36

جائیں تو جائیں کہاں

نیپرا نے بجلی کی قیمت ایک روپے چھ پیسے فی یونٹ مہنگی کرنیکی منظوری دے دی،صارفین کوساڑھے آٹھ ارب روپے تک اضافی ادا کرنا ہوں گے نوٹیفکیشن کے مطابق حالیہ اضافے کی منظوری ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں دی گئی،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق جنوری کے بلوںپرہوگا ۔نیپرا نوٹیفکیشن کے مطابق اکتوبر کیلئے 29 پیسے اورنومبرکیلئے 76 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ،بجلی کے نرخوں میں اضافے سے صارفین پر8 ارب 40 کروڑروپے کا اضافی بوجھ پڑیگا ۔کے الیکٹرک اورلائف لائن صارفین کے علاوہ بجلی کی تمام تقسیم کارکمپنیوں کے صارفین پراطلاق ہوگا ۔پاکستان پیپلزپارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا ، سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کا کہنا ہے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی نا اہلی اور ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈالنا بند کرے۔ بجلی کے بریک ڈائون کے بعد بجلی مہنگی کرنا قابل مذمت ہے، بجلی کے بدترین بریک ڈائون کے ذمہ داران کخلا ف کارروائی ہوتی تو آج بجلی مہنگی نہ ہوتی،وفاقی حکومت بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لے۔ پیپلزپارٹی بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلے کو مسترد کرتی ہے، حکومت نے عوام دشمن فیصلہ کر کے عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے، قیمتوں کا براہ راست اثر غریب طقبے پر پڑے گا۔ ہر دوسرے تیسرے بجلی کے بل کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ہم چونکہ بجلی کا استعمال کم کرتے ہیں اس کے باوجود اتنے بھاری رقم کے بل موصول ہونا صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔ جبکہ مہنگائی پہلے سے اتنی زیادہ ہے کہ سبزیاں آٹا اور چینی کا خریدنا کم تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدور کے لئے انتہائی مشکل ہے۔ اعلی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے افسران اور وزرا' راتوں رات بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرادیتے ہیں ' اقتدار میں آنے کے بعد حکومت مشکل فیصلوں پر عوام نے بخوشی قربانیاں دی ہیں مگر بجلی گیس کے نرخوں اور بے روزگاری میں مسلسل اضافے نے اب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے، حکومت بیورو کریسی کی من مانیوں کے ہاتھوں بے بس ہے ۔  یہ پہلے سے خودکشیوں پر مجبور غریب عوام سے ظلم کے مترادف ہے ۔حکومت نیپرا کی من مانیوں کو لگام دینے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے ،تاکہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے عوام کو کچھ ریلیف ملنا ممکن ہو سکے اس وقت شدید سیاسی افراتفری جاری ہے لیکن اس سارے معاملے میں عوام کی سہولت کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ حکمران جماعت کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں جو زیادہ تر غیر عوامی ہیں لہذا عوام انہیں ناپسند کرنے لگے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ حکمرانوں کو اس امر کا احساس نہیں وہ آنکھیں بند کیئے مزیدعوام مخالف پالیسیاں بناتے چلے جا رہے ہیں،مہنگائی کے طوفان نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، آٹا، چینی اور دیگر اشیا خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں کہا جاتا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں وہ مجبور ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائے کیونکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتی ہے جو انہیں اپنی شرائط پر من و عن عمل درآمد کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عوام مر رہے ہیں یا جی رہے ہیں،تبدیلی سرکار بھول چکی ہے کہ اگر عوام کو پریشان کیا جائے یا ان پر طاقت سے زائد ٹیکس عائد کیئے جائے تو عوام جینے کی راہ سے دور ہوجاتے ہیں اور ان میں نفرت کا طوفان امڈ آتا ہے تو کیا یہ بات ملک کے لیے ٹھیک ہوتی ہے ہرگز نہیں لہذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ اچھے دانا قسم کے عوام دوست وزیروں مشیروں کو آگے لائے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو بتائیں کہ عوام ان شرائط کے متحمل نہیں ان میں اب مزید سختی سہنے کی برداشت نہیں وہ پچھلے بیس برسوں سے کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے چلے آ رہے ہیں اس کا ثبوت ملک بھر میں اعضا کا فروخت ہونا ہے جسم فروشی کا بڑھنا ہے