26

بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کا عزم

گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن شیخ اکبر رجائی نے کہا ہے کھرمنگ میں بنجر زمینیوں کو قابل کاشت بنائیں گے' زراعت پر توجہ دے کر عوام کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے' یہ درست ہے کہ زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر ہمارا ایک وسیع رقبہ ناقابل کاشت اور بنجر ہے جسے قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی موجودہ آبادی سات ارب تک زائد ہو چکی ہے جس کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں بنجر زمینوں پر پائے جانے والے نباتات کا استعمال اہم ضرورت بن رہا ہے۔ہیلو فائٹس یا شور زدہ زمین پر پائے جانے والے نباتات کے بطور غیر روایتی فصلوں کے استعمال کے ذریعے مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔ بدقسمتی سے گزشتہ پچاس برسوں میں فی کس زرعی زمینوں میں ماحولیاتی تغیرات اور غیر معیاری کاشت کاری کے باعث دو گنا کمی واقع ہوئی ہے۔جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ہیلو فائٹس کی غذائیت خصوصیات میں اضافہ ممکن ہے، جو مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتاہے۔ شور زدہ یا بنجر زمینیں بیکار نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ان بنجر زمینوں کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ فضائی آلودگی کے تدارک میں بھی معاونت ہوگی۔ماحولیاتی تبدیلیاں ایک مسلمہ حقیقت ہیں جن کے اثرات پوری دنیا میں نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔ بہت سے ممالک بشمول پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی کی زد میں ہیں، جس کا براہ راست اثر زرعی پیداوار پر پڑتا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کاشت کے غیر روایتی طریقوں کو اپنایا جائے جو مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہیں۔کچھ عرصہ قبل گلگت بلتستان میں بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے ڈرپ ایریگیشن سسٹم متعارف کرایا گیا تھا، اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب ان زمینوں پر کاشت کی جاسکے گی جہاں زرعی پانی میسر نہیں ہے۔گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے بالائی علاقوں میں زرعی پانی کی رسائی نہ ہونے کے باعث زمین قابل کاشت نہیں تھی، تاہم ڈرپ ایریگیشن سسٹم کو ایک این جی او نے متعارف کرایا ۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت بالائی ہنزہ کے گائوں خیبرکی زمین قابل کاشت ہوگئی  ۔ڈرپ ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے واٹر پمپ ملک میں ہی تیار کیے جاتے ہیں یہ پمپ تیس فٹ کی بلندی سے آنے والے پانی کو تین سو فٹ کی بلندی تک پہنچادیتے ہیں، ڈرپ ٹیکنالوجی کی بدولت اس پانی کو پودوں اور فصلوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔یوں پانی کے ایک ایک قطرے کو بغیر ضائع کیے زراعت کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔زرعی شعبے کی ترقی، ملکی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے ناقابل کاشت زمین کو دوبارہ سے قابل کاشت بنانے کیلیے آرگینک طریقہ کار تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ہمارے ہاں ریتیلی زمین میں سیکڑوں ایکڑ پر باغات اور سبزیاں کاشت کرنے کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔لاکھوں ایکڑ زرعی رقبہ ایسا ہے جہاں سیم، تھوراور کلر کی وجہ سے زمین بیکار پڑی ہے ریتیلی اور بیکار زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے آرگینک طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے کامیابی کے ساتھ مختلف اقسام کے باغات، فصلیں اور سبزیاں کاشت کی جاسکتی ہیں۔ایک غیرملکی کمپنی کے ساتھ کئی سال کی انتھک محنت اور تحقیق کے بعد آرگینک کھاد کا ایسا فارمولا وضع کرلیا گیاہے جس سے ریتلی، سیم، تھور اور کلر زدہ زمین پر کاشتکاری کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی قسم کی ریتلی، سیم، تھور اور کلر زدہ زمین کو آرگینک کھاد، لیکویڈ اور جڑی بوٹیوں سے قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے۔اس طریقے کے تحت زمین کی سطح سے چند فٹ نیچے آرگینک کھاد اور کیمیکل سے ایک جال بنایا جاتا ہے جو پانی کو مزید نیچے جذب نہیں ہونے دیتا۔ اس جگہ ایسی کیمیائی تبدیلی رونما ہوتی ہے جس سے ریتلی اور سیم والی زمین قابل کاشت ہوجاتی ہے۔ یوریا سمیت دیگر کھادوں کی نسبت قدرتی اجزا سے تیار ہونے والی آرگینک یعنی نامیاتی کھاد زیادہ اچھے نتائج دے رہی ہے۔ آرگینک کھاد اور لیکویڈ استعمال کرنے والے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی فصلوں کی نہ صرف پیداوارمیں اضافہ ہوا ہے بلکہ فصل زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تنا بھی مضبوط اور لمبا ہوتا ہے۔ زرعی فصلوں پر مصنوعی کھادوں کے استعمال اور کیمیکل اسپرے کی وجہ سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ لوگ بھی مختلف اقسام کے کینسر سمیت متعدد بیماریوں کا شکارہورہے ہیں۔ کیمیکل فرٹیلائزرز یعنی مصنوعی کھادوں کے مسلسل استعمال سے زمین کی قدرتی زرخیزی بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔اس کے برعکس اگر آرگینک کھادیں اورقدرتی اجزا استعمال کئے جائیں تو مہنگی کھادوں اور کیمیکل اسپرے سے بچنے کے علاوہ زیادہ بہتر اور اچھی پیداوار حاصل ہوگی۔ نامیاتی یعنی آرگینک طریقے سے تحت ایک بار زمین تیارہوجائے تو پھر اس پر کوئی بھی فصل اور سبزیاں کاشت کی جاسکتی ہیں۔ اس سے پاکستان کو سرسبز و شاداب کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مقدارمیں بہتر پھل، سبزیاں اورمختلف فصلیں حاصل کرکے فوڈ سیکیورٹی بھی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ سمندری جڑی بوٹیوں کی مدد سے تیار کی گئی بایو آرگینک مائع کھاد زمین میں کیچوے پیدا کرتی ہے، جو بنجر اور کمزور زمین کی مٹی کو بطور خوراک کھا کر ایسا مواد خارج کرتے ہیں جو زمین کی زرخیزی بڑھا دیتے ہیں۔ کیچوے زمین کی چند انچ کی اوپری سطح سے نیچے جاتے ہیں اور اس زمین کو نرم کردیتے ہیں، جس سے زمین کی قدرتی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ اس فارمولے سے بنجر زمینوں کو بھی قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے۔ تہترسال سے کاشت کیلئے زمین صرف دس انچ استعمال کی جاتی رہی ہے، جو بار بار کھادوں اور پیسٹی سائیڈ سے زہر آلود ہوچکی ہے، جس سے تمام اجناس اور پھل بیماری زدہ پیدا ہوتے ہیں۔اس فارمولے سے کیچوے زمین کے اندر چار فٹ کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور زمین دس انچ کے بجائے چالیس سے اڑتالیسانچ تک قابل استعمال ہوجاتی ہے، جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے، بلکہ کھاد کے زہر سے پاک حقیقی غذائیت بھی حاصل ہوگی۔ ہمارے کاشتکار پیداوار کی کمی کو آفات اور بیماریوں پر ڈال دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، ہمیں اپنی زمین کو بہتر اور قابل کاشت بنانا ہے۔بایو آرگینک مائع کھاد استعمال کرنے سے پیداواربڑھ جا تی ہے ، کھیت کی نمی بھی برقرار رہتی ہے اور اس کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے۔مچھلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث  فش فارم بنا کر جہاں بنجر زمینوں کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے وہیں درخت لگانے سے بھی بنجر زمینوں میں زرخیزی لائی جا سکتی ہے۔فش فارمنگ سے نہ صرف انسانی خوراک میں لحمیات کی کمی کو پورا کیا جا سکتاہے بلکہ اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔زرعی پیداوار بڑھانے اور خصوصا غیر آباد اور بنجر زمینوں کی آبادکاری کیلئے آئس ٹوپے کا پروجیکٹ قابل تقلید ہے جس کیلئے پاری کھرمنگ کے جوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بہترین کام کیا۔ پاری آئس ٹوپہ کی بنیاد رکھنے والے جوانوں اور ضلع کھرمنگ کے ضلعی انتظامیہ کیجانب سے وزیر زراعت کو پاری کھرمنگ میں کامیابی کیساتھ زیر پرورش آئیس ٹوپے کے بارے میں بریفنگ دی جا چکی ہے جس سے توقع کی جارہی ہے کہ ناقابل کاشت زمینیں پیداوار کے قابل ہوسکے گی۔آئس ٹوپے کی پرورش کے اس کامیاب تجربے کو دیگر علاقوں میں شروع کیا جائے تو کھرمنگ سمیت بلتستان کے بیشتر بنجر زمینیں آباد ہوسکتی ہیں۔صحرا زدگی ایک ایسا عمل ہے جو ایک عام زمین کو آہستہ آہستہ خشک اور بنجر کردیتا ہے جس کے بعد ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ مکمل طور پر صحرا میں تبدیل ہوجاتی ہے۔یہ عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی علاقے میں خشک سالی پیدا ہوجائے، کسی مقام سے بڑے پیمانے پر جنگلات کو کاٹ دیا جائے، یا زراعت میں ایسے ناقص طریقہ کار اور کیمیائی ادویات استعمال کی جائیں جو زمین کی زرخیزی کو ختم کر کے اسے بنجر کردیں۔دنیا میں اس وقت پچیس کروڑ افراد صحرا زدگی کے نقصانات سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک سو ممالک اور ایک ارب افراد صحرا زدگی کے خطرے کا شکار ہوجانے کی زد میں ہیں۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