36

اک اور دریا کا سامنا تھا۔۔۔۔

پاکستان میں بھی برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آگئے۔پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں جس کی تصدیق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے کی گئی ہے۔ برطانیہ سے واپس آنے والے بارہ افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے چھ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور ان چھ میں سے تین افراد میں کورونا کی نئی قسم پائی گئی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق جن افراد میں نئے وائرس کی تصدیق ہوئی ان کے مزید ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں جب کہ متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والے تمام افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ان تمام متاثرہ افراد کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ باقی جن تین افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی وہ کورونا کی پرانی قسم ہے۔بھارت میں بھی برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا کی نئی قسم کے پہلے سات کیسز سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق برطانیہ سے آنے والے مسافروں میں کی گئی ہے۔بنگلورو، حیدرآباد اور پونا کی لیبارٹریز میں لیے گئے نمونوں میں برطانیہ میں سامنے آنے والے کورونا کے نئے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن افراد میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق ہوئی ان کو فوری طور پر ہیلتھ کیئر سینٹرز میں آئسولیٹ کردیا گیا ہے جب کہ ان کے ساتھ قریبی روابط رکھنے والوں کو بھی قرنطینہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ان کے ساتھ سفر کرنے والوں، فیملی کے لوگوں اور دیگر رابطہ کاروں کی ٹریسنگ کا عمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔بھارتی وزارت صحت کا بتانا ہے کہ بھارت پہلے ہی برطانیہ کے ساتھ تمام فلائٹس آپریشن معطل کرچکا ہے لیکن پابندی سے پہلے نومبر کے آخر تک تقریبا 33 ہزار افراد نے برطانیہ کا سفر کیا جن میں سے بھارت آنے والے 114 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی، ان تمام افراد میں کورونا کی نئی قسم کی جانچ کے لیے ان کے سیمپل لے لیے گئے ہیں۔بھارتی وزارت صحت کے مطابق ملک میں اب تک کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد ایک کروڑ 22 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اموت ایک لاکھ 48 ہزار سے زیادہ ہیں۔برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی خطرناک  قسم امریکا پہنچنے کا امکان ہے۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا کی نئی قسم امریکا پہنچنے کا امکان ہے۔ امریکا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران عالمی وبا کورونا وائرس سے ساڑھے تین ہزاراموات ہو چکی ہیں جبکہ کورونا وائرس کے دولاکھ نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 691 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کورونا کے37 ہزار کے قریب نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔کورونا کی یہ نئی قسم برطانیہ کے ساتھ ساتھ نیدرلینڈ، ڈنمارک اور آسٹریلیا میں بھی پائی گئی ہے برطانیہ میں زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی کورونا کی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جس کے بعد  لاک ڈائون کے چوتھے درجے کی پابندیاں متعارف کرادی گئی ہیں۔اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ کوروناوائرس میں تبدیلیوں کے بارے میں جاری مطالعے سے معلومات شیئر کررہا ہے، وائرس کی مختلف حالتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد رکن ممالک اور عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔کورونا کی یہ نئی قسم برطانیہ کے ساتھ ساتھ نیدرلینڈ، ڈنمارک اور آسٹریلیا میں بھی پائی گئی ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیدرلینڈ نے برطانوی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔برطانوی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم بچوں کو زیادہ متاثر کر سکتی ہے۔کورونا وائرس سے متعلق برطانوی سائنسدانوں کے ایڈوائزری گروپ کے مطابق وائرس کی نئی قسم دیگر کے مقابلے میں اکہترفیصد زیادہ پھیلائوکا باعث بن سکتی ہے۔  نئے وائرس کا پھیلائوممکنہ طورپر جنوب مشرقی انگلینڈ سے شروع ہوا ہے، ان علاقوں میں بکھنگم شائر، آکسفرڈ شائر، کینٹ اورسرے کائونٹیز شامل ہیں۔  