30

بدلتے منظرنامے میں نئے امکانات


 روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف کے اسلام آباد پہنچنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ائیرپورٹ پر روسی ہم منصب کا پرتپاک استقبال کیا۔ روس میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان  اور وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے۔ پاکستان اور روس کے مابین دو طرفہ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی پاکستانی وفد جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف روسی وفد کی قیادت کریں گے۔وزارت خارجہ میں ہونے والے مذاکرات میں کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ، اہم علاقائی و عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔روسی وزیر خارجہ، وزیر اعظم عمران خان و دیگر اعلی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے جب کہ اس ملاقات سے توقع ہے کہ روسی وزیر خارجہ کا یہ دورہ، پاکستان اور روس کے مابین دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے اور مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔روسی وزیرِ خارجہ بھارت کا دورہ مکمل کر کے پاکستان پہنچے ہیں کسی بھی روسی وزیرِ خارجہ کا نو سال بعد یہ پہلا دورہ پاکستان ہے جسے اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔س دورے میں روسی وزیر خارجہ کے ہمراہ  روس کے معاون خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف بھی ہیں  جس سے یہ واضح ہے کہ دورے کا ایک اہم موضوع افغان امن عمل بھی ہو گا۔رواں برس فروری میں بھی ضمیر کابلوف نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی۔ افغانستان میں امریکی جنگ کے اختتام اور افغان امن عمل کے حوالے سے حال ہی میں تبادلہ خیال کے لیے چار بڑی طاقتوں امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے خصوصی مندوبین کا اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا تھا۔سفارتی حلقوں میں بھارت کے بعد پاکستان کا دورہ اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے۔ان کی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوگی۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق وفود کی سطح پر ملاقات میں معاشی تعاون، دہشت گردی اور دوطرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کچھ تجارتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کے بھی امکانات ہیں۔دسمبر 2018میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روسی ہم منصب سے ملاقات کی اور افغان امن عمل کے موضوع پر بات چیت کی تھی۔جون 2019میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن کے ساتھ نہ صرف ملاقات ہوئی تھی بلکہ تصاویر کھنچوانے سے لے کر کھانے کی میز تک دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محو گفتگو رہے تھے۔ مبصرین اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے رہے۔2019 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں روسی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو آگے بڑھانے پر مشاورت ہوئی۔ ستمبر 2020میں ماسکو میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔روسی وزیر خارجہ گذشتہ ماہ چین کا بھی دو روزہ دورہ کر چکے ہیں جبکہ تیرہ اپریل کو ایران کا بھی دورہ کریں گے۔ خطے کے اہم ممالک کے یہ دورے روسی خارجہ پالیسی میں ان ممالک کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔روسی وزیر خارجہ کا دورہ افغان امن مذاکرات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے رابطے پر بھی بات چیت کی جائے گی جسے سینٹرل یورشین کوریڈور کا نام دیا گیا ہے۔ روس پاکستان، چین، بھارت اور ایران خطے کے لیے اہم ہیں اور یوریشیا پارٹنر شپ کا اہم سنگ میل ہیں۔ افغانستان میں امن اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ افغانستان وسطی ایشیا کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ روس خطے کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ صدر پیوٹن کے دورے پاکستان کا انحصار اس بات پر ہے کہ وزیر خارجہ کا دورہ کتنا کامیاب رہتا ہے۔ روسی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موسمیاتی کانفرنس میں پاکستان کو مدعو نہ کرنے پر امریکہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ شاید پاکستان اس دورے سے امریکہ کے ساتھ دوری کا ایک پیغام دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا تھا کہ وہ بذات خود ائیر پورٹ پر سرگی لاوروف کا استقبال کیا پاکستان کی طرف سے بھی یہ ایک پیغام ہے کیونکہ امریکی وزیرخارجہ  مائیک پومپییو کے آخری دورہ  پاکستان پر شاہ محمود قریشی کی بجائے اعلی سفارتی حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔ شنگھائی تعاون کونسل کی مشترکہ فوجی مشقوں پر پاک روس دفاعی حکام قریب آ رہے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ معاشی تعاون بھی بڑھے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشی اور دفاعی تعلقات کیسے آگے بڑھ رہے ہیں۔ نارتھ ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم دونوں  آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ جب پاکستان میں آٹے کا بحران پیدا ہوا تو روس نے انہیں بروقت گندم فراہم کی تاکہ ہماری قیمتیں مستحکم رہیں۔ اسٹیل مل انہوں نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے یا کوئی اور سرمایہ کاری کی سبیل نکلتی ہے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقع ہمیں میسر آ سکتے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2012 میں اس وقت روس کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا جبکہ دونوں ممالک کے مابین ملٹری ٹو ملٹری تعلقات کا سلسلہ بھی 2012 سے شروع ہوا تھا۔ پاکستان، روس کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اور روس کے مابین دو طرفہ تعلقات میں بتدریج وسعت آ رہی ہے۔ پاکستان اور روس کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات، دو طرفہ باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کا مظہر ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اعلی سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات، تجارت، معاشی معاملات، دہشت گردی سے نمٹنے اور علاقائی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ روسی وزیر خارجہ کا دورہ، پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ کا حصہ ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی تجارت اور مختلف شعبہ جات میں تعاون کا فروغ پایا گیا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ دہلی سے ہو کر آ رہے ہیں انڈیا کے ساتھ روس کے دیرینہ تعلقات ہیں روس انڈیا کو افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے اِس سال کے آخر میں زیرالتوا بھارت روس سالانہ چوٹی میٹنگ کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے بتایا تھا کہ یہ دورہ ہمارے باہمی تعلقات کے اہم پہلوں پر تبادلہ خیال کا  ایک منفرد اور مثالی موقع ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت روس کے درمیان اگلی سالانہ چوٹی میٹنگ کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا جاسکے گا۔ اِس دورے کے دوران آپسی مفاد کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف دورہ ایران کے موقع پر باہمی اورعلاقائی بالخصوص شام، یمن، افغانستان اور قفقاز کی تازہ ترین تبدیلیوں سمیت بین الاقوامی اورعلاقائی میدان میں تعاون، جوہری معاہدے، امریکی یکطرفہ اقدامات اور پابندیوں سے نمٹنے کے جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

۔