89

تحریک انصاف کٹھ پتلی راج نے استور اور دیامر کے سیاحتی مقامات پر پہلا حملہ کر دیا،امجد حسین ایڈووکیٹ

گلگت (پ۔ر) قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کٹھ پتلی راج نے استور اور دیامر کے سیاحتی مقامات پر پہلا حملہ کر دیا۔گلگت بلتستان کے مستقبل کے سیاحتی مراکز پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ عوام کو مزید محکوم اور پسماندہ رکھنے کی سازش ہے۔ زمینوں پر قبضے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کے عوام اپنی زمینوں پر کرایہ دار ہوں گے۔ راما، فیری میڈو، روپل، منی مرگِ، دیوسائی، قمری، میر ملک، نانگا پربت اور ہمالیہ نیشنل پارک کے نام پر عوامی چراگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف اور سہولت کاروں کو ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لئے مسلط کیا گیا ہے۔ وفاق میں پیٹرولیم، آٹا، چینی اور مہنگائی مافیاز کی سرپرستی کرنے والے گلگت بلتستان میں قبضہ مافیا بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارک قرار دینے کے بعد ان تمام علاقوں پر محکمہ جنگلات گلگت بلتستان اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرے گا ان تمام علاقوں میں گھاس چرائی، ہینزم سوختنی، کاشتکاری اور تعمیرات پر پابندی عائد ہوگی جبکہ گلگت بلتستان 28000 مربع کلومیٹر میٹر میں سے صرف دو فیصد رقبہ زیر کاشت ہے۔ ان کا مذید کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام مطلوبہ وسائل کی عدم دستیابی اور کالے قوانین کے ناجائز نفاذ کی وجہ اپنی بنجر زمینوں کو زیر کاشت لانے اور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ستم ظرفی کا یہ عالم ہے کہ بنجر زمینوں کو خالصہ سرکار کے نام پر آباد کاری اور کاشت کاری کرنے سے روکا جارہا ہے۔ چراگاہوں کو نیشنل پارک کے نام پر فوائد حاصل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ محض مقامی باشندہ ہونے کی بناد پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے سے روکا جارہا ہے۔ معدنیات اور قیمتی پتھروں کو ریاست اور حکومت کی ملکیت قرار دیکر عوام کو تصرف سے روکا جارہا ہے۔ جنگلات پر ایف سی تعینات کر کے مفاد حاصل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے قوانین راتوں رات نافذ ہوتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان عوام کو سہولیات فراہم کرنے والے قوانین کے نفاذ کے لئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ استور کے آدھے سے زیادہ رقبے پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان مستقبل میں سیاحتی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہوگا اور ان علاقوں سے اربوں روپے کی سالہ آمدنی ہوگی مگر عوام کو مزید پسماندہ اور محکوم رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت اہم ترین سیاحتی مقامات پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ جمایا جارہا ہے۔ نیشنل پارک بننے کے بعد ان علاقوں کے عوام سیاحتی مقامات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے۔ اسطرح کے ظالمانہ اقدامات گلگت بلتستان کے ستر سالہ محروم عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ عبوری صوبے کا خواب دکھانے والوں نے عوام کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے۔ تحریک انصاف اور سہولت کاروں کو جس مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لئے مسلط کیا گیا تھا عملی طور پر اسکی تکمیل کے لئے شروعات کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے حقِ ملکیت کی جو تحریک شروع کی تھی وہ دراصل گلگت بلتستان کے عوام کی بقا کی ضمانت ہے۔