34

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے

 فیض اللہ فراق

خدشات و امکانات پر مبنی زمان و مکان کی کہانی بڑی حیران کن ہے مگر وقت کی بے رحم موجوں میں تھپیڑیں کھاتا ہوا انسان وقت کی بے رحمی، تلخیاں اور خوشگوار یادوں کے بھنور میں چکر کاٹتا رہتا ہے۔ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وقت گزر چکا ہے، لمحے بیت چکے ہیں، نئے دن کا آغاز ہوا چاہتا ہے، نئے مہینے کے گزرنے کا یقین اور نئے سال کی آمد کے استقبال کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے لیکن یہ نیا پن کس قدر نیا ہے اس کا تعین ایک مشکل امر ہے۔ کیا زندگی کے گوشوارے سے ایک برس کی کٹوتی کو نئے سال کا نام دیں گے اور خوشیاں منائیں گے؟ کیا وقت کی رفتار کی ڈور ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ کیا زمان و مکان کی تغیر پذیر روشنیاں ہمارے حق میں روشنی کرنے کی پابند ہیں؟  اس سب کو سمجھنے کیلئے زندگی کی حقیقت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا اور  پکارنا پڑے گا گزرے زمانے کو کہ 2020 کا سال کیسا تھا؟ ہم کہاں تھے؟ ہم نے کیا گل کھلایا ؟ وقت کا تصرف ہم نے کیا یا وقت نے ہمیں استعمال کیا ؟ زندگی کیا تھی اور کیا ہے؟ انسانی وجود کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کا ادراک بڑا لازمی ہے۔ گزری ان گنت صبحیں  وشامیں ملے جلے دکھ درد اور شادمانی سے عبارت ہوتی ہیں مگر  2020 جہاں عالمی سطح پر دکھ درد، پریشانی اور بے بسی کا سبب بنا وہاں ہمارے ملک اور گلگت بلتستان کیلئے بھی بہت بڑے صدمے کی تصویر بنا رہا۔۔۔ کرونا جیسی وبا نے پوری دنیا کو اللہ کی قدرت اور طاقت کی یاد دلا دی۔۔۔ انسان کی بے بسی کو عیاں کیا اور مصنوعی دنیا کا پردہ چاک کیا۔ 2020  کا سال موت کا فرشتہ ثابت ہوا اور کئی اہم شخصیات اس دارفانی سے کوچ کر گئیں۔۔۔ 2020 گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ سال ثابت ہوا اور درجن سے زائد اہم شخصیات ہمیں داغ مفارقت دے گئیں۔۔۔۔سید جعفر شاہ،  حاجی جانباز، ملک مسکین، پیر کرم علی شاہ، سلطان مدد، سید افضل، شاعر عبد الغفور چلاسی،  بونجی کے ظل اللہ، سابق رکن اسمبلی الواعظہ علی مراد، ڈی جی این ایل سی بریگیڈر(ر) اقبال، ڈاکٹر علی گوہر، راجہ عادل غیاث، پدم پارٹی کے غازی  امین، کرنل مجیب الرحمن شہید، کرنل راشید کریم بیگ شہید ، کرنل خوشامدین شہید ، پروفیسر میر فاضل شاہ کی رحلت اور  2020 کے اختتام سے چند ہی روز قبل میجر محمد حسین منڈوق کی شہادت اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ایڈوکیٹ احمد میر کی موت   کی صورت میں مذکورہ برس نے  ہم سے انگنت ہیرے اور ستارے چھین گیا۔۔۔ 2020 میں  زندگی کی دوڑ میں شامل 101 سے زائد افراد کرونا کے بہانے ہم سے پردہ کر گئے۔۔۔ یہ برس مہنگائی کے اعتبار سے بھی عوام کیلئے مشکل ترین ثابت ہوا، گلگت بلتستان کے سیاحتی شعبے کو شدید نقصان پہنچا اور کاروبار زندگی ٹھپ رہا، تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے یہ سال تعلیم کیلئے بھی سودمند ثابت نہ ہوسکا،  کئی ٹریفک و قدرتی آفات سے لوگوں کی زندگیاں چلی گئیں مگر دوسری جانب 2020 میں گلگت بلتستان کی تاریخ کے اہم حوصلہ افزا و مثبت واقعات بھی رونما ہوئے، 2020 میں گلگت بلتستان کی تاریخ کا پرامن ترین الیکشن کا انعقاد ہوا، دس برسوں سے سیاسی اسیر بابا جان کو ریاستی ہمدردی کی صورت میں رہائی ملی، 20 برسوں سے جلاوطن قوم پرست رہنما حمید خان گلگت پہنچ گیا۔۔ مدبر شخصیت و سابق ڈی آئی جی پولیس  میر افضل خان نگران وزیر اعلی بنے اور  حفیظ الرحمن صاحب سابق وزیر اعلی قرار پائے ، استور رٹو کے خالد خورشید کا ستارہ 2020 میں عروج کو پہنچا اور تاریخ میں پہلی بار الیکشن جیتے سیدھے جا کر وزیر اعلی کی کرسی کے حقدار قرار پائے۔ 2020 میں دیامر بھاشا ڈیم پر کام کا باقاعدہ آغاز ہوا، وزیر اعظم پاکستان نے اس سال گلگت بلتستان کے 3 دورے کئے۔ ضلع دیامر میں  ایف۔سی۔این۔اے کے زیراہتمام تعلیمی جرگوں کا آغاز ہوا اور مقامی شدت پسندوں کو قانون کے سامنے پیش کرتے ہوئے امن کی تحریک چلائی گئی۔ داریل سے پہلی خاتون ثریا زمان ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئیں۔  مجموعی طور پر امکانات و خدشات لئے ہوئے یہ برس آج پوری دنیا کو آخری درشن کرانے کے بعد رخصت ہوگیا۔۔۔امیدوں اور توقعات کے ساتھ نئے دن کا سورج  طلوع ہوگیا مگر نئے سال کا نیا پن اس وقت محسوس ہوگا جب لوگوں کو انصاف ملے گا، ظلم کا بازار بند ہوگا، نظام تبدیل ہوگا، میرٹ کی بالادستی ہوگی، سچائی کا پرچار ہوگا، تھانہ کلچر میں اصلاحات آئیں گی، لوگوں کو روزگار ملے گا، اقربا پروری کا خاتمہ ہوگا، اسلام کے حقیقی اصولوں کا عملا نفاذ ہوگا، امن ہوگا، قربتوں میں اضافہ ہوگا، کدورتیں کم ہوں گی، مصنف ٹھیک لکھے گا، منصف درست فیصلہ سنائے گا، صحافی کا قلم نہیں بکے گا، سیاست دان کی تقریر جھوٹ پر مبنی نہیں ہوگی اور استاد کا اپنے پیشے سے لگائو ہوگا ورنہ ہم سمجھیں گے کہ نئے سال تو آتے ہیں، وقت اپنی رفتار سے چلا جاتا ہے مگر نیا پن سے عاری  محض ہندسوں کی تبدیلی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ خدا کرے نیا سال ہم سب کیلئے رحمتوں، محبتوں اور نیا پن کا سبب بنے۔