22

بنگال کا ہنگامہ

ڈاکٹر سلیم خان

دہلی کے مسلمان اروند کیجریوال کو اپنا مسیحا مانتے تھے لیکن شاہین باغ کی تحریک نے ان کی قلعی کھول دی ۔ ان کو  دن تک چلنے والی تحریک کے لیے دس منٹ کا وقت نہیں ملا جبکہ دس دن کے اندر وہ کسانوں نے ملنے سنگھو بارڈر پر پہنچ گئے ۔ اس کا مطلب ہے پنجاب کی سکھ تو ان کے لیے اہم ہیں لیکن دہلی کے مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے نئے زرعی قوانین کے مسئلہ پر دہلی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ،جس میں ان قوانین کی پرزور مخالفت کی گئی۔ اسی دوران عآپ اراکین اسمبلی نے ایوان میں ہی زرعی قوانین کے مسودے کو پھاڑ دیا۔ اس کی ابتدا عآپ رکن اسمبلی مہندر گویل اور سومناتھ بھارتی نے کی اور ایوان میںجے جوان، جے کسان کا نعرہ لگایا۔ عآپ اراکین اسمبلی نے اعلان کیا کہ کسانوں کے خلاف کوئی بھی قانون نہیں مانیں گے۔کسان تحریک کی حمایت میں وزیر اعلی کیجریوال نے ایک دن کی بھوک ہڑتال بھی کرچکے ہیں لیکن ان کے اندر سی اے اے کے کالے قانون کو اس طرح پھاڑنے کی ہمت نہیں ہوئی۔اروند کیجریوال کے ذریعہ کسان تحریک کی حمایت نے بی جے پی کی مرکزی حکومت کو ان کا دشمن بنا دیا ۔ زعفرانیوں نے ان کے گھر پر توڑ پھوڑ کی اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ کے گھر میں گھس گئے۔بی جے پی کا جواب دینے کے لیے عآپ نے اپنی ترجمان آتشی مارلینا کو میدان میں اتارا ۔ انہوں نے کہا پولس کی ملی بھگت سے نائب وزیر اعلی کے گھر پر حملہ کیا گیا ۔ ایسا واقعہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اتنے گر گئے ہیں کہ وہ نائب وزیر اعلی کے اہل خانہ کو مروانا چاہتے ہیں۔ کیا بی جے پی دہلی اسمبلی انتخابات میں نقصان کا بدلہ لے رہی ہے؟ ویسے وزیر داخلہ کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے یہ سوال بیجا نہیں لگتا اس لیے کہ وہ مخالفت میں حدود و قیود کے قائل نہیں ہیں ۔ جسٹس لویا کے علاوہ اس مقدمہ کے سارے گواہوں کا عبرتناک انجام سب کے سامنے ہے۔ آتشی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا امیت شاہ بی جے پی کے غنڈوں بھیج کر عام آدمی پارٹی کے سارے رہنماوں کے گھر والوں پر حملہ کرائیں گے؟ کیونکہ امیت شاہ کے پاس ایک طرف تو پارٹی کے غنڈے ہیں اور دوسری طرف دہلی پولس ہے۔ آتشی کے مطابق غنڈے جب گھر کی طرف بڑھ رہے تھے تب پولیس والے پیچھے پیچھے ٹہلتے ہوئے چل رہے تھے ۔ پولیس والے غنڈوں کو روک سکتے تھے لیکن ایک طرف ہوگئے۔مارلینا آتشی کی ساری باتیں درست ہیں لیکن کیا یہ دہلی میں پہلی بار ہورہا ہے ؟ جے این یو کے طلبا کو بی جے پی کے غنڈوں نے ہاسٹل میں گھس کر مارا۔ پولس تماش بین بنی رہی ۔ عام آدمی پارٹی دہلی میں برسرِ اقتدار تھی ۔ اس نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ پولس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ اس وقت ان لوگوں نے سوچا بی جے پی اپنے نظریاتی مخالفین سے نمٹ رہی ہے۔ عآپ سے اس کا کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے اس لیے وہ حملے کی زد میں نہیں آئے گی۔ امیت شاہ کی پولیس نے جامعہ کے اندر اور باہر زبردست آتنک مچایا ۔ اس کے ویڈیو ساری دنیا بھرمیں پھیل گئے لیکن سسودیہ میدان میں نہیں آئے ۔ انہوں نے سوچا ہوگا وہ برسرِ اقتدار ہیں اس لیے پولیس ان کی حفاظت کرے گی ۔ دہلی کے فسادات میں معصوموں کے خون سے ہولی کھیلی گئی مگر عام آدمی پارٹی نے شتر مرغ کی مانند اپنا سر ریت میں چھپا لیا یہ سوچ کر کہ مجبور مسلمان بی جے پی کو ہرانے کے لیے اسی کو ووٹ دیں گے ۔ عآپ کے بے قصور رہنما طاہر حسین کو جب انکت شرما کے قتل کی سازش میں پھنسایا گیا تو اس کا دفاع کرنے کے بجائے انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تاکہ ہندو ووٹر ناراض نہ ہو ۔ اس کے بعد بے شمار بے قصور لوگوں کو فسادی بناکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا گیا لیکن جھاڑو حرکت میں نہیں آیا ۔ اب جبکہ خود پر پڑی تو احتجاج کیا جارہا ہے ۔ یہی سب اگر جامعہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف کیا جاتا تو یہ نوبت نہیں آتی ۔ کاش کہ عآپ والے نواز دیوبندی کے ان اشعار سے سبق سیکھتے