28

بلدیاتی انتخابات : الیکشن کمیشن کا کام مقررہ تاریخ پر انتخابات کراناہے،حفیظ الرحمن

گلگت(نمائندہ خصوصی) سابق وزیر اعلی و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے کا اعلان اور تاریخ متعین کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے الیکشن کمیشن کا کام مقررہ تاریخ پر انتخابات کراناہے افسوس سے گلگت بلتستان میں سلیکٹرز کی حکومت کو مینڈیٹ کا علم نہیں ۔ کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات 2018 سے قبل وفاقی سبجیکٹ تھا 2018 کے بعد یہ صوبائی سبجیکٹ بنا ہے جس پر ہمارے دور حکومت میں باقائدہ کام ہوا فنڈ بھی مختص ہوا لیکن جب تک مردم شماری آفیشل سطح پر سامنے نہیں آتی ہے اس وقت تک انتخابات کرانے میں دشواریاں ہیں وفاق سے خصوصی اجازت لیکر صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کراسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے سب سے ضروری کام ڈی لیمٹیشن کا ہے حلقہ بندیاں حدود بندیاں لازمی ہیں کیونکہ 1994 کے بعد بلدیاتی نظام کو فعال نہیں بنایا گیا تھا جس پر ہماری حکومت نے کام کیا اور تین حصوں میں بلدیاتی نظام کو تقسیم کیا جس میں یونین کونسل ، تحصیل کونسل اور ٹاؤن کونسل گلگت اور سکردو میونسپل کارپوریشن ہیں ڈی لیمٹیشن کی اس وقت اشد ضرورت ہے ڈی لیمٹیشن کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت صوبائی حکومت نے کسی بھی جماعت سے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے اب کس کی اجازت سے چیف الیکشن کمشنر انتخابات کی بات کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملٹی وارڈ سسٹم کو ہم نے ختم کیا ہے اب الگ الگ وارڈ کے لحاظ پر انتخابات ہوسکتے ہیں جو ایکٹ ہم نے منظور کیا تھا اس پر ملٹی وارڈز کو ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سلیکٹڈ مسخروں کی حکومت آئی ہے جس کو معلوم ہی نہیں ہے کہ انہوں نے کیا کام کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ووٹر لسٹ سالانہ اپ ڈیٹ کرانے کی ضرورت ہے جو کہ نہیں کیا جارہا ہے الیکشن کمیشن والے تین سال تک سوئے رہتے ہیں ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا نادرا کے پاس جو ریکارڈ تھا اس کو لاکر کاپی کیا گیا اور ووٹر لسٹ جاری کیا گیا اس طرح مزید نظام بحران کا شکار ہوگا اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور سالانہ لسٹ  اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور بلدیاتی انتخابات کے لئے قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت بھی لازمی ہے تاکہ مزید بہتری آسکے۔