31

تشویشناک صورتحال کے تقاضے

 وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں تشویشناک حالت کا شکار کورونا مریضوں کی تعداد وبا کی شروعات سے اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا کے ساڑھے تین ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک تھی جو کہ کورونا کی شروعات سے اب تک بلند ترین سطح پر ہے۔گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا کے مزید 5020مریض سامنے آئے ہیں جب کہ اکیاسی افراد اس وبا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔اس خطرناک صورتحال کے باوجود لوگ ابھی بھی اس بیماری کو مذاق سمجھ رہے ہیں کہا جاتا ہے کہ کورونا کچھ بھی نہیں ۔کراچی کے تاجروں نے شہر میں ریلی نکالنے اور وزیراعلی ہائوس پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ کراچی میں تاجر تنظیموں کے عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھرنے کا اعلان کیا۔تاجر رہنمائوں نے کہا کہ جمعہ کی رات کو ہمیں مختلف اداروںکی جانب سے تنگ کیا گیا مجبور ہوکر اعلان کررہے ہیں، وزیراعلی ہائوس پردھرنادیں گے، احتجاج کریں گے اور وزیراعلی ہائوس کا گھیرائو کیاجائے گا۔تاجررہنمائوں کا کہنا تھا کہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وزریراعلی ہائوس پردھرنا دیں گے، شہر قائد کی تاجر برادری نے ہفتے میں دو دن مارکیٹیں بند کرنے سے انکار کرتے ہوئے نئی شرط عائد کی تھی۔آل کراچی تاجر الائنس کے تاجر رہنمائوں نے ہفتے میں دو دن کاروبار بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو بقیہ پانچ دن چوبیس گھنٹے کاروبار کھولنے سے مشروط کیا ہے۔انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر دکانیں رات آٹھ بجے بند کروانی ہیں تو پھر ہفتے میں ایک تعطیل ہوگی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے لیکن پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ لاہور کے اسپتالوں میں صورت حال کنٹرول میں ہے چالیس فیصد بستر  اورانچاس وینٹی لیٹر دستیاب ہیں، لوگ اسپتال جانے سے پہلے ریسکیو 1122کو اطلاع دیں۔لاہور میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا حکم ڈاکٹر یاسمین راشدکا کہنا تھا کہ کورونا کیسزمیں اضافہ ہورہا ہے،اسپتالوں میں بیڈزکی تعداد بڑھائی گئی ہے، جن علاقوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے وہاں لاک ڈائون کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ صوبے میں ہرقسم کے اجتماعات پرپابندی عائد کی گئی ہے،پنجاب میں گزشتہ روز چھبیس ہزار لوگوں کو کورونا ویکسن لگائی گئی ہے۔صوبہ پنجاب کورونا ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سزائیں سخت کرنے کا حکم دے دیا۔کمشنر لاہور کے مطابق کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کا کاروبار گیارہ اپریل تک بند کر دیا جائے گا۔  ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بند ہونے والے کو لاک ڈان ختم ہونے تک ہرگز ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔محمد عثمان کا کہنا تھاکہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اسپتالوں میں رش بڑھ رہا ہے، ایس او پیز پر سنجیدگی سے عمل نہ ہوا تو حالات بدترین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔پاکستان میں کورونا کے آغاز کے بعد سے انتہائی نگہداشت میں مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔پاکستان میں کورونا سے متاثرہ تین ہزار پانچ سو اڑسٹھ مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں، کورونا کے آغاز کے بعد انتہائی نگہداشت میں یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ مہربانی کریں اور  احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ایس او پیز کے نفاذ کی کوششوں میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ پاکستان میں کورونا کے مویضوں کی تعداد چھ لاکھ ستاسی ہزار سے زائد اور ہلاکتیں14778تک پہنچ گئی ہیں جبکہ ملک میں فعال مریضوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔گزشتہ روزکورونا سے مزید اکیاسی افراد انتقال کر گئے اورپانچ ہزارسے زائد کیسز بھی رپورٹ ہوئے ۔ ملک میں گزشتہ گزشتہ گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح نوفیصد رہی۔ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو روز بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔این سی او سی کے مطابق بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو روز، ہفتہ اور اتوار، بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ مذکورہ فیصلے کا اطلاق دس اپریل سے پچیس اپریل تک ہو گا اور اس فیصلے کا اطلاق مال بردار، ادویات اور دوسری ایمرجنسی سروسز کی ترسیل پر نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرینیں سترفیصد مسافروں کے ساتھ فعال رہیں گی۔