428

انسان محتاج انسانیت

کون جانتا ہے کہ ایک چھوٹا سا خیر سگالی کا اشارہ یا عمل کتنا پر اثر اور درست ہوسکتا ہے؟ میں جب بھی کسی محتاج فرد کو کسی سہارے کی تلاش میں در بدر دیکھتا ہوں تو میں اکثر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ دور جدید نے شاید ہماری زندگیوں کو ہمیں اپنے کام سے کام رکھیں میں اور میرے کنبے ، اور انفرادیت پسندانہ طرز زندگی میں تبدیل کردیا ہے۔ اس نے ہمارے معمول اور انسانیت کے ساتھ منفی سلوک کیا ہے اور حقوق العباد کی نفی کی ہے۔ ایک واضح مثال کسی ایسے شخص کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھانا ہے جو ٹھوکر کھا کر گر پڑتا ہے۔ یہ انسانیت کی آسان ترین مثال ہے۔ انسانیت کی خدمت ہمیں کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ بلکہ اس سے لوگوں میں مضبوط رشتہ پیدا ہوتا ہے اور ایک فلاحی معاشرہ بنتا ہے ریاست مدینہ کی مثال تو بہت عمدہ ہے لیکن عملی میدان میں افراد کی محنت اور حکومتوں کے اقدامت کجا۔حضرت محمد مصطفی ۖ نے فرمایا ہے،سب سے بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسروں کو فائدہ ہو۔یہ واضح ہونا چاہئے ، لیکن یہاں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو یہ بھول جاتے ہیں کہ مہربانی سے کتنا فرق پڑتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہوتے ہیں تو ایک سلسلہ اور خودکار نظام بن جاتا ہے۔ مہربانیوں سے شفقت پروان چڑھتی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ توانائی بننے کی ضرورت ہے ، تو کیوں پریشان ہوں؟انسانیت کو بھائی چارے پیار ، انسان دوستی ، نرم مزاج ، غور ، فہم ، ہمدردی ، رواداری ، نیکی ، وغیرہ کی حیثیت سے جاننا چاہیے۔ جب انسان عاجزی ، شفقت اورکا مظاہرہ کرتا ہے تو ایک خوبصورت معاشرے کی بنیاد پڑتی ہے۔ انسانیت کی تعریف پوری انسانیت کی ذات یا وہ خصوصیات ہیں جو انسانوں سے انفرادیت رکھتی ہیں ، جیسے احسان ، رحمت اور ہمدردی۔ انسانیت کی ایک مثال کسی کے ساتھ مہربان سلوک کرنا ہے: انسان ہونے کا معیار احسان ہے'انسانیت کا مطلب ہے مشکل اوقات میں دوسروں کی مدد کرنا جب انہیں زیادہ سے زیادہ مدد کی ضرورت ہو۔ انسانیت کا مطلب یہ ہے کہ جب دوسروں کو آپکی کی مدد کی ضرورت ہو تو اپنے مفادات کو فراموش کریں۔ انسانیت کا مطلب زمین پر موجود ہر جاندار سے غیر مشروط محبت کرنا ہے۔انسانیت یا بجائے احسان ، کا مطلب صرف دوسروں کی مدد کرنا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں آپ کے ماتحت ہیں۔ جیسا کہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے ، پچھلی تین چار دہائیوں سے ، ہمارے بزرگ ایک دوسرے کے ساتھ نظم و ضبط ، شفقت اور ہمدردی کے لحاظ سے جس انداز میں رہتے تھے وہ اس جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والی دنیا میں یکسر تبدیل ہوگیا ہے 'ملک کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں ، خاص طور پر جب سے غربت نے ہماری زندگیوں کو نقصان پہنچایا ہے ، تو ان چیزوں کو ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل کے دولت مند افراد پچھلی دولت مند لوگوں کی طرح معاشرے کے بہترین انسان نہیں ہیں ہم وہی لوگ نہیں ہیں جو ہم ایک صدی پہلے تھے ان عوامل سے لاحقہ وجوہات کا ذکرمیں اپنے گزشتہ کالمز میں تفصیل سے کرچکا ہوں۔ ہمدردی بدلاؤ کا تصور ہے۔ ایک بار جب یہ کھو جاتا ہے تو پھر کوئی اس کو واپس نہیں کرسکتا ہے۔سورہ بقرہ آیت نمبر 247 مییں اللہ پاک نے فرمایا ہے جوکہ صرف حقوق العباد مشتمل ہے:جولوگ اپنا مال رات اور دن پوشیدہ اور ظاہرخرچ کرتے ہبں تو انکا صلہ صرف اللہ کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کا) کسی طرح کا خوف ہے نہ ڈر ۔