برطانیہ اور فرانس میں سرحد کھولنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، معاہدے کے تحت برطانیہ سے فرانس داخل ہونے والے بس ڈرائیوروں کو کورونا ٹیسٹ کرانا لازمی ہو گا۔ فرانس کی جانب سے اچانک پابندی کے باعث یورپ جانے والی تین ہزار کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں، وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد فرانس کے علاوہ برطانوی مسافروں پر سفری پابندیاں لگانے والے ممالک کی تعداد پچاس سے زائد ہو چکی ہے۔برطانیہ کے چیف سائنٹسٹ سمیت طبی ماہرین نے حکومت سے کہا ہے کہ نئی قسم کا کورونا وائرس ہر جگہ موجود ہے، چوتھے درجے کا لاک ڈائون نہ لگایا تو ہزاروں جانیں جا سکتی ہیں۔برطانیہ میں کورونا وائرس کی سامنے آنے والی تبدیل شدہ قسم زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔سارس کووڈ وائرس ٹو کی جینیاتی طور پر اس تبدیل شدہ شکل کو سائنس دانوں نے بی ون ون سیون کا نام دیا ہے۔ستمبر میں انگلینڈ میں سامنے آنے والے اس وائرس میں جینیاتی طورپر تئیس تبدیلیاں یعنی میوٹیشنز نوٹ کی گئی ہیں، یہ پچاس سے سترفیصد زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے مگر امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ محض اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ گنجان آبادی میں رہنے والوں کو لاحق ہوا ہو جن سے وائرس پھیلنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ یہ وائرس بچوں میں بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہا ہے جس قدر بڑوں میں سرائیت کررہاہے۔ اس سے بچنے کے لیے بھی وہی احتیاطی اقدامات درکارہیں جو دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔وائرس کی تبدیل شدہ قسم ابھی امریکا میں پھیلنے کے شواہد نہیں ملے جب کہ  نئی ویکسین اس سے بھی بچا سکے گی پاکستان نے بھی برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے  آنے کے بعد  برطانیہ سے آنے والی پروازوں کے مسافروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ برطانیہ سے آنے والوں کے لیے سفری پابندیوں کا اطلاق  بائیس دسمبر کی رات  سے انتیس دسمبر تک ہوگا اور وہ مسافر جو گذشتہ دس روز کے دوران برطانیہ میں رہ چکے ہیں ان پر بھی پابندی کا اطلاق ہوگا۔ برطانیہ سے پاکستان واپس آنے والوں  لیے فلائٹ سے بہترگھنٹے پہلے پی سی آر نیگیٹو ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اور انہیں  پاکستان میں گھر کے اندر ایک ہفتے کا قرنطینہ بھی لازمی کرنا ہوگا۔یہ فیصلہ برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے پرکیا گیا ہے اعلامیے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران برطانیہ سے آئے تمام افراد کا کورونا ٹیسٹ کرایاجائیگا، سول ایوی ایشن کو پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔وائرس کی نئی قسم کے بعد بیشتر  یورپی ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے تمام پروازیں روک دی ہیں اور ان کے علاوہ دیگر ممالک بھی ایسے اقدام پر غور کررہے ہیں۔یورپی ممالک نیدرلینڈز، بیلجیم اور اٹلی کے بعد آسٹریا اور جرمنی نے بھی برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور تمام پروازیں روک دی ہیں۔ برطانیہ سے بیلجیم اور نیدرلینڈز کیلئے ٹرین سروس بھی بند کردی گئی ہے۔سخت لاک ڈائون سے بچنے کیلئے لوگ لندن چھوڑ کر جانے لگے'چیک ریپبلک نے بھی برطانیہ سے آنے والوں پرقرنطینہ کی انتہائی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے جبکہ آئرلینڈ اور فرانس بھی سفری پابندیاں لگانے پر غور کررہے ہیں۔ فرانس کے ساتھ یورو اسٹار ریل سروس تا حال برقرار ہے جس کے باعث پیرس کا ٹکٹ لینے کیلئے سینٹ پینکراز اسٹیشن کے یورو ٹرمینل پر مسافروں کی قطاریں لگ گئیں۔وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے ماہرین کا کہناہے کہ اگر کورونا وائرس نے مزید شکلیں تبدیل کیں تو کورونا ویکسین بھی تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم فی الحال نئی ویکسین اس کیلئے موثر ثابت ہو رہی ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے لندن سمیت مشرقی انگلستان کے شہریوں پر اپنا علاقہ چھوڑنے پر پابندی لگا دی جبکہ برطانوی وزیر صحت کے مطابق لاک ڈائون کی پابندیاں اگلے چند ماہ تک برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں مزید پینتیس ہزار 928 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور یہ ایک ہی روز میں کورونا سے متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی۔مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں وائرس سے مزیدسارھے تین سوافراد انتقال کرگئے  ہیں جس کے بعد یہ ہلاکتیں سترہزار سے زائد ہوچکی ہیں۔