نوجوانوں کی حکمت کا متاثر ہونا ہے اور تعلیم کے میدان کا سکڑ جانا ہے لہذا وہ اپنے پروگرام میں لچک پیدا کرے غریب ترقی پذیر ممالک کو کچھ سہولتیں دینے کی طرف آئے لیکن جب سے موجودہ حکومت بر سراقتدار آئی ہے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیںذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے غریب عوام پہلے سے ہی بجلی اور گیس کے زائد بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے دن اضافے سے تنگ آچکے تھے کہ حکومت نے آٹااور چینی کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کردیا جس سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی حکومت کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود مہنگائی کیخلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور ضروریات زندگی تقریبا عوام کی پہنچ دور ہوگئی ہیں پھرتبدیلی سرکار نے انتظامیہ کے بر عکس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کوالرٹ کرنے کا فیصلہ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ کمزور ہوچکی ہے اور بیو رو کریسی کے سامنے موجودہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے دوسری جانب آٹا اور چینی کی قلت نے بھی عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔پچھلے دور حکومت اور موجودہ حکومت میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے جو یقینا موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔موجودہ دور میں غریب اور کمزور طبقہ ایک وقت کی روٹی کھانے پر مجبور ہو چکا ہے مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔غریب اور محنت کش طبقے کے وسائل انتہائی قلیل جبکہ مسائل پہاڑ کے برابر ہیں مہنگائی کے اس بدترین دور میں کمزورطبقے کے بچے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔آٹا، چینی، دالوں،گھی، گڑ، سبزیوں، گوشت،انڈوں اور دیگر اشیا و خورد ونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ لمحہ فکریہ ہے  جس  سے حکومت کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ظاہر ہورہی ہے موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی کوئی مربوط پالیسی ہے حکومت کے اپنے وزرا اور کارندے بھی مہنگائی سے پریشان نظر آرہے ہیں اور کابینہ اجلاس میں بار بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ارکان عوام کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور کابینہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں تو ٹائیگر فورس کے ذریعے مہنگائی پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ 2020 میں ملک میں مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ دیکھنے میں آئی۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے، باوجود اس کے کہ یہاں کاشتکاری پر توجہ دے کر چیزوں کو سستا کیا جاتا، مگر گندم و چینی کو دوسرے ممالک سے منگوائی جارہی ہے۔ امیر طبقہ خوراک پر اپنی آمدنی کا 20 یا 30 فیصد حصہ خرچ کرتا ہے مگر ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا آدمی اپنی آمدنی کا 70 سے 80 فیصد تک خرچ کرتا ہے۔اس ساری صورتحال میں اس وقت بھی حکومتی پلاننگ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تین طرح کے فوری اقدام کرنے چاہئیں۔ ایک یہ کہ حکومت کس طرح عام شہریوں کی اقتصادی قوت کو بڑھائے تاکہ عوام کے پاس مالی وسائل زیادہ ہوں۔دوم پاکستان میں گھریلو صنعت کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ فوری طور پر بے روزگاری کو قابو میں لایا جاسکے اور معیشت کو بھی تقویت ملے۔ سوم جو سب سے اہم اور بڑی وجہ شرح سود میں کمی لائی جاسکے۔ کیونکہ صنعتی طبقے پر قرضے اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ کاروباری طبقہ اپنی فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہے۔مہنگائی کے اثرات نے جہاں صنعتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں، وہیں لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جمہوریت کا حسن تو یہ ہے کہ وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے مگر پاکستان میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ غیر منصفانہ تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، بے چینی، مایوسی، افراتفری پھیلی ہے اور بے روزگاری کے باعث چوری، قتل، دھوکا دہی، ریپ کیسز اور دیگر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اور ان سارے مسائل کی ایک ہی جڑ مہنگائی اور غربت ہے۔