کسی نہ کسی وجہ سے ہم نے رحم اور ہمدردی کو آہستہ آہستہ ختم کردیا ہے۔ ہم نے بزرگوں کا احترام کھو دیا۔ یہاں تک کہ کچھ والدین اپنے بچوں سے والدین والا سلوک نہیں کر رہے ہیں۔ ہم کسی محتاج شخص کی مدد نہیں کرسکتے ہیں ، پھرآپ اس کے جنازے میں جلدی جلدی جائیں گے اور وہاں آپ چاول پیش کریں گے۔ یہ منافقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور چونکہ کوئی بھی مذہب انسانیت کے مسئلے کو ہلکا نہیں لیتا ، لہذا ضرورت بس امر کی ہے کہ ہم اپنے عقیدے کو برقرار رکھیں۔ایک وقت تھا جب ہمارے بزرگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ ہر گھر سے اپنا کھانا لایا جاتا تھا۔ جس کے پاس کھانا نہ ہو اس کا ہمیشہ استقبال کیا جاتا تھا اور اسے انتہائی عزت کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا تھا کہ کون غریب تھا یا امیر۔تب ہر بچے کو اپنے باپ کا دوست اپنے باپ کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اور ہر باپ اپنے پڑوسی کے بیٹے کو اپنا سمجھتا تھا۔میرے خیال میں این لاموٹ نے یہ سب سے بہتر کہا ہے: ''ہمارے دلوں میں شکر گزاری شروع ہوتی ہے اور پھر وہ سلوک میں ڈھل جاتی ہے''۔آپ اپنی زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں  اور دوسروں کو تقلید کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ نرمی برتیں ، دوسروں کی پروا کریں اور ان کی مدد کریں ،روزانہ استعمال کریں جیسے آپ کی سانس اور معافی ہے ، یہ کھوئی ہوئی انسانیت کی بحالی میں مدد کریں گے۔ ہمیں وسیع اور گہرا سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود کے سابقہ ورژن کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت محمد مصطفی ۖ تاجدار ختم نبوت نے زمانہ جاہلیت میں چالیس سال تک اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور آپ کو صادق اور امین کا لقب کفار کی طرف سے ملا آپ کی نہ صرف اپنوں نے بلکہ دوسرے قبیلوں کے مشرکین نے بھی گواہی دی اور پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی خوش اسلوبی سے حجر اسود کا معاملہ طے فرمایا جس سے زمین پر ایک بڑا فساد ٹل گیا۔ فتح مکہ کے بعد ایک بوڑھی عورت اپنا سامان اٹھائے جارہی تھی جب رسول اکرم ۖ نے اس عورت کو مفلوک الحال دیکھا تو اسکا بار اٹھا لیا اور کے ہم نشین ہوگئے آپ ۖ نے جب بوڑھی عورت سے دریافت کیا کہ وہ کہاں کے لیے عازم سفر ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ مکہ شہر میں مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے پتہ نہیں انکا سردار محمدۖ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا اس لیے شہر چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ اس جواب پر حضور پاک ۖ مسکرائے اور فرمایا کے میں ہی محمدۖ ہوں اس احسن عمل کو دیکھ کر عورت متاثر ہوئی اور فورا کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئی ۔سورتہ الماعون کا ترجمہ ہے:تم نے دیکھا اس شخص کو جو آ خرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے۔ وہی تو ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ جو ریا کاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔قرآن کریم کی ان آیات کا ترجمہ ہماری آنکھوں کی کھوئی ہوئی بینائی کو پر نور کرنے لئے کافی ہیں اور ماضی ، عصر حاضر اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے مکمل ظابطہ حیات ۔

ہیں نمازیں سبھی میری پوری مگر 

فرض انسانیت فقط قضا ہوگیا