گزشتہ برس بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی تھی جس کی وجہ سے کسی حد تک وائرس کنٹرول ہوگیا۔وزیراعلی سندھ نے تجویز دی کہ ٹرانسپورٹ دوہفتوں کے لیے بند کی جائے جس سے لوگوں کی نقل حمل رکے گی۔حکومتِ سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب نے کہا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر کے خطرات پورے ملک میں دیکھے جارہے ہیں بالخصوص پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں کورونا مثبت آنے کی شرح تشویشناک ہے، جنوبی پاکستان میں اب تک کورونا وائرس شمالی پاکستان کی طرح نہیں پھیلا ہے اس لیے وفاقی حکومت سے گزارش کی ہے کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کی جائے۔عالمی وبا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر کئی علاقوں میں دوبارہ لاک ڈائون اور اسمارٹ لاک ڈائون لگایا گیا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار بھی محدود کردیے گئے ہیں اس کے علاوہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی جزوی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔حیرت ہے کہ ہم اس بیماری کی ویکسین بھی تیار نہیں کر سکے کیونکہ ایک بھی بائیو ٹیکنالوجی پلانٹ نہیں لگایا جا سکا، کورونا دراصل تیسری عالمی جنگ ہے کیونکہ اس سے اب تک پینتیس لاکھ اموات ہوچکی ہیں جو کسی عالمی جنگ میں نہیں ہوئی، آئندہ برسوں میں بھی بیکٹیریا اور وائرس سے لاکھوں اموات ہونے کا خدشہ ہے۔لہذا اب ممالک، اداروں اور بزنس چیمبرز کو اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا، ہتھیار بنانے کے بجائے شعبہ صحت پر زیادہ خرچ کرنا ہوگا، کورونا کا حل ویکسین اور احتیاط ہے، جب تک ساڑھے پندرہ کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین نہیں لگائی جاتی تب تک اس کے پھیلنے کا خطرہ رہے گا لہذا ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، شعبہ صحت دنیا میں سب سے زیادہ پیسہ کمانے والا شعبہ ہے جسے اکیڈیمیا انڈسٹری شراکت سے مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔کورونا کی وجہ سے جہاں انڈسٹری کو نقصان ہوا وہیں نئے مواقع بھی ملے، سمارٹ لاک ڈائون میں ہماری انڈسٹری چلتی رہی جس سے دنیا کا رجحان ہماری طرف ہوگیا، برآمدات بڑھی اور مقامی صنعت کو بھی فروغ ملا، بزنس کمیونٹی تعلیمی اداروں کی تحقیق پر کمرشل بنیادوں پر سرمایہ کاری کرنے کیلیے تیار ہے۔ بھارت کی ایک فیکٹری روزانہ پینتیس لاکھ کورونا ویکسین ڈوز تیار کر رہی ہے،کورونا وائرس اپنے پہلے دن سے لے کر اب تک کسی بھی ملک سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ۔اس کے بڑھنے کی دوسائنسی وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ اس نے اپنی ساکھ کو تیزی دے بدلا ہے اور دوسری یہ کہ اس وائرس پر موجود کانٹوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔اب بھی ایک چینی ویکسین کا ٹرائل جاری ہے، یہ کمپنی پاکستان میں انڈسٹری لانے کیلئے تیار ہے جس سے یقینا بہتری آئے گی۔ حکومت ویکسین امپورٹ کر کے  لوگوں کو لگا رہی ہے مگر تمام لوگوں کو ویکسین لگانا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔گزشتہ لاک ڈائون میں بزنس انڈسٹری پریشان ہوگئی، بے شمار کاروبار متاثر ہوئے مگر اس میں بہت ساری انڈسٹری کو فائدہ بھی ہوا، جہاں دنیا بھر کی انڈسٹری بند ہوگئی وہیں سمارٹ لاک ڈائون کی وجہ سے پاکستان کی انڈسٹری چلتی رہی، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا رجحان ہماری طرف ہوا، انہوں نے کہا ہمیں تنقید سے نکل کر تعمیر کی طرف جانا چاہیے۔ سرکاری اسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے بہترین سہولیات ہیں، ہمارے لوگ قابل اور ذہین ہیں، یہاں ماسک، سینی ٹائزرز، پی پی ای کٹس، وینٹی لیٹرز بنائے گئے، کورونا خطرناک ہے، کاروباری طبقے کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے۔نہ جانے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں کہ فی الحال انہیں احتیاطی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے جب روٹین کی لائف شروع ہو جائے گی اور یہ موذی مرض ختم ہو جائے گا تو پھر سے اپنے معمولات پر آجائیں لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا ہر طرف بے احتیاطی کا سلسلہ جاری ہے جس سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