92

بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیرپر براہِ راست بات کریں،جوبائیڈن


واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے پہلے بیان میں امریکا کی جوبائیڈن انتظامیہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر براہِ راست بات کی جائے، ساتھ ہی دونوں پڑوسی ممالک کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کشیدگی کم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نیوز بریفنگ کے دوران اپنے ابتدائی کلمات میں گزشتہ روز ہوئے سمجھوتے کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک فوری طور پر ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کریں گے۔ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم دونوں فریقین کے درمیان بہتر روابط کی جاری کوششوں، ایل او سی پر کشیدگی اور پر تشدد واقعات کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ان کے اس بیان پر صحافیوں نے دریافت کیا کہ 'اگر امریکا نے جنگ بندی کے اس نئے سمجھوتے کے لیے بات چیت میں مدد کی ہے تو کس حد تک کی ہے؟'میڈیا نمائندوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ جب باراک اوباما کے دورِ حکومت میں جو بائیڈن نائب صدر تھے تو ان کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ پاکستان کو افغان جنگ میں ایک اہم اتحادی سمجھتے تھے۔صحافی یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ ماضی میں جو بائیڈن کے پاکستان کے ساتھ قریبی روابط اب پاکستان کے لیے امریکی پالیسی پر کس طرح نظر انداز ہوں گے جب کہ وہ صدر بن چکے ہیں۔جس کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ 'جب امریکا کے کردار کی بات آتی ہے تو ہم مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست بات چیت کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہم یقینی طور پر اعلان کردہ سمجھوتے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔نیڈ پرائس نے کہا کہ وہ اور جو بائیڈن حکومت کے دیگر عہدیدار دونوں پڑوسی ممالک پر کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ سے زور دے رہے ہیں جب امریکی صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اس پوڈیم سے مجھے اور اس حکومت کے دیگر عہدیداران کو کہتے سنا ہوگا کہ ہم نے دونوں فریقین سے ایل او سی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی جانب واپس جانے کا مطالبہ کیا'۔ساتھ ہی ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی کہا کہ 'ہم اس حوالے سے بالکل واضح ہیں کہ ہم ایل او سی کے پار دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں،سوال کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 'غیر جانبدار' رہنے کی کوشش کس طرح امریکا کی پاکستان کے لیے پالیسی کو متاثر کرے گی؟ جس کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان ایک اہم اتحادی ہے جس کے ساتھ ہمارے بہت سے مشترکہ مفادت ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں بالکل واضح ہیں'۔انہوں نے کہا کہ 'تو ہم واضح طور پر زیادہ توجہ دیتے رہیں گے اور ہم پاکستانیوں پر زور دیتے ہیں کہ مشترکہ مفادات کے تمام پہلووں میں تعمیری کردار ادا کرے جس میں افغانستان، کشمیر اور ہمارے دیگر مشترکہ مفادات شامل ہیں۔