27

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور حکومت کی ذمہ داریاں

صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں فائرنگ سے گیارہ کان کن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں  پیش آیا۔واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور انتظامیہ کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جبکہ قریبی کوئلہ کانوں کے مزدور جمع ہوگئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد نے مچھ کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کان کنوں کو اغوا کیا اور قریبی پہاڑی علاقوں میں لے گئے جہاں ان پر فائرنگ کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف کیا گیا یہ ڈارگٹ کلنگ تھی حملہ آوروں نے کان کنوں میں سے ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کو شناخت کرکے الگ کیا اور انہیں دور لے جا کر قتل کردیا جبکہ دیگر کو نقصان نہیں پہنچایا۔کراچی میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام نمائش چورنگی میں احتجاج کیا گیا اور مچھ میں گیارہ کان کنوں کے قتل کی مذمت کی گئی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے معصوم مزدوروں کو قتل کرکے ایک مرتبہ قانون کو چیلنج کیا ہے۔ بھارتی ایجنسی راء کی حمایت یافتہ عناصر اور دیگر فرقہ پرست فورسز بلوچستان میں موجود ہیں جن کا مقصد ملک کا امن خراب کرنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان بھر میں آپریشن ضرب عضب شروع کرکے ملزمان کو فوری گرفتارکیا جائے ۔ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری جنرل علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکا اور ملک مخالف فورسز ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ایک مرتبہ متحد ہوگئی ہیں۔ مچھ میں کان کنوں کے قتل میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے بلوچستان میں چند روز قبل ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا تھا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بلوچستان میں مزدوروں کی ہلاکت کے واقعے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور ہائبرڈ وار فیئر کے ذریعے ایسے واقعات کروا رہا ہے۔ اپوزیشن کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور بلوچستان میں یکے بعد دیگرے واقعات ہو رہے ہیں، ان حالات میں جب آپ اداروں پر تنقید کرتے ہیں تو آپ بھارتی بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کل بلوچستان میں مزدوروں کی ہلاکت کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہندوستان ہائبرڈ وار فیئر کے ذریعے ایسے واقعات کروا رہا ہے تاکہ لوگوں میں بددلی پھیلے اور پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری متاثر ہو۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن کی قیادت کو بلوچستان کے معاملات میں دلچسپی لینی چاہیے اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ای یو ڈس انفولیب کے چشم کشا انکشافات دنیا کے سامنے آ چکے ہیں اور اس رپورٹ نے بھارت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ہم نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے اہم شواہد اور حقائق کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے، بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں کی وجہ سے سیکولرازم کا تصور دفن ہو چکا ہے۔ آج بھارت میں امتیازی قوانین کے ذریعے اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، پورے بھارت میں کسان سراپا احتجاج ہیں اور بین الاقوامی میڈیا بھی کھل کر بھارت کے خلاف لکھ رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ہم ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہیں گے،  قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کے خلاف بھرپور اور موثر آواز بلند کی لیکن اس موثر آواز کو دبانے کے لیے جھوٹے مقدمات کے ذریعے انہیں پچھلے پندرہ سال سے قید میں رکھا گیا ہے۔صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے گیارہ کان کنوں کی شہادت کے واقعہ کے بعد لواحقین نے کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ۔مظاہرین نے میتیں بھی سڑک پر رکھ کر شدید سرد موسم میں دھرنا دیا۔ان کاکہنا تھا کہ میتوں کی تدفین اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ داعش نے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔تنظیم کے زیرِ اثر نیوز ایجنسی عماق کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے اراکین نے ہزارہ برادری کے گیارہ کان کنوں کو ہلاک کیا۔ بعدازاں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے رکنِ صوبائی اسمبلی قادر نائل سے کامیاب مذاکرات کے بعد میتوں کو کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹائون کی ولی العصر امام بارگاہ پہنچایا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی مچھ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔مچھ'بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بولان کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہاں کوئلے کی کانوں کے علاوہ قدیم کوئلہ ڈپو بھی ہے۔ جہاں ملک بھر سے کان کن کام کی غرض سے آتے ہیں۔یہاں پر موجود مچھ جیل کا شمار ملک کی بڑی اور قدیم جیلوں میں ہوتا ہے۔اس سے قبل بھی سورینج، مارواڑ، سنجدی، مچھ، ہرنائی اور دکی سے کان کنوں کو اغوا کیا جاتا رہا ہے۔ جن میں سے بعض کو قتل بھی کیا گیا۔ ہزارہ کمیونٹی میں کوئی ایسا نہ ہوگاجس کا کوئی شہید نہ ہوا ہو۔ ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی اکیلا نہیں لڑ سکتا، ہمیں اپنے ملک کو ان لوگوں سے پاک کرنا ہوگا۔جب تک مظلوموں کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے انہیں انصاف نہیں ملے گا،حکومت کو عوام کو امن دینا پڑے گا۔ہمیں امن دیکھنا ہے تو دہشت گردی کو شکست دینا ہوگی، دہشت گردی کے خلاف پوری ریاست کو یکجا ہونا پڑے گا۔ ملک دشمن وہ ہے جو ملک میں امن نہیں چاہتے، پاکستان کی عوام یہ چاہتی ہے یہاں امن ہو۔ بھارتی فوج مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرتا ہے، بھارت بدمعاش ریاست کا روپ دھارچکا ہے ' بھارت دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں ہیں، نائن الیون کے بعد دنیا نے دیکھا پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ بن چکا تھا، فرنٹ لائن اسٹیٹ بن کر پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی۔دنیا جانتی ہے پاکستان دنیا کے لیے امن حاصل کرنے میں لگا ہوا تھا، اس دوران بھارت پاکستان کے گرد دہشت گردی کا جال مسلسل بنتا رہا، بھارت اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے رہا تھا، بھارت کو جہاں موقع ملا اس نے فائدہ اٹھا کر اپنی کوششیں جاری رکھیں۔بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔بھارت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کو اسلحہ اور رقم فراہم کی جا رہی ہے، بھارت نے اگست 2020 میں ٹی ٹی پی، جے یو اے، ایچ یو اے کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ راء اور ڈی آئی اے پاکستان میں دہشت گردی کو فنانس کر رہی ہیں، بھارتی ایجنسیز دہشت گردوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں۔بھارت پاکستان کی امن کی پیش رفت میں خلل ڈالنا چاہتا ہے۔ بھارت گلگت بلتستان، سابق فاٹا اور بلوچستان میں انارکی پھیلانا چاہتا ہے، بھارت پاکستان کو معاشی خوشحال نہیں دیکھنا چاہتا، بھارت چاہتا ہے پاکستان میں غیر یقینی صورتحال ہو اور معاشی استحکام نہ ہو، بھارت کا تیسرا مقصد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔بھارت باقاعدہ سی پیک کو سبوتاژ کر رہا ہے، بھارتی ریٹائرڈ میجر گوارو آریا نے بھارتی ٹی وی چینل پر برملا کہا تھا کہ ہندواڑا کا بدلہ بلوچستان میں لیا جائے گا پھر پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کیا گیا بھارتی میجر ریٹائرڈ گوارو نے پاکستان دشمن بھارتی ٹی وی چینل ٹائمز نائو کے پاکستان دشمن اینکر ارناب گوسوامی کے پروگرام میں ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہا تھا کہ ہندواڑا کا بدلہ پاکستان میں نہیں بلکہ ہندواڑا کا بدلہ بلوچستان میں لیا جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے اندورونیو بیرونی دشمنوں کو لگام ڈالنے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزشت نہ رکھے۔