نکالنے کے دوران مظاہرین پر شیلنگ کی۔ پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 افراد کی ہلاکت اور 52 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔واشنگٹن اور دیگر ریاستوں میں نیشنل گارڈ کے دستے بلائے گئے ہیں، دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع بھی کر دی گئی ہے، واشگٹن ڈی سی انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ متعدد افراد شہر میں جتھوں کی صورت میں آئے تھے، جب کا مقصد یہاں تشدد اور انتشار پھیلانا تھا۔ انہوں نے پتھرا بھی کیا۔نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے احتجاجی صورتحال پر مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مظاہرین نے ووٹ کا تقدس پامال کیا، دارالحکومت میں پرتشدد مظاہرہ ہماری جمہوریت پر حملہ ہے، آج کے واقعے سے دکھ ہوا، امریکی جمہوریت کونقصان پہنچا ہے، انتہا پسندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت لاقانونیت پھیلا رہے ہیں، کیپٹل ہل کے باہر پرتشدد مظاہرہ امریکی جمہوریت کاعکاس نہیں، پرامن رہیں اور قانون کا احترام کریں، ٹرمپ نیشنل ٹی وی پرحامیوں سے مظاہرہ ختم کرنیکا کہیں۔اپنے 10 منٹ کے خطاب میں بائیڈن نے مظاہرین کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بے انتہا تقسیم ملک اب بھی ایک ہو سکتا ہے، انہوں نے میں تمام امریکیوں اور ان لوگوں کا بھی صدر ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں کیا۔لیکن بائیڈن نے موجودہ صورتحال پر غم اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہرگز مہذب رویہ نہیں بلکہ افراتفری ہے۔بائیڈن نے ٹرمپ پر غداری کا الزام تو عائد نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ جو کچھ ہوا وہ بغاوت کے ضمرے میں آتا ہے۔بائیڈن نے کہا کہ صدر کے الفاظ اہمیت رکھتے ہیں ، چاہے وہ صدر کتنا ہی اچھا یا برا ہو، ایک صدر کے اچھے الفاظ متاثر کر سکتے ہیں اور برے الفاظ تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔بائیڈن نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اب قومی ٹیلی وژن پر جائیں، وہ اپنے حلف کی تکمیل اور آئین کا دفاع کریں اور اس محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔بجائے اس کے ٹرمپ نے بدامنی کے اعلان کے گھنٹوں بعد ایک ویڈیو جاری کیا جس میں مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ مجھے آپ کے درد کا پتہ ہے، میں آپ کے زخموں کو جانتا ہوں لیکن آپ کو ابھی گھر جانا چاہیے۔بائیڈن نے پہلے بھی کہا تھا کہ ٹرمپ کے خلاف مجرمانہ کارروائی کرنا امریکی جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا البتہ انہوں نے مستقبل میں ٹرمپ کے سبکدوش ہونے کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کا عندیہ دیا۔نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کے خطاب کے بعد امریکی صدرٹرمپ نے حامیوں سے احتجاج ختم کرنیکی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حامیوں سے پیارہے، قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق   مائیک پنس کو 14 روز کیلئے صدر کی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے مشاورت جاری ہے ۔صدر کو 25ویں آئینی ترمیم سے جسمانی اور دماغی بیماری کے بعد عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے کابینہ کے اکثریت رہنماؤں کے علاوہ نائب صدر مائیک پینس کی حمایت درکار ہوگی۔اگر ایسا ہوا تو25ویں آئینی ترمیم1967 کے بعد پہلی بار استعمال کیا جائے گا۔  اس معاملے میں سب سے اہم کردار نائب صدر پنس کا ہوگا لیکن ان کی جانب سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سابق صدربش نے کیپٹل ہل پرحملے کوبناناری پبلک سے تشبیہ دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متنازع انتخابات بناناری پبلک میں ہوتے ہیں۔سابق صدر نے کہا متنازع انتخابات امریکاجیسے جمہوری ملک میں نہیں ہوتے۔ کچھ ری پبلکنز ساتھیوں نے مظاہرین کواکسانے کیلئے ایندھن کا کام کیا۔