166

تعلیمی جرگے:افواج پاکستان کا مستحسن اقدام

حلیم فیاضی 

یہ بات توزبان زدعام ہے کہ پاک فوج ہماری نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے ۔ بلاشبہ آج ہم اپنے گھروں میں چین کی نیند سورہے ہیں اور آزادی کی نعمتوں سے مستفید ہورہے ہیں تو یہ ان جری جوانوں کی عظیم قربانیوں کی مرہون منت ہے جو ہر وقت موت کو مٹھی میں لئے منفی 50 ڈگری سردی میں فلک شگاف پہاڑوں پہ ہماری حفاظت کیلئے ہمہ تن مستعد چوکس وچوکنا ہیں ۔  دنیا کی بلند ترین محاذ جنگ سیاچن کی برفیلی اور پرخطر چوٹیاں ہوں، کارگل لداخ اور دراس کے پہاڑوں پہ جنگی مورچے ہوں، کشمیر کے گھنے جنگلوں میں زمین کے ایک ایک چپے اور ایک ایک فرد کی جان مال عزت آبرو کی تحفظ کی ذمہ داری ہو، سیالکوٹ لاہور اور قصور کے سرحدی محاذوں میں ازلی بدبخت دشمن بھارتی ٹڈی دل سورمائوں کو چھٹی کادودھ یاد دلانے سمیت ملک کے طول وعرض اور حدوداربعہ کے اندر اور باہر ملک دشمنوں کے ناپاک اور مذموم مقاصد وعزائم کو خاک میں ملانا پاک فوج کا ایک جوان جوان ایک ایک آفیسر اپنا مقصد زندگی اور جزوایمان سمجھتا ہے ۔ صرف اس پر بس نہیں بھارت کے علاوہ بھی دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ وقار،خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت جس ادارے کی باعث ہے تو پاک فوج ہے ۔ ملک کے نظریاتی سرحدوں کی حفاظت تو افواج پاکستان کی مٹھی میں پڑی ہی ہے ۔اس عظیم جہاد اور فرض منصبی کی بطریق احسن انجام دہی کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جہاں کہیں بھی کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں مصائب مشکلات اور مسائل میں گھرے مجبور لوگوں کی مدد کیلئے پاک فوج کے سپاہی انسانی روپ میں فرشتے بن کر سامنے آتے ہیں اور اپنی جان کی پروا کئے بغیر خود کو مصیبت میں ڈال کر مصیبت زدہ لوگوں کو راحت فراہم کرتے ہیں ۔ بیک وقت ملک کے طول وعرض میں عقابی نظروں سے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث دہشتگردوں کا قلع قمع کرنا اور پائیدار مستقل قیام امن کی بحالی افواج پاکستان کا نصب العین ہے ۔ آج دنیابھر میں اپنی بیمثال کارکردگی کے باعث قلیل وسائل کے باوجود جس فوج نے اپنا لوہا منواکر دنیا کی بہترین افواج کے صف میں خود کو لا کھڑا کرکے پاکستانیوں کاسر فخر سے بلند کیا ہے تو وہ پاک فوج ہے ۔ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کیلئے ہمہ وقت خاکی وردی میں ملبوس مسلح افواج کا ایک ایک جوان ایک ایک آفیسر صدہا مبارکباد اور خراج تحسین کا مستحق ہے ۔ افواج پاکستان کا دفاع وطن کیساتھ ساتھ جو اہم ترین قابل ستائش وقابل تقلید کارنامہ ہے وہ پاک فوج کا ذیلی ادارہ آرمی ایجوکیشن کور ہے جو نسل نو کو جدید اور معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے شب وروز مصروف عمل ہے ۔ ملک بھر میں موجود آرمی پبلک سکولز، کیڈٹ کالجز اور یونیورسٹیز بیک وقت اعلی معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ یہ امر انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ پاک فوج پسماندہ علاقوں کی تعلیمی حالت پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ بالعموم گلگت بلتستان اور بالخصوص ضلع دیامر جو تعلیمی لحاظ سے پورے خطے میں سب سے پسماندہ ہے ۔ میل فیمیل شرح تعلیم ناقابل بیان ہے ۔جوکہ لمحہ فکریہ اور افسوسناک امر ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ضلع دیامر کل کے ترقی یافتہ خوشحال وخود کفیل پاکستان کا میزبان ہے ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال اس ضلع میں پاکستان کی معاشی آبی اور توانائی بحرانوں کے خاتمے کیلئے ناگزیر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی اہمیت کا حامل منصوبہ دیامربھاشاڈیم بننے جارہاہے ۔ سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ بھی اسی ضلع سے ہوکہ گزرتا ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس ضلع کے ہر بچہ بچی کو زیورتعلیم سے، آراستہ کیاجائے ۔ تاکہ کل کلاں یہ عظیم منصوبے جہالت اور پسماندگی کی بھینٹ چڑھ کرفائدے کے بجائے کسی بڑے نقصان کا باعث نہ بنیں ۔ اس حقیقت کا جس شخصیت نے سب سے پہلے ادراک کیا وہ افواج پاکستان کا ایک پروفیشنل سولجر سابق سپہ سالار گلگت بلتستان جناب کمانڈر FCNA میجر جنرل ڈاکٹر احسان محمودخان صاحب ہیں ۔ انہوں نے صرف زبانی کلامی دعوئوں وعدئوں اور اعلانات پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ چلاس سمیت ضلع بھر کے ہر ہر نالے  میں متعدد بار بنفس نفیس تشریف لے گئے ۔ وہاں تعلیمی جرگوں کا انعقاد کرکے مقامی لوگوں سے علاقے کی تعلیمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ساتھ ساتھ جی بی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کو بھی آن بورڈ لیا ۔ پہلے مرحلے میں انتہائی پسماندہ ترین علاقوں سے تقریبا 200 بچوں کو ملک بھر کے مختلف آرمی سکولز میں مفت داخل کروایا ۔ جب تک وہ گلگت بلتستان میں بحیثیت کمانڈر FCNA رہے دیامر کو سب سے زیادہ توجہ اور ترجیح دی ۔ ہرموقع پہ تسلسل کیساتھ چلاس تشریف لاتے اور خصوصی افراد کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ زندگی سے منسلک لوگوں کو اپنائیت اور خلوص کا احساس دلاتا ۔ موصوف کی لازوال خدمات احسانات اور توجہات کے باعث دیامر کا ہر فرد ان کودل سے محسن دیامر سمجھتا اور مانتا ہے ۔۔یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ موجودہ کمانڈر FCNA میجرجنرل جواد احمد صاحب نے سابق کمانڈر اور محسن دیامر کی خدمات واحسانات کے تسلسل کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ گزشتہ ماہ  گوہر آباد تانگیر اور داریل میں تعلیمی جرگہ کے عنوان سے منعقدہ عوامی اجتماعات اور عملی اقدامات نئے کمانڈر FCNA صاحب کی دیامر سے دلی لگائو کا بین ثبوت ہے ۔ حال ہی میں ضلع بھر میں  جماعت ششم سے نہم تک پاک آرمی کے زیرانتظام تعیلمی اداروں میں مفت معیاری تعلیم کیلئے  طلبا سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔ درخواست فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ15 جنوری رکھی گئی تھی ۔ تاہم طلبا کی بڑھتی دلچسپی دیکھ تاریخ میں پانچ دن کی توسیع کرکے 20 جنوری کی تاریخ رکھی گئی ہے ۔ اب تک 5000 سے زائد درخواستیں جمع ہوچکی ہیں ۔ اس کے بعد مقررہ تاریخوں کو ٹیسٹ ہونگے ۔ امید واثق ہے کہ افواج پاکستان کی دیامر سے پسماندگی کے خاتمے کیلئے جاری اقدامات سے دیامر سے نہ صرف پسماندگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ مستقبل قریب میں دیامر پاکستان میں تعلیمی لحاظ سے ایک مثالی ضلع بنے گا اور حقیقی معنوں میں نئے خوشحال ترقی یافتہ خود کفیل اور بحرانوں سے پاک پاکستان کا حقیقی میزبانی کا حق ادا کرے گا۔