148

بجلی کی قیمتیں اور مہنگائی کا جن


وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں نے بارودی سرنگیں لگائی تھیں،227ارب روپے کی بارودی سرنگ ہمیں ورثے میں ملی، نون لیگ کی حکومت نے ایسا خسارہ چھوڑا کہ ہمیں ادائیگیاں کرنا پڑیں،ماضی کی حکومتوں  کی وجہ سے بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے پچانوے پیسے کا اضافہ  کیا گیا ہے ۔ توانائی کے مسائل ہماری حکومت کو ورثے میں ملے،نون لیگ کی حکومت نے ایسا خسارہ چھوڑا کہ ہمیں ادائیگیاں کرنا پڑیں،شعبہ توانائی میں گردشی قرضہ نون لیگ حکومت کی کار ستارنی ہے۔ نون لیگ حکومت نے دانستہ طور پر بدنیتی پر معاہدے کرکے کارخانے لگائے۔ نون لیگ حکومت کی وجہ سے ملک میں تنتالیس فیصد بجلی مہنگی بنتی ہے،عوام پر بوجھ ڈالتے تو یہ تقریبا202 روپے اور اکسٹھ پیسے فی یونٹ بنتا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے پچانوے پیسے کا اضافہ کرنے جارہے ہیں۔ مشکل معاشی حالات کے باوجود پاور سیکٹر کیلئے 473 ارب روپے سبسڈی دی۔ اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے معیشت سے متعلق اچھی خبریں آرہی ہیں، پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے، ہماری برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیدوار میں نومبر کے مہینہ میں اضافہ نظر آیا۔ بڑی صنعتوں کی پیدوار میں پندرہ فیصد اضافہ نظر آیا۔ ترقیاتی منصوبوں کے تحت 208 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے گئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال میں پہلی بار پہلے چھ ماہ میں سب سے زیادہ بجٹ کا استعمال ہوا۔  بجلی کے مسائل ہماری حکومت کوورثے میں ملے۔ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہوچکا ہے۔ ملکی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے،طویل عرصے کے بعد کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے۔ ان فیصلوں کی قیمت ادا کرنے کیلئے نو روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت بڑھانا پڑی۔موجودہ حکومت مہنگائی کے حوالے سے تاریخ کی ریکارڈ ساز حکومت ہے جس نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں لیکن عالمی مالیاتی اداروں کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔جب آمدن کے مقابلے میں ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھ جائیں تو مہنگائی فروغ پا جاتی ہے۔ زیادہ پیسوں میں تھوڑی چیز میسر ہونے کو بھی معاشیات میں مہنگائی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر محکمہ اور ادارہ خطرناک حد تک کرپشن میں مبتلا ہو چکا ہے۔ روپیہ ڈالر کی محکومیت کا شکار ہے اس معاشی افراتفری میں اشیا کی قیمتوں کا کنٹرول میں رہنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی ناجائز بلیک مارکیٹنگ اور رسد میں رکاوٹ بھی مہنگائی کا باعث ہوتی ہے۔ بے دریغ لیے گئے غیر ملکی قرضہ جات بھی معیشتیں کمزور کرتے ہیں  حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کیلئے بے تحاشا نوٹ چھاپنے سے بھی افراط زر پھیلتا ہے۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت جب تک ذاتی مفادات کے برعکس اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔لوگوں کے ذرائع آمدن پہلے ہی کرونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث آدھے سے بھی کم ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر نچلا طبقہ ہے جو کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہے گزشتہ دس سالوں سے مکانوں اور دکانوں  کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جن کو کسی بھی حکومت نے کنٹرول کرنے کی کبھی نہ تو کوشش کی نہ ہی اس ضمن میں کبھی کوئی قانون سازی عمل میں آئی۔پرائیویٹ ہسپتالوں ڈاکٹروں اور سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسیں اور مہنگی ادویات بھی مہنگائی میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں صحت اور تعلیم دونوں حکومت کی ذمہ داری ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں جو سرکاری ہسپتال یا سکول ہیں وہاں علاج معالجہ اور تعلیم کا معیار اس قدر پست ہے کہ عوام ان کے حصول کے لیے پرائیویٹ اداروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔عوام سے لیے گئے ٹیکسوں کے عوض ریاست نے عوام کو صحت اور تعلیم کی جو معیاری سہولتیں فراہم کرنی ہوتی ہیں ان سہولتوں کی فراہمی بھی اشرافیہ تک محدود ہے ان حالات میں اشرافیہ نے کم آمدنی والے طبقات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔انتظامی اداروں میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ضرورت سے زیادہ منافع یا اجارہ داری قائم کرنے کے کمپنیوں یا افراد کے گٹھ جوڑ کو کارٹلائزیشن کہا جاتا ہے ان کا یہ کارٹل بنانے کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ہوتا ہے دنیا بھر میں  حکومتیں اس کارٹل کو توڑنے کے لیے قوانین بناتی ہیں پاکستان میں بھی اس پر مسابقتی کمیشن کا ادارہ موجود ہے لیکن وہ کارٹل مافیا کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ ریاست اداروں کا مجموعہ ہوتی ہے اور سارے ادارے حکومت کے زیر ہوتے ہیں۔ جبکہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے نہ صرف حکومت بے بس نظر آرہی ہے بلکہ انہی کے ماتحت پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ وہ حکومت کو کوئی مشورہ دے سکیں کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں حد درجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نہ صرف عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے بلکہ کاروبار پر بھی منفی اثرات نمایاں ہورہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح اس حکومت میں آدھی رہ گئی ہے، جس کی اہم وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ حکومت کا شاید اس طرف دھیان نہیں یا وہ دھیان دینا نہیں چاہتے۔اس ساری صورتحال میں اس وقت بھی حکومتی پلاننگ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تین طرح کے فوری اقدام کرنے چاہئیں۔ حکومت کس طرح عام شہریوں کی اقتصادی قوت کو بڑھائے تاکہ عوام کے پاس مالی وسائل زیادہ ہوں۔پاکستان میں گھریلو صنعت کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ فوری طور پر بے روزگاری کو قابو میں لایا جاسکے اور معیشت کو بھی تقویت ملے۔ جو سب سے اہم اور بڑی وجہ شرح سود میں کمی لائی جائے۔ کیونکہ صنعتی طبقے پر قرضے اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ کاروباری طبقہ اپنی فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہے۔مہنگائی کے اثرات نے جہاں صنعتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں، وہیں لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جمہوریت کا حسن تو یہ ہے کہ وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے مگر پاکستان میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ غیر منصفانہ تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، بے چینی، مایوسی، افراتفری پھیلی ہے اور بے روزگاری کے باعث چوری، قتل، دھوکا دہی، ریپ کیسز اور دیگر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اور ان سارے مسائل کی ایک ہی جڑ مہنگائی اور غربت ہے۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے عوام کی قوت خرید کم کر دی ہے۔ جس شخص کے پاس دس لاکھ روپے تھے ان کی قیمت ایک سال میں پانچ لاکھ کے برابر رہ گئی ہے۔جس شخص نے دس مرلہ گھر بنانے کے لیے سوا کروڑ روپے جوڑ رکھے تھے اب اس میں پانچ مرلے کا گھر بھی نہیں آتا۔دوسری طرف مافیاز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سزا اور جزا کا نظام شاید انہیں اپنے شکنجے میں لینے سے قاصر ہے۔کسی بھی معیشت کی ترقی کا دارومدار ٹیکس آمدن پر ہوتا ہے۔ عوام کی خوشحالی بھی اسی میں مضمر ہے۔ آمدن ہو گی تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جا سکے گا۔ لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ٹیکس حدف حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ اعدادوشمار کے مطابق سرکار نے ہدف سے کم ٹیکس وصول کیا ہے۔اگر کسی ملک کے پاس ہر طرف کے ذخائر موجود ہیں لیکن وہ اسے کسی دوسرے ملک کو بیچ نہیں سکتا تو ان ذخائر کا ہونا بے معنی ہے۔ آج کی دنیا برآمدات کی دنیا ہے۔ دوسرے ملک کے لوگوں کی جیب سے پیسہ نکال کر اپنے ملک میں لانا ہی اصل کامیابی ہے، جو کہ صرف برآمدات بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔پاکستان کی برآمدات آٹے میں نمک کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کے عذر نہ تراشے بلکہ عوام کو ریلیف دینے کا اہتمام کرے